Home Forums Non Siasi ریپ کی وجہ- طاقت کا اظہاریا بھٹکی ہوئی جنسیت؟ ریپ کی وجہ- طاقت کا اظہاریا بھٹکی ہوئی جنسیت؟

#40
JMP
Participant
Offline
  • Professional
  • Threads: 293
  • Posts: 4639
  • Total Posts: 4932
  • Join Date:
    7 Jan, 2017

Re: ریپ کی وجہ- طاقت کا اظہاریا بھٹکی ہوئی جنسیت؟

دراصل جو کچھ عائشہ کے ساتھ ہوا اس سے ثابت ہوتا ہے یہ معاشرہ اس ملک کے لوگ اس قدر گھٹیا اور بازاری سوچ رکھتے ہیں کہ یہ کسی بھی عورت کو دیکھ کر صرف اور صرف ایک ہی خیال ذہن میں لا سکتے ہیں کہ یہ کس کس کے ساتھ سوئی ہو گی۔ اس نے فلائنگ کس کی ہے تو وہ بد چلن ہے اور وہ ہمیں سیکس کے لئے بلا رہی ہے لہٰذا اس کے کپڑے پھاڑ دو اور ننگا کر دو دوسری جانب جب یہ ایک ایسی کامیاب اور پر اعتماد عورت کو دیکھتے ہیں جو ان کی پہنچ سے باہر ہے، اس پر بے بنیاد بہتان لگانا ان کا شیوہ ہے، یہ اسی وقت اس کو گشتی کہہ دیتے ہیں، اس کو زانیہ اور فاحشہ کے القابات سے نوازنے لگتے ہیں۔ یہ معاشرے میں ہر ایک آدمی کی سوچ ہے

محترم انسیف صاحب

میرے خیال میں مرد اور عورت کے تعلق اور موضوع پر دو عوامل کار فرما ہو سکتے ہیں

فطری اور غیر فطری

فطرت کے حوالے سے مرد اور عورت کے درمیان کشش اور ایک دوسرے کی خواہش پائی جاتی ہے. مرد کو شاید اس خواہش پر قابو کرنے کی اتنی اہلیت نہیں ہے جتنی عورت کو مگر عورت کو بھی مرد کی خواہش اتنی ہی ہوتی ہے یا شاید زیادہ جتنی مرد کو ہوتی ہے

غیر فطری حوالے سے معاشرہ ، سماج اور انفرادی سوچ اور تجربہ اور کمزوری یا طاقت اس فطری کشش پر اثر انداز ہوتے ہیں . ان معاشرتی وجوہات کی بنا پر کہیں عورت کا ہر عمل مرد کی مرضی سے جڑا ہوتا ہے اور کہیں عورت کو اپنی زندگی اور اپنے اعمال کی پوری آزادی ہوتی ہے . کہیں عورت مرد کی عزت کے حوالے سے پہچانی جاتی ہے اور کہیں مرد اور عورت کو برابر حقوق اور آزادی حاصل ہوتی ہے . کہیں معاشرہ اس کو قبول نہیں کرتا کے عورت کسی سے جسمانی یا اور قلبی تعلق رکھے اور کہیں اس کو برا نہیں مانا جاتا . کہیں عورت کے تنگ یا چھوٹے لباس کو برا مانا جاتا ہے اور کہیں اس پر کوئی کچھ نہیں کہتا . کہیں معاشرہ عورت کے اعمال کو فحاشی اور پاکیزگی کے ترازو میں روکتا کے اور کہیں معاشرہ اس معاملے میں کافی لچک رکھتا ہے . کہیں معاشرہ گھٹن کا ماحول پیدا کر کے مرد کی عورت کی طلب میں اضافہ کا باعث بنتا ہے اور کہیں اس طلب میں کمی کا سبب

ہم جس معاشرہ میں پلے بڑھے ہیں یا رہتے ہیں اس معاشرہ کا اثر ہمارے اعمال سوچ اور سمجھ میں نظر آتا ہے . اپنی ماں بہن بیوی بیٹی یا کسی اور خاتون رشتہ دار کے حوالے سے اور دوسری غیر رشتہ دار عورت کے حوالے سے ہماری سوچ میں جو فرق ہوتا ہے اس کا نمونہ اکثر ہمارے اپنے اور دوسروں میں نظر آتا ہے

اور ہم دوسروں کے اعمال پر زیادہ توجہ دیتے ہیں مگر خود کے لئے سوچنا مشکل ہے

ان خاتون کے حوالے سے بھی ان کے عمل پر ہمارا ردعمل بھی دیکھ لیں .

×
arrow_upward DanishGardi