Home Forums Siasi Discussion پاکستان فوڈ ایکسپورٹر سے امپورٹر تک پاکستان فوڈ ایکسپورٹر سے امپورٹر تک

#5
shahidabassi
Participant
Offline
  • Expert
  • Threads: 33
  • Posts: 7324
  • Total Posts: 7357
  • Join Date:
    5 Apr, 2017

Re: پاکستان فوڈ ایکسپورٹر سے امپورٹر تک

شاہد عباسی صاحب، ایک قابل فکر تجزیہ دینے کا شکریہ،،،یہ بات درست ہے کہ اشتیاق بیگ کی ن لیگ میں شمولیت ہوچکی ہے۔ پھر بھی اس کے پوائینٹس اچھے ہیں اگر ان پر ہنگامی بنیادوں پر عمل کیا جاے تو اگلے سال ہی بہتری پیدا ہوجاے گی کیونکہ ابھی تک ہماری زرعی زمین موجود ہے اور خشک سالی بھی سواے تھر کے کہیں نہیں ہے۔ ایک بات جو آپ نے کی ہے کہ آبادی بڑھ رہی ہے اور گرین ایریاز کم ہوتے جارہے ہیں۔ اس پر مجھے خیال آیا کہ اسرائیل اور ڈنمارک کا ایریا بہت کم ہے۔ (گرین لینڈ بہت بڑا جزیرہ ہے مگر وہاں برف ہے) یہ دونوں ملک دنیا کے بڑے فوڈ ایکسپورٹر ہیں۔ جتنی پیداوار ہم ایک مربع یا پچیس ایکڑ میں لیتے ہیں یہ اتنی ہی پیداوار ایک ایکڑ میں لیتے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم پرانے طریقوں سے ابھی تک کھیتی باڑی کررہے ہیں اور دنیا بالکل جداگانہ طریقے آزما رہی ہے؟

آپ نے ڈنمارک اور اسرائیل کی گندم کی پراڈکشن کو زیادہ ہی بڑھا چڑھا دیا۔ ڈںمارک کی فی ایکڑ پراڈکشن پینسٹھ سے ستر من ہے اور اسرائیل کی اس سے آدھی۔ ہمارے ہاں بھی کچھ علاقوں میں ۵۰ من نکلتی ہے لیکن زیادہ تر علاقوں میں ۳۰ سے ۳۵ من تک ہی اوسط نکلتی ہے۔ ڈنمارک میں زیادہ پیداوار کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہاں صرف ایک فصل ہوتی ہے۔ یعنی آدھا سال زمین خالی پڑی رہتی ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ پیداوار بیلجئم میں ہے جہاں فی ایکڑ چھیاسی من گندم حاصل کی جاتی ہے۔ بحرحال ہماری زمین کا موازنہ انڈینز کے ساتھ کیا جانا چاہئیے ۔ مجموعی طور پر انڈیا اور پاکستان کی اوسط فی ایکڑ پیداوار برابر ہے یعنی ۳۰ من فی ایکڑ لیکن صرف انڈین پنجاب کی اوسط دیکھی جائے تو وہ ۳۸ من کے قریب ہے۔
ویسے ہماری فی ایکڑ پیداوار ترکی اور روس سے زیادہ ہے اور دنیا بھر کے ممالک کی لسٹ میں تقریبا درمیان میں ہے۔ تھوڑی بہت ٹیکنالوجی استعمال کی جائے تو ہم چار پانچ من زیادہ پیداوار لے سکتے ہیں۔
غور طلب بات یہ ہے کہ ہر سال پانچ ملین آبادی بڑھ رہی ہے۔ شہروں کے پھیلنے، موٹر ویز کے جال کے پھیلنے اور پانی کی کمی کی وجہ سے قابل کاشت زمین میں کمی ہو رہی ہے۔ اس لئے ہماری امید ڈیمز کے بننے سے جڑی ہوئی ہیں۔ ہمیں فوری طور پر بھاشا کے ساتھ ساتھ ایک اور بڑے ڈیم کی اشد ضرورت ہو گی۔

×
arrow_upward DanishGardi