Home Forums Non Siasi ازدواجی تعلق ازدواجی تعلق

#47
Zaidi
Participant
Offline
  • Advanced
  • Threads: 19
  • Posts: 935
  • Total Posts: 954
  • Join Date:
    30 May, 2020
  • Location: دل کی بستی

Re: ازدواجی تعلق

Athar sahib نادان sahiba Zaidi sahib Believer12 sahib shahidabassi sahib

میں بہت معذرت خواہ ہوں کے میں نے ایک ایسا موضوع شروع کیا جو اس محفل کے معزز محترم ہستیوں کے معیار سے بہت گرا ہوا ہے

میرا مقصد کسی کو قائل کرنا نہ تھا نہ ہوتا ہے نہ ہوگا نہ کسی کے مذہبی عقائد کو شامل بحث کرنا نہ تھا نہ کسی کے معاشرتی اور سماجی حوالوں سے طرز زندگی پر کوئی تنقید کرنا تھا . میں یہ بھی نہیں چاہتا کے کوئی اپنی پسند اور نا پسند کی وجہ بیان کرے . ہر شخص کا حق ہے کہ وہ کسی بھی عمل بات شخص یا چیز کو پسند کرے یا نہ کرے

میں نے ناکام کوشش کی تھی کہ صاف صاف کہہ پاؤں کے اس موضوع پر گفتگو مذہب کے پیراۓ سے باہر رکھ کر ہی کرنی ہے مگر جن معزز محترم ہستیوں نے اس گرے ہوے موضوع پر راۓ دی انہوں نے مذہبی حوالہ جات کو ہی شامل گفتگو کیا . محترم شاہد صاحب نے ایک معاشی نکتہ کو وجہ بنا کر اس موضوع میں جدت ڈالی گو میں اپنی کم عقلی کی بنا پر انکا موقف صحیح طریقے سے سمجھ نہیں پایا ہوں اس لئے نہ کلی طور پر متفق ہوں نہ اختلاف کرتا ہوں

اسلام پر بات کرنا نہ میرا حق ہے نہ میں اس پر کوشش کرتا ہوں. اگر باقی الہامی مذاہب کو دیکھا جاۓ تو شاید ان میں بھی اس رشتہ کی ممانعت ہو مگر کافی الہامی مذاہب کے پیروکار اس قسم کے رشتوں میں بندھے نظر آتے ہیں. کافروں میں شاید اس رشتہ کو ممنوع قرا نہ دیا ہوا ہو مگر کافروں سے کیا بعید اور انکی کیا حثیت ہے . اور ویسے بھی ہمارے جیسے بہترین معاشروں میں مذہب پر پورے عمل کی وجہ سے ہی سب بہترین ہے تو یقینی طور پر اس قسم کی ممانعت سے دور رہنا ہی بہتر ہے معاشرے کے لئے

جس معاشرے میں میں رہتا ہوں اور شاید بہت سارے دوسرے بھی رہتے ہیں وہاں اس قسم کے رشتوں کے آداب بھی ہیں ، قیود بھی ہیں اور قانون بھی. نہ سر عام لاوارث بچے نظر آتے ہیں نہ ہر دوسرے روز ایک دوسرے کو چھوڑا جاتا ہے نہ ہی کوئی معاشی نقصان دوسرے فریق کو پہنچایا جاتا ہی. اکا دکاواقعات ہوتے ہوں گے مگر. مجموعی طور پر نہ حکومت نہ معاشرہ نہ عوام اس طرح کے رشتوں کا کوئی بوجھ اٹھاتے ہیں نہ اس وجہ سے معاشرے تنزل کی طرف مائل ہیں کیونکہ اگر ایسا ہوتسا تو ہم کہاں ان معاشروں کو اپنا مسکن بناتے

ہمارے معاشرے میں مرد کی سوچ اور اسکی مردانہ برتری کو سامنے رکھیں اور مردانہ عزت کا عورت کے ساتھ تعلق دیکھیں تو سمجھ آتا ہے کے یہ عمل کیوں پسند نہیں ہے اسکے علاوہ مجھے کوئی اور وجہ سمجھ نہیں آتی . جہاں جسم ہی پارسائی کا معیار ہو وہاں کچھ نہیں کہا جا سکتا

بات آگے بڑھانے کو بہت ساری باتیں ہیں مگر اب اس موضوع میں عورت کی تذلیل کی جانب کافی پیشرفت ہو چکی ہے اور شاید مزید ہو اور میرے لئے عورت کی تذلیل ممنوع ہے اس لئے میں بات مزید آگے نہیں بڑھاؤں گا آپ تم معزز محترم منفرد شرکاء محفل کا بہت شکریہ

shahidabassi sahib

شکریہ جے ایم پی صاحب ۔ آپ کا موضوع برا نہیں ہے لوگوں کا حسن کلام بہتر نہیں ہے ۔ کسی بھی حساس معاملہ پر لکھنا کافی مشقت کا کام ہے ۔ تنقید کرنا نہایت آسان ہے ، اپنی تنقید کو مثبت پیرائے میں تشکیل دینا مشکل کام ہے ۔ آپ کو معذرت کی ضرورت نہیں ہے بلکہ وہ اصحاب بشمول میرے اپنا طرز عمل تبدیل کریں جو جذباتی طوفان میں بہہ جاتے ہیں ۔

×
arrow_upward DanishGardi