Home Forums Non Siasi ازدواجی تعلق ازدواجی تعلق

#22
shahidabassi
Participant
Offline
  • Expert
  • Threads: 33
  • Posts: 7324
  • Total Posts: 7357
  • Join Date:
    5 Apr, 2017

Re: ازدواجی تعلق

مذہبی اور معاشرتی لحاظ سے اس رشتے بارے مجھ سمیت کسی بھی ایشین کا نقطہِ نظر بہت واضح ہے لیکن بات اگر صرف لاجک کی بنیاد پر اور مذہبی یا معاشرتی اقدار ملحوظِ خاطر رکھے بغیر بھی کی جائےتب بھی کسی کانٹرکٹ کے تحت بنائی گئیں پارٹنرشپس ہی بہتر پنپتی ہیں۔ مغربی معاشرے میں چونکہ مادیت کا غلبہ ہے تو یہ لوگ دو دھیلے کی بھی معاشی پارٹنرشپ بغیر تحریری معائدے کے کرنا بیوقوفی سمجھتے ہیں لیکن خاندانی معاملات میں وہ اس کے بلکل الٹ سوچتے ہیں اور الٹ سوچ کی بھی اصل وجہ مادیت ہی ہے۔ معائدے کے تحت بنی پارٹنرشپ میں چونکہ سالیڈیرٹی کا عنصر آجاتا ہے تو وہ اسی جھنجل سے بچنے کے لئے بغیر شادی کی پارٹنرشپ کو ترجیح دیتے ہیں۔

۔

مثلاً ایک ڈینش دوست جو کہ تقریبا ۵۰۰ ملین ڈالر رئیل سٹیٹ کا مالک ہے، نے ایک عورت کے ساتھ بغیر پیپر میریج کے رہنا شروع کر دیا۔ وہ تین سال سے اکٹھے تھے تو عورت کو کینسر ہو گیا۔ علاج معالجہ چلتا رہا (جو کہ ڈنمارک میں مفت ہے) لیکن جب حالت خراب ہوتی چلی گئی تو اسے جرمنی کے کسی ہسپتال لے جایا گیا۔ ایک دن میں اس کے گھر گیا تو باتوں باتوں میں اس نے منہ بنا کر ذکر کیا کہ جرمنی کے علاج پر اس کا پینتیس ہزار یورو لگ گیا ہے۔ اس کی اس بات میں سخاوت کا عنصر عیاں تھا کہ جیسے اس نے اپنی بیوی پر بہت ہی بڑا احسان کر دیا ہو۔ بیوی تو بیچاری فوت ہو گئی لیکن میں یہ ضرور سوچتا رہا کہ اگر دونوں نے شادی کر لی ہوتی تو کیا پھر بھی اس کا یہی رویہ ہوتا یا سالیڈیریٹی آف ویلتھ کے تحت یہ علاج بیوی پر احسان کی بجائے اس کا حق ہوتا۔
تو میرے خیال میں یہ مسئلہ مادیت اور سالیڈیریٹی بارے ہے۔

×
arrow_upward DanishGardi