Home Forums Non Siasi ازدواجی تعلق ازدواجی تعلق

#43
Anjaan
Participant
Offline
  • Professional
  • Threads: 47
  • Posts: 2192
  • Total Posts: 2239
  • Join Date:
    2 Mar, 2017
  • Location: Kala Shah kaku

Re: ازدواجی تعلق

unsafe محترم ان سیف صاحب بات دراصل یہ ہے کہ ایک عجب سا چلن چل رہا ہے معاشرے میں کہ اگر “میں غلط ہوں”تو اس غلطی کو تسلیم کرنے کے بجائے ایسی ایسی تاویلات پیش کروں گا کہ جو درست ہو وہ بھی شبہ میں پڑ جائے کہ آیا واقعی وہ درست ہے بھی یا نہیں ایسا ہی کچھ آپ جیسے افراد ہم جیسے سیدھی راہ والوں کے ساتھ کرتے ہیں اب اس کھلے ڈھکن اور بند ڈھکن کے اشارے کنائے ختم کرتے ہوئے سیدھی سیدھی بات کرتے ہیں آپ فرما رہے ہیں کہ معاشرے کے کچھ لوگ حیاء باختہ عورتوں کو پسند کرتے ہیں اور انہیں یہ میسر بھی ہیں تو اعتراض کیوں؟ تو جناب سیدھی سی بات ہے کہ اگر معاشرے میں رہنا ہے تو معاشرے کے قوانین و حدود قیود کو ماننا پڑے گا بالکل ایسے ہی جیسے آپ کے پاس کتنی ہی مہنگی اور سپر سییڈ گاڑی کیوں نہ ہو لیکن ہائی وے اور شہری حدود کے اندر ٹریفک کے قوانین کے مطابق ہی آپ اس گاڑی کو ڈرائیو کر سکتے ہیں سپر سانک سپیڈ گاڑی رکھ کر آپ کو ٹریفک قوانین روندنے کی اجازت نہیں مل سکتی۔ دوسری بات یہ کہ کیا آپ گارنٹی دیتے ہیں کہ فعل قبیح کے دلدادہ صرف حیاء باختہ عورتوں تک ہی محدود رہتے ہیں؟بالکل نہیں دے سکتے جب کسی کو حرام کا چسکا لگ جائے پھر وہ ہر طرح کا حرام کھانے پرراضی ہوجاتا ہے پھر اُس کو اپنا پرایا اچھا برا کچھ نظر نہیں آتا بالکل اسی طرح آپ مجھ سے گارنٹی مانگیں گے کہ کیا معاشرے میں شادی شدہ مرد وعورت حرام کاری نہیں کرتے ؟لیکن دونوں طرح کے افراد کے بارے میں آپ کا اور میرا نظریہ مختلف ہے میں شادی شادہ مرد و عورت کے غلط فعل کو بھی غلط ہی کہوں گا اور ان کو سزا وار تسلیم کروں گا لیکن آپ غلط کام کرنے والے کو درست مان رہے ہیں اور اس کے لیئےایک دوسرے سے متصادم تاویلات پیش کر رہے ہیں خود ہی کہہ رہے ہیں کہ انسان اور جانور میں بہت فرق ہے اور اگلی ہی لائن میں اس فرق کو ختم کر رہے ہیں کہ انسان، انسان کے درجے سے گرا اور غلاظت کھانے پر تل گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا یہ کھلا تضاد نہیں اگر انسان ہے “اگر واقعی انسان ہے،تو کبھی بھی وہ غلاظت کھانے پر راضی نہیں ہوگا”اور اگر وہ غلاظت کھانے پر راضی ہوگیا تو آپ مجھ سے اُسے انسان نہیں کہلوا سکیں گے۔وہ صرف اور صرف ہوس پرست جانور ہے اور جانور کو سزا دینا ہی درست قدم ہے (وہ چاہے مرد ہو یا عورت)۔ اگر ہم جنگلوں میں برہنہ بدن،بغیر کسی تہزیب و تمدن کے رہ رہے ہوتے تو ہم جیسے افراد آپ جیسے افراد پر کسی بھی قسم کی قدغن لگانے میں حق بجانب نہیں ہو سکتے تھے ۔لیکن ہم لوگ جانور نہیں ہیں ہم معاشرے میں رہتے ہیں ۔ہمیں جو تعلیمات دی گئی ہیں اُن کے مطابق ہم انسان اشرف المخلوقات ہیں جس کو ماننے میں آپ کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہوگا کہ قدرت نے اپنی سب سے بہترین تخلیق انسان کو بنایا ہے ۔تو بہترین تخلیق پر زمہ داریاں بھی زیادہ ہی ہونگی انہی زمہ داریوں میں سے اہم ترین زمہ داری اپنی نسل آگے بڑھانا اور نہ صرف آگے بڑھانا بلکہ جس تہزیب و تمدن کا میں نمائندہ ہوں اس تہزیب و تمدن کو مزید نکھارنے کے لیئے ضروری ہے کہ میں اپنی آنے والی نسل کی زمہ داری اُٹھاتے ہوئے اُسے معاشرے کا بہترین فرد بنانے کی کوشش کروں اور یہ کوشش بغیر نکاح اور بغیر اولاد حلال کے ممکن نہیں کہ کوئی بھی فرد کسی دوسرے کے نطفے کی ایسی پرورش نہیں کرسکتا جیسی کہ خود اپنی نسل کی ۔لہذا اپنی اہم ترین زمہ داری سے بری الزمہ ہونے کے لیئے اپنی ہوس کو کوئی بھی نام دیں لیکن جانوروں پرندوں کا نام لے کر اسے قدرتی امر کے کھاتے میں مت ڈالیں۔ میری ہی دوسری بات (دعوت گناہ)کو اپنی مرضی کے معانی پہنانا شروع کر دیئے تو محترم مکمل بات یہ ہے کہ وہ لوگ کئی کئی سال اپنی گھروں کو نہیں جاتے پیسہ بچانے کے لیئے زیادہ سے زیادہ دولت جمع کرنے کی ہوس میں اپنے جائز راستوں سے دور رہتے ہیں(جبکہ میرے مزہب میں تو روایات ہیں کہ کوئی فوجی حالت جنگ میں بھی اپنے گھر سے چھ ماہ سےزیادہ عرصہ دور نہ رہے)۔ تو اس زر پرستی کو مجبوری کے کھاتے میں ڈال کر ان کے فعل قبیح کو درست قرار نہیں دیا جاسکتا۔اور مجھے مولوی بننے کی ضروت نہیں بلکہ سیدھا سیدھا اُنہی کے طریقے کے مطابق احساس دلایا کہ تمھاری بیویوں کی بھی یہی خواہش ہوگی آپ جن کی حرام کاری کو مجبوری کے زمرے میں سمیٹ رہے ہیں اُس حرام کاری کے پیچھے دوہی چیزیں تھیں ایک زیادہ سے زیادہ کمانے کی ہوس دوسرے حرام کاری کی لت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ فرما رہے ہیں کہ اگر کسی فرد کو وہ چیز میسر نہیں تو وہ غلاظت کھانا شروع کر دیتا ہے بھائی جی کیوں وہ چیز میسر نہیں کبھی اس پر بھی غور کرنے کی کوشش کی ؟ کیونکہ ہم نے اپنی اپنی زر پرستیوں لالچوں،دنیاوی فائدوں کے چکر میں عورت یا مرد کے حصول کو مشکل سے مشکل تر بنا لیا ہے مزہب تو کہتا ہے کہ نکاح کو آسان کرو اور پھر اتنا آسان کرنے کا کہتا ہے کہ لڑکی کے گھر والوں پر بارات کا کسی قسم کا بوجھ ڈالنے تک سے منع کرتا ہے اگر آج ہر لڑکا ہوس زر سے نکل کر کسی بھی عام گھرانے کی لڑکی سے شادی کرلے اور اسی طرح ہر لڑکی کسی بی عام گھرانے کے فرد سے شادی پر راضی ہوجائے تو کیا وہ “نکاح جیسے آسان”حلال کے زریعے زنا جیسے حرام کام سے بچ نہیں سکتے؟؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر آپ بحث برائے بحث میں پڑ کر ضرور کہیں گے کہ کیا گارنٹی ہے کہ شادی کے بعد دونوں کسی فعل قبیح میں نہیں پڑیں گے تو اس کا آسان سا جواب یہی ہے کہ گارنٹی تو نہیں دی جاسکتی لیکن حرام کاری میں کئی فیصد کمی ضرور آسکتی ہے جبکہ آپ کی بات مان لی جائے تو کئی گنا کئی فیصد حرام کاری میں اضافہ ہی اضافہ ہے اس کے سوا کچھ بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب چونکہ بات زرا کھل کھلا کر شروع ہوہی گئی ہے تو آپ جو تصویر پیش کر رہے ہیں اسی تصویر کے دوسری جانب روشنی ڈالنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتا وہ یہ کہ اگر آپ ہی کی بات کو مان لیا جائے کہ جس کو عورت لڑکی میسر نہیں یا عورت کو مرد میسر نہیں تووہ کسی سے بی بغیر نکاح کے جنسی تعلقات بنا لیتے ہیں اب اگر ان دونوں کے ملاپ سے جو اولاد پیدا ہوگی وہ کہاں پلے بڑھے گی۔۔۔۔۔۔۔۔؟ آپ کہیں گے کئی چائیلڈ کئیر سینٹرز ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔اچھا ایک کو چائیلڈ کئیر میں دے دیا دوسری اولاد ہوگئی تو اس کو بھی چائلڈ کئیر میں بھرتی کروا دیا اسی طرح ہزاروں ناجائز جوڑوں نے ناجائز اولادیں جمع کروادیں جب وہ ناجائز اولادیں بڑی ہوئیں تو ان میں سے کئی جوان بچے ایک دوسرے کے بہن بھائی ہیں لیکن وہ انجان ہونے کی بنا پر ایک دوسرے سے تعلق قائم کرتے ہیں تو آپ اس فعل غلاظت کی انتہا کیا دیکھتے ہیں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ آپ عجیب فرد ہیں ایک ہی مثال کو ایک ہی وقت میں دو طرح سے پیش کر دیتے ہیں اور اس پر شرمندہ بھی نہیں ہورہے نادان صاحبہ کو کہہ رہے ہیں کہ انسان اور جانور میں بہت فرق ہے جانور میں سوچ نہیں ہوتی آگہی نہیں ہوتی (تو بھائی اسی سوچ اور آگہی کی معراج کی بنا پر انسان سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ انسان بنو عقل اور سوچ سے کام لو) ۔پھر اسی لائن میں رقمطراز ہیں کہ جانوروں میں بھی قاعدے قانون ہوتے ہیں ؟؟؟یار بھائی سوچ لو جانوروں میں عقل شعور نہیں ہوتا یا قاعدے قانون نہیں ہوتے؟اور پھر فرما رہے ہیں کہ مولوی قاعدے قانون ختم کر رہے ہیں اووو بھائی کیا کر رہے ہو مولوی تو قاعدے قانون میں لانے کی سعی کر رہا ہے (بھائی جان سوچ لو کہ مولوی قاعدے قانون سے نکال رہا ہے یا قاعدے قانون میں لا رہا ہے) یہ لفظ مولوی آپ کی تحریر کی بنا پر لکھ رہا ہوں ورنہ ہر مزہب کا وہ فرد جو عورت مرد کے ملاپ کو قاعدے قانون کے مطابق رکھنا چاہتا ہے وہ اپنے اپنے مزہب کا مولوی ہی ہے۔ آخر میں مزید کچھ کہنے کو نہی رہا آپ “کی بورڈ”کے مجاہد بنے صفحوں کے صفحے کالے کرتے رہیں میری جانب سے یہ چند پیرا گراف ہی اس دھاگے میں پروئے رہیں گے اگر آپ ان چند پیراگرافس کو پڑھ کر “سمجھ “نہیں سکے تو پورا انسائکلو پیڈیا بھی آپ کے لیے بیکار ہی ہوگا۔ آخر میں بتاتا چلوں کہ میری اپنی شادی 40سال کی عمر کے بعد ہوئی(اب الحمدُللہ بال بچوں کے ساتھ خوشگوار زندگی بسر کر رہا ہوں ) زندگی میں کئی نازک دور بھی آئے جن میں کسی بھی عورت کا حصول نہائت آسان رہا لیکن وقتی جزبات میں نہیں بہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کئی ایسے مواقع بھی آئے کہ کلیگز وغیرہ کی جانب سے طنز ومزاح کا شکار بنا لیکن خود سے کمٹمنٹ رکھی کہ یہ راستے غلط اور نکاح کا راستہ درست ہے تو الحمدُللہ میری زندگی کے کسی بھی ورق پر جنسی داغ کی چھینٹ تک نہیں ۔اس پیرائے میں ،میں خود کو اشرف المخلوقات کے اعلیٰ عہدے پر فائز سمجھتا ہوں کیا آپ یا آپ جیسے ایسا کر سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟

میری جانب سے یہ حتمی تحریر ہے اس کے بعد صرف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔والسلامُ علیکم ورحمتہ اللہ

Excellent write Athar Sahib. There is a lot to learn for anyone with open mind.

Congratulations. As they say ” الله کرے زور -قلم اور زیادہ  

  • This reply was modified 1 month ago by Anjaan.
×
arrow_upward DanishGardi