Home Forums Non Siasi ازدواجی تعلق ازدواجی تعلق

#19
Zaidi
Participant
Offline
  • Advanced
  • Threads: 19
  • Posts: 938
  • Total Posts: 957
  • Join Date:
    30 May, 2020
  • Location: دل کی بستی

Re: ازدواجی تعلق

Zaidi sahib نادان sahiba Believer12 sahib

محترم بہت شکریہ

گو میں نے محبت کی نہیں بلکہ ہم آہنگی کی بات کی تھی جس میں محبت شامل ہو سکتی ہے اور نہیں بھی پھر بھی محبت ایک عنصر ہو سکتا ہے دو انسانوں کو قریب لانے میں

جہاں تک آپ کے پوچھے سوالوں کا تعلق ہے میں ہمیشہ کی طرح کوئی جاندار جواب نہیں دے سکوں گا مگر میری حقیر اور ممکن ہے غلط راۓ میں :

١) ہاں محبت وقت کے ساتھ بدل سکتی ہے اور یہ ایک بنیادی فرق ہے عشق اور محبت میں کہ عشق اٹل ہے اور محبت کم یا زیادہ یس شروع یا ختم ہو سکتی ہے ٢) جی ہاں محبت مختلف تقاضوں کی محتاج ہوتی ہے جس میں اکثر کچھ بدلے میں چاہیے ہوتا ہے چاہے وہ دوسرے کی محبت ہو، جسم ہو یا کچھ اور ہو جبکہ عشق بے لوث ہوتا ہے اور کسی تقاضہ کا محتاج نہیں ہوتا ٣) محبت گو شعور کے منافی ہو سکتی ہے مگر محبت شعور سے مستفید بھی ہوسکتی ہے . عشق شعور کو گھس بھی نہیں ڈالتا اور شعور عشق کی معراج تک نہیں پہنچ سکتا ٤) اگر کسی اور سے محبت ہو جاۓ تو ہم سفر بھی تبدیل ہو سکتا ہے اگر محبت ہونے والے شخص کی مرضی شامل ہو. اگر یک طرفہ محبت ہے تو شاید ایسا ممکن نہیں کہ موجودہ ہم سفر تبدیل کیا جا سکے ٦) آخری سوال نہیں سمجھ پایا

اکثر زندگی میں ایک شخص کسی سے محبت کرتا ہے مگر اس کو اپنا نہیں سکتا اور کسی اور کو اپنا لیتا ہے اور ضروری نہیں کے جس کو اپنائے اس سے محبت بھی کرے .

اس موضوع پر میرے خیال میں اس محفل کے کسی بھی محترم ہستی اور سب محترم ہستیوں کے لئے بات کرنا انتہائی مشکل ہے اور مجھے کوئی امید نہیں تھی کے کوئی اس موضوع پر بات آگے بڑھاے گا اور آپ اور محترمہ نادان صاحبہ اور محترم بلیور صاحب نے کچھ بات کی جس کی مجھے امید نہیں تھی

میں ایک بار پھر کہوں گا کے اگر مذہب اور مشرق کی اقدار جو تبدیل ہو رہی ہیں ان کو صرف ایک لمحہ کے لئے دور رکھیں تو وہ کونسی قباحت ہے جو کسی بالغ مرد اور عورت کو اپنی مرضی سے ساتھ رہینے میں رکاوٹ ہے . ایک اور بات یہ ہے کہ فطرت کی ضروریات مرد اور خاتوں دونوں میں ہوتی ہیں مگر ساتھ رہنے کا مقصد سرف وہ ایک فطری ضرورت نہیں ہے. ساتھ رہنے کی کچھ اور اہم وجوہات یا تقاضے ہو سکتے ہیں

ایک دو پہلو ہیں میری نظر میں اور ان کو میں بیان کر سکتا ہوں مگر میں دوسروں کی راۓ جاننا چاہوں گا

  آپ کے تھریڈ کی کڑیاں ملالہ یوسف زئ کے اس مبینہ بیان کی طرف لے جاتی ہیں جس میں بظاھر اس نے ازدواجی زندگی کے بدھن میں بندھے بغیر مرد اور عورت کے تعلقات پر اپنا خیال ظاہر کیا ہے ۔

میرے نذدیک تو بھیا ، اللہ کی کچھ مقرر کی ہوئ حدود ہیں جس کی خوربین سے میں ھر بات کا تعین کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ میں اپنی اس کوشش میں بارہا ناکام رہا ہوں اور رب کریم کی عنایت ہے کہ اس نے ھر بار پہلے سے بڑھکر میری راہ نمائ کی ہے ۔

ھرچند کہ میری رائے میرے عقیدے کی پختگی کی بنا پر متعصب ہوسکتی ہے ، اور ایک متعصب رائے کی اھمیت کم ہوجاتی ہے ، میں اگر اپنے عقائد کی پوشاک اتار بھی دوں ، تب بھی میری پرورش اور تربیت مجھے اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ عورت اور مرد کے اس طرح کے ملاپ کو بغیر کسی عہد اور پیمان ، کسی اصولوں کی پابندی سے یکسر انحراف ، اور ایک خاندان کی تشکیل کے نظریے کو کسی بھی موثر منصوبہ بندی کے بغیر، اپنانے کی اجازت نہیں دیتی ۔

عہد وپیمان یا اقرار نامے کی مختلف مذاھب کے نزدیک مختلف قسمیں ہوسکتی ہیں ۔ ازدواجی تعلقات ، ایک خاندان کی تشکیل کا بنیادی عمل ہے ، اور یہ عمل بغیر کسی حلف ، کسی عہد اور کسی وعدے کے محض ایک کھیل تماشہ تو ہوسکتا ہے ، معاشرے میں استحکام ، رواداری اور تہذیب کا محافظ نہیں ہو سکتا ۔ ضروری نہیں کہ ایسے معائدے سو فیصد اپنے مقاصد حاصل کرتے ہوں ، بہت سی مثالوں میں حرفین کی اپنی کمزوریاں ، حالات کی ستم کاری ،ان معائدے کی ناکامی کی صورت میں بھی سامنے آتی ہیں۔ لیکن چونکہ ایسا ہوتا رہا ہے ، ہم ان تعلقات کی بنیادی شرائط سے حرف نظر نہیں کرسکتے ۔

  • This reply was modified 1 month, 1 week ago by Zaidi.
×
arrow_upward DanishGardi