Home Forums Siasi Discussion پاکستانی سیاست کی نئی صورتحال پاکستانی سیاست کی نئی صورتحال

#49
Awan
Participant
Offline
Thread Starter
  • Professional
  • Threads: 152
  • Posts: 2951
  • Total Posts: 3103
  • Join Date:
    10 Jun, 2017

Re: پاکستانی سیاست کی نئی صورتحال

اعوان بھائی، دیر سے جواب دینے پر معزرت ، ہویی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا آپ کے جواب میں میں کوشش کروں گا انتہائی شیریں انداز اپناؤں کہ آپ کو دکھ دینا نا پہلے کبھی مطمع نگاہ تھا نہ اب ہے اور نا آئندہ ہوگا حقائق مگر تلخ ہیں تو اگر وہ تلخ لگیں ان پر میرا زیادہ بس نہیں چلتا ہے اپنی بات کہنے سے قبل اہل پنجاب خصوصا نون لیگیوں کی ایک مجبوری کی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں جو کہ آپ کو کبھی بھی شائد کسی دوسرے زاویہ سے کراچی کی سیاست کا درست تجزیہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے وہ ہے کہ میاں صاحب کی ہر حکومت میں کراچی پر فوجی لشکر کشی ہو ی ہے میں زیادہ تفصیل میں جانا نہیں چاہتا ہوں مگر یہاں مفادات کے ٹکراؤ والا معاملہ ہے کہ اگر کراچی میں ہونے والی فوجی دہشت گردی کا اعتراف کریں تو لا محالہ اسکی ذمہ داری میاں صاحب کے کاندھوں پر جاتی ہے کہ اپنے تینوں ادوار میں میاں صاحب نے کراچی پر دو مرتبہ براہ راست لشکر کشی کی ہے اور ایک مرتبہ بلواسطہ کی ہے لہذا آپ لوگوں کے لئے محفوظ مقام یہی ہے کہ کراچی میں امن و امان کا رونا رو کر ان فوجی بربریت کا جواز گھڑتے رہیں اور سکون کی نیند سوتے رہیں اپنی درج بالا تجزیہ کی روشنی میں میرا کسی بھی طرح بین بجانے کا جواز تو نہیں بنتا ہے مگر پھر بھی آپکے چند نکات کے جواب میں اپنے موقف کا اظہار ضروری سمجھتا ہوں آپ نے کہا کہ آپ کو کس چیز سے نفرت ہے تو آپکو کراچی کے سیاسی شعور سے نفرت ہے یہ درست ہے کہ آپ سیاسی نکتہ نگاہ سے اختلاف کا حق رکھتے ہیں مگر اگر آپ درست معنوں میں جمہوریت پر یقین رکھتے تو اپنے مخالفین کے سیاسی حق رکھنے کے حق کا تو اعتراف کرنا چاہئے کراچی میں حالیہ دور میں بدترین سیاسی انجینیرنگ ہو ی یا کرنے کی کوشش کی گئی آپ اپنی ایک پوسٹ دکھایں جس میں آپ نے اس سیاسی انجینیرنگ کی مذمت کی ہو اب تو وقت نے ثابت کردیا ہے کہ پچھلی تینوں انجینیرنگ کی طرح یہ بھی ناکام ہو گئی ہے میں نے لکھا کہ اہل کراچی پر امن لوگ ہیں تو آپ نے اسکو ایٹمی دھماکہ قرار دیدیا؟؟ گویا دوسرے الفاظ میں آپ نے کراچی کے شہریوں کو ایک طرح سے فسادی اور جنگجو قرار دیدیا اعوان بھائی فسادی اور جنگجو لوگ معیشت میں بیس فیصد حصہ ہونے کے باوجود ساٹھ فیصد کا جگا نہیں دیتے ہیں کراچی کی ایک درمیانہ درجہ کی مارکٹ پورے لاھور کے برابر ٹیکس ایسے ہی نہیں جمع کروادیتی ہے یہ فسادی لوگوں کا کام نہیں ہے کراچی کے شہریوں کا خون چوس چوس کر پورے پاکستان کو کھلایا جاتا ہے مگر جواب میں انکا بدترین سیاسی ، معاشی اور تعلیمی استحصال کیا جاتا ہے نہ انکی گنتی درست کی جاتی ہے بجٹ میں اپنے ہی ٹیکسوں سے مونگ پھلی دے دی جاتی ہے نا انکے پاس پانی ہے وہاں بھی فوجیوں اور وڈیروں کا مافیہ ہے نا صحت کی سہولیات ہیں نہ انتظامیہ اور پولیس میں انکی کویی نمائیندگی ہے مگر پھر بھی نا وہاں کویی شدید احتجاج ہوتا ہے نہ ہنگامہ ہوتا ہے ایم قیو ایم نے بھی کبھی عوامی مسائل پر احتجاج نہیں کیا ہڑتالیں بھی کیں تو اپنے کارکنان کی ماورا عدالت قتال پر ہی کیں کبھی وہاں پر طالبان کا عفریت مسلط کیا جاتا ہے تو کبھی مصنوعی طور پر اے این پی کو کھڑا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو کبھی زرداری کا دہشت گرد ونگ امن کمیٹی کو کھڑا کیا جاتا ہے اور اہل کراچی تمام تر صورتحال کو دیکھنے سمجھنے کے باجود ہر روز بکری کی طرح منہ جھکا کر اپنے اپنے کام دھندوں میں مصروف ہو جاتے ہیں کہ جانتے ہیں کہ اس دنیا میں انکا اپنے علاوہ کوی نہیں ہے اور جب ان لوگوں کو میں نے پر امن قرار دیا تو آپ کو یہ بات اسقدر بری لگی کہ آپ نے اسکو ایٹم بم پھوڑنے سے تشبیہ دے دی اب خود بتائیے کہ اس پر میں اور کیا عرض کروں . معزرت وغیرہ طلب کرنا بھی بے معنی بات ہے اب تو میں کہتا ہوں کہ اچھا ہے جو دلوں میں کھل کر لکھنا چاہئے کہ شخصیت کا ہر پہلو سامنے رہے . اب بات کرتے ہیں سیاسی شعور کی، آپ نے اسکو بھی ایک ایٹمی دھماکہ سے تشبیہ دی .یہ بھی کافی توہین آمیز بات ہے مگر میں چاہوں گا کہ آپ اپنے دل کی باتیں لکھتے رہیں تاکہ جنکو سمجھ نہیں بھی آتی انکو بھی سمجھ آجائے . میں نے سیاسی شعور کی بات بات بلا وجہ نہیں کی ہے دقت صرف یہ ہے میرا وقت کا پہیہ میاں شریف کی سیاسی پیدائش سے شروع نہیں ہوتا ہے بلکہ تاریخی عوامل سے اچھی طرح آگاہ ہوں اسکے لئے مجھے آپ کو تقسیم ہند سے قبل لے کر جانا پڑے گا اور آج کے دور تک کا احاطہ تاریخی حقائق کی روشنی میں کرنا پڑے گا دیکھیں کب وقت میسر آتا ہے تو اس پر لکھتا ہوں

گھوسٹ بھائی جواب دینے کا شکریہ – آپ نے کراچی کے لوگوں کا سیاسی شھور ثابت کرنے کے لئے ایک بھی دلیل نہیں دی – لوگ سننا چاہتے ہیں کیسے کراچی والوں کا سیاسی شہور بلند ہے ؟ ایک ہی پارٹی کو ووٹ دیتے رہنا بھلے کارکردگی اچھی یا بری ہو کیا سیاسی شہور ہے؟ کیا لسانی بنیادوں پر ووٹ دینا سیاسی شہور ہے ؟ مثال میں نے پنجاب کی دی کہ سندھی بھٹو اور پٹھان عمران خان کو اچھی کارکردگی کی امید میں ووٹ دیا گیا جب کارکردگی نہیں ملی تو کسی اور کو چانس ملا – کراچی پر تیس سال سے راج کرنے والی پارٹی ایم قیو ایم کو آپ نے قصور واروں کی فہرست سے مکھن میں سے بال کی طرح نکال دیا اور سارا ملبہ اے این پی اور پیپلز پارٹی پر ڈال دیا – اے این پی کو تو کراچی سے دو چار سیٹیں بھی نہیں ملیں اس لئے انہیں تو قصور وار نہیں ٹہرایا جا سکتا – ایم قیو ایم تقریبا ہر حکومت میں رہی بھلے وہ کسی اور کے پارٹنر تھے مگر کراچی میں امن و امان اور دوسری کارکردگی کی ذمے دار ایم قیو ایم ہے کیونکے وہ وہاں کے منتخب نمائندے ہیں اگر کراچی میں کارکردگی بہتر نہیں ہو رہی تھی تو حکومت سے نکل جاتے – کسی ایک بھی حکومت سے وہ نکلے ؟ آج بھی حکومت کا حصہ ہیں – درست ہے کراچی کا ملکی جی ڈی پی اور ٹیکس میں بڑا حصہ ہے مگر کیا یہ سب مال کراچی میں ہی استعمال ہوتا ہے ؟ یہ کارخانے پورے ملک کے لئے مال تیار کرتے ہیں اور کراچی میں آباد لوگ بھی پورے ملک سے ہیں یوں یہ پورے ملک کا مرکز ہے – جہاں تک نون لیگ کے کراچی کے حملوں کا تحلق ہے تو یہ امن و امان قائم کرنے کے آپرشن تھے جو پیپلز پارٹی نے نصیر اللہ بابر کی قیادت میں زیادہ کئے – کراچی کا امن و امان باہر سے کسی نے آ کر نہیں کیا اس میں ایم قیو ایم ، اے این پی اور پیپلز پارٹی کے کارکن ملوث ہیں – کراچی کے شہری امن پسند ہونگے مگر وہ ان شرپسندوں کو ووٹ کیوں دیتے ہیں ؟ ان عناصر کی سیاسی موت ان کے عسکری ونگ کی بھی موت ہو گی مگر کراچی کے امن پسند شہریوں نے خود انہیں ووٹ دے کر اپنے شہر میں دنگا فساد کرنے کے لئے انہیں منتخب کیا – باہر سے کوئی آ کر تو طاقت سے ہی امن قائم کر سکتا ہے جیسا کہ مختلف ادوار میں ہوا مگر ان عناصر کو سیاسی موت مارنا کراچی کے لوگوں کے ہاتھ میں تھا – جہاں تک سیاسی انجینیرنگ کی بات ہے تو پورے ملک میں ہوئی ہے اور ایم قیو ایم کی جگہ تحریک انصاف کو اسی طرح لایا گیا ہے جیسے پنجاب میں نون لیگ کو لایا گیا ہے – ہونا تو یہ چاہئے تھا اس سیاسی انجینرنگ کے خلاف ایم قیو ایم اپوزیشن کے ساتھ مل کر اعتجاج کرتی مگر وہ خود ان کی حکومت میں جا کر بیٹھ گئے ہیں – ایم قیو ایم کو جب موقع ملتا ہے تو وہ اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں استعمال ہوتی ہے اور بدلے میں فائدے لیتی ہے اور جب اسٹیبلشمنٹ انہیں امن و امان بہتر کرنے کے لئے کچلنا شروع کرتی ہے تو رونا شروع ہو جاتی ہے – اگر موقع ملنے پر فائدے نہ لیں تو آپ کے اعتجاج میں بھی دم ہو مگر ایم قیو ایم ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کی آلہ کار رہی اور پھر ان سے ہی گلے کرتی رہی – ہمیں اعتجاج نہ کرنے کا تھنہ دینے کا آپ کو حق نہیں بنتا جب کراچی کے لوگ خود ہی اعتجاج کے مطلب نہیں جانتے –

×
arrow_upward DanishGardi