Home Forums Islamic Corner نازیبا ویڈیو سکینڈل؛ تحقیقاتی افسر کے مفتی عزیز الرحمان سے متعلق اہم انکشافات نازیبا ویڈیو سکینڈل؛ تحقیقاتی افسر کے مفتی عزیز الرحمان سے متعلق اہم انکشافات

#30
Zaidi
Participant
Offline
  • Advanced
  • Threads: 19
  • Posts: 935
  • Total Posts: 954
  • Join Date:
    30 May, 2020
  • Location: دل کی بستی

Re: نازیبا ویڈیو سکینڈل؛ تحقیقاتی افسر کے مفتی عزیز الرحمان سے متعلق اہم انکشافات

موحترم زیدی صاحب بقول مذھب عورت مرد کو گناہ پر مائل کرتی ہے لہٰذا مرد کو نیچی نگاہ اور عورت کو پردہ کا حکم دیا گیا جو کہ غیر فطری عمل ہے …..قدرتی طور پر ہی مرد جسمانی طور پر جنسی خواہش رکھتا ہے، یہ اچھی بات ہے مگر جیسے ہی مرد میں کوئی جنسی خوائش بیدار ہوتی ہے تو جو مرد فل فور مٹھ یا خود لذتی سے اپنی خوائش کو ختم کر دیتاہے وہ سکون میں آ جاتا ہے اور جو مرد مذھب کی وجہ سے گناہ سمجھ کر اپنی جنسی خوائش کو پایا تکمیل تک نہیں پونچاتا وہ پھر مفتی عزیز بن جاتا ہے … اب اسلام کے قانون سب مفتیوں کے لئے ایک جیسے ہیں یہ سب مفتی جنسی مریض اسلام کے ان احکامات کی وجہ سے ہی بنتے ہیں … خود لذتی مٹھ مارنے میں کسی کو کوئی نقصان نہیں ہوتا البتہ اس عمل کو روکنے سے انسان مفتی بن جاتا ہے

یہاں پہ ایسے ٹوپک پوسٹ کرنے کا مقصد صرف مفتیوں جو مسجدوں سے شام تک پانچ وقت نماز بھی پڑھتے ہیں اور لوگوں کو الله رسول کی طرف بلاتے ہیں …. اگر وہ دن میں نماز کی جگہ پانچ کی بجاے دو وقت بھی خود لذتی کر لیا کریں تو بچے ان محفوظ ہو جایں گے .. خدا بھی خوش ہو گیا اور مخلوق بھی

جناب انسیف صاحب، آپکی دی گئ مذھبی تعریف کو تو منکس نے بہت پہلے دریافت کر لیا تھا ۔ پھر چینی اور ھندوؤں کی دی گئ مذھبی تعریف اور ستی کا مشہور طریقہ واردات دریافت ہوا تاکہ اس جنس بے توقیر کو اسکے موجودہ خاوند کے ھمراہ ہی زندہ جلادیا جائے تاکہ نہ رہے بانس اور نہ رہے بانسری ، نہ وہ فتنہ پیچھے رہ جائے گا اور نہ ہی دعوت گناہ کا اھتمام ہوگا ۔ اس حد تک تو آپ کے ذھن میں موجود “مذھبی” تعریف کا تو میں بھی اعتراف کرتا ہوں اور آپکی مسلسل مذھبی ڈیگریڈیشن کی کوششوں سے آگاہ ہوں ۔

اگر آپ نے تعصب کی موٹی عینک کو چند لمحوں کے لیے اتار کر میری سابقہ پوسٹ کو پڑھا ہوتا تو اس میں عرض کیا تھا کہ انسانی جبلت کے کے تقاضوں اور انسانی جنسی خواہش کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمارے دین نے ھر وہ احسن راستہ اختیار کیا ہے جس میں انسانی احترام اور تقدس اور رشتوں کی پاکیزگی کو برقرار رکھا جاسکے ۔

آپ جیسے بیزار مذھب اور بیزار دنیا جیسے قلمی مجاھد سے اسلام کے بارے میں گفتگو کرنا ایسے ہی ہے جیسے زیبرے کو گھوڑے کا پہناوا پہنانا ۔ قدرتی لائینیں بدلی نہیں جاسکتیں
آپ کو ایک طرف جنسی نوعیت کےمعملات میں سخت قانون سے شکایت ہے تو دوسری طرف مرد کی چار شادیوں کے اختیار پر برھمی ۔ یعنی کہتے ہیں کہ چٹ بھی میری اور پٹ بھی میری یا اسی قسم کی کوئ واھیات کہاوت ۔

×
arrow_upward DanishGardi