Home Forums Siasi Discussion پاکستان فوڈ ایکسپورٹر سے امپورٹر تک پاکستان فوڈ ایکسپورٹر سے امپورٹر تک

#3
shahidabassi
Participant
Offline
  • Expert
  • Threads: 33
  • Posts: 7324
  • Total Posts: 7357
  • Join Date:
    5 Apr, 2017

Re: پاکستان فوڈ ایکسپورٹر سے امپورٹر تک

یہ ڈرامے باز اشتیاق بیگ کو اس بات پر دھچکہ کیوں لگا کہ حکومت نے کہا اس دفعہ پاکستان میں بمپر فصلیں ہوئیں ہیں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ اس سال گندم، گنے اور مکئی کی پیداوار نے پرانے سارے ریکارڈ توڑ دئیے ہیں لیکن کیا اس کا مطلب یہ لینا چاہئیے کہ یہ پیداوار ملکی ضروریات کے لئے کافی ہیں۔
بیگ صاحب کا خود ہی کہنا ہے کہ ۱۹۵۱ سے اب تک آبادی چھ گنا بڑھی ہے۔ تو کیا زرعی پیداوار بھی ۱۹۵۱ کے مقابلے میں چھ گنا ہو جانی چاہئیے تھی؟ نہی ایسا نہی ہے۔ قابلِ کاشت رقبہ اس عرصے میں اڑھائی گنا بڑھا ہے۔ اس لئے جیسے جیسے آبادی بڑھتی جائے گی ویسے ویسے ہی ریکارڈ فصلوں کے باوجود گرین شارٹیج کا سامنا رہے گا۔
پاکستان کے ماضی کے حکمرانوں نے اگر کوئی ڈیم بنائے ہوتے یا بیج پر ریسرچ کے نام پر پیسہ کھانے والوں کی بجائے اچھے زرعی ریسرچ کے شعبے بنائے ہوتے تو کم ازکم اتنی جلدی ہم فوڈ کے نیٹ امپورٹر نہ بنتے۔ موجودہ حکومت بھاشا اور مہمند کے ساتھ ساتھ سات آٹھ چھوٹے ڈیمز پر اپنی پوری قوت لگا رہی ہے جس سے امید پیدا ہوتی ہے کہ شاید ۲۰۲۸ تک ہم اپنے قابلِ کاشت رقبے میں ایک ملین ایکڑز کا اضافہ کر سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ چین کو سیڈ ریسرچ پر اینگیج کیا گیا ہے اوردودھ کی پراڈکشن ڈبل کرنے کے لئے چالیس ارب روپئیے کا سیمن اپمورٹ کیا جا رہا ہے جس سے ہونے والے فوائد دو سے چار سال کے عرصے میں نظر آنے شروع ہوجائیں گے۔ ایڈیبل آئل کے لئے زیتون کی افزائش پر بھی کافی کام ہوا ہے۔ لیکن ان سب اقدامات کے باوجود ہمارا سب سے بڑا دشمن آبادی کے بڑھنے کی شرح ہے۔
×
arrow_upward DanishGardi