Home Forums Non Siasi ازدواجی تعلق ازدواجی تعلق

#21
نادان
Participant
Offline
  • Expert
  • Threads: 109
  • Posts: 15156
  • Total Posts: 15265
  • Join Date:
    31 Aug, 2016

Re: ازدواجی تعلق

نادان sahiba

محترمہ

بہت بہت شکریہ

اگر برا نہ مانیں اور دل چاہے تو بتائیں کہ وہ کون سی حدود اور قیود ہیں جن کا آپ نے ذکر کیا ہے اور جو ان دو انسانوں کو جو اپنی مرضی سے ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کو جانوروں سے بدتر بناتے ہیں

کیا شادی کے ببعد ہی وہ حدود اور قیود لاگو ہوتی ہیں

بات اس حوالے سے ہو رہی ہے جو ملالہ  نے کی ..یعنی یقینا محض  روم میٹ  کے طور پر ساتھ رہنے کی بات نہیں ہو رہی ..جیسے کہ آپ کی دوسری پوسٹوں سے تاثر ملتا ہے

ہم جس دنیا میں رہتے ہیں ..اور جس کی دنیا میں رہتے ہیں ..میں خود کو اس سے باہر نہیں کر سکتی ..اس لئے میرے جواب میں مذہب  کا حوالہ تو ضرور آئے گا ..اور جس مشرقی  معاشرے کی پیداوار ہوں اس کی بھی گہری چھاپ  ہے مجھ پر .

جب آپ کسی کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کرتے ہیں ..اور زندگی بھر ساتھ رہنے کا فیصلہ کرتے ہیں ..تو اس فیصلے کو میرے نزدیک قانونی حیثیت  لازمی دینی چاہئے ..ورنہ یہ محض اپنی ذمہ داریوں  سے بھاگنے کا بہانہ ہے ..جہاں تک میرا خیال ہے ..آپ ملک سے باہر رہتے ہیں ..اور آپ نے بھی شادی کو محض کاغذ کا ٹکڑا  سمجھنے والوں کا حال بھی دیکھا ہوگا ..شادی محض  جسمانی ضروریات پوری کرنے کا نام نہیں ..یہ ایک فیملی ابتدا کرنے کا نام ہے جس میں مرکزی حیثیت بچوں کو حاصل ہوتی ہے ..انسانی بچہ  جانور کا بچہ  نہیں ہے جو پیدا ہوتے ہی لمحوں میں اپنے پاؤں پر کھڑا بھی ہو جاتا ہے اور اپنی بھوک مٹانے کا انتظام بھی کر لیتا ہے ..انسانی بچے کو اس مقام تک پہنچنے کے لئے کئی  برس لگ جاتے ہیں ..بچے کی ضروریات محض  خوراک تک محدود نہیں ہوتیں ..اس کی تربیت اور تعلیم میں والدین کی زندگی لگ جاتی ہے ..یوں تو آپ کہہ سکتے ہیں کے طلاقیں  بھی تو ہوتی ہیں ..ٹوٹے گھروں کے بچوں کی کیا نفسیات ہوتی ہے ..اس کے ان کی زندگی پر کتنے دور رس اثرات پڑتے ہیں .آپ بخوبی واقف ہونے ..بچے کو گھر میں ماں اور باپ دونوں چاہئیں ہوتے ہیں ..یہ نہیں کہ دل بھر گیا تو سامان سمیٹا  اور کپل اپنے اپنے رستے پر چل دیئے ..ایک دفعہ  آپ شادی کے بندھن میں بندھ  جاتے ہیں تو آسانی سے ختم نہیں کرتے ..سمجھوتے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں ..ایسے میں معاشرے اور فیملی کا بھی ایک دباؤ رہتا ہے ..جو آپ کو اس بات پر آمادہ کرتا ہے کہ رشتے نبھائیں جائیں

یہاں عام  مشاہدہ ہے ..ایک عورت رنگ برنگے بچے لئے پھر رہی ہوتی ہے ..جو اس کے مختلف بوائے فرینڈ سے ملے ہوتے ہیں ..باپ تو پتلی گلی سے نکل لیتے ہے ..ماں اکیلے سنگل مدر کے طور پر انہیں پال رہی ہوتی ہے ..ماں ایسی چیز ہے کہ وہ  اولاد چھوڑ نہیں سکتی ..میں ایسی ماؤں کی باتیں بھی سنتی ہوں ..کیا تکلیف دہ زندگی گزار رہی ہوتی ہیں ..

اب آخر میں میں مذھب کا تڑکا  بھی لگا دیتی ہوں ..میرے مذھب میں یہ بڑے  گناہوں میں سے ایک ہے ..اس لئے ایسی کسی بھی بات کو سپورٹ نہیں کر سکتی ..اگر ساتھ رہنا ہی ہے تو باقاعدہ شادی کرنے میں کیا حرج ہے

ویسے نیند میں ہوں اور تھکن بھی ہے ..اس لئے معلوم نہیں جو لکھا ہے اس میں کتنا ربط ہے

  • This reply was modified 1 month, 1 week ago by نادان.
×
arrow_upward DanishGardi