پاکستانی سیاست کی نئی صورتحال

Home Forums Siasi Discussion پاکستانی سیاست کی نئی صورتحال پاکستانی سیاست کی نئی صورتحال

#48
Ghost Protocol
Participant
Offline
  • Expert
  • Threads: 163
  • Posts: 5436
  • Total Posts: 5599
  • Join Date:
    7 Jan, 2017

Re: پاکستانی سیاست کی نئی صورتحال

گھوسٹ بھائی مجھے یہ تو بتا دیں مجھے نفرت ہے کس چیز سے ، مجھے تو خود سمجھ نہیں آ رہا – اگر کسی چیز سے نفرت ہے تو فوجی کے سیاسی عمل میں مداخلت سے ہے جو آپ کو بھی ہے – ایم قیو ایم کے بارے میں لوگ یہاں کیا کچھ لکھتے ہیں مگر میں ہمیشہ یہ سوچ کر لکھنے میں بہت احتیاط کرتا ہوں کہ کہیں آپ جیسا میرا بھائیوں جیسا دوست ناراض نہ ہو جائے -باقی ہر ایک کا نقطہ نظر ہے – ہم سب کی منزل سول بالادستی ہے لیکن طریقہ الگ الگ ہے – آپ سمجھتے ہیں فوج کو للکار کر یہ حاصل کیا جا سکتا ہے مگر میرا خیال ہے فلحال ایسا ممکن نہیں ہے اور میرا طریقہ الگ ہے جس میں پاور میں آ کر بتدریج سول بالادستی کی طرف بڑھنا ہے – میری پچھلی نسلوں کی بات کرنا نا مناسب تھا آپ سے ایسی بات کی توقو ع نہیں تھی – کراچی میں سیاسی شھور والی بات بھی اتنا ہی بڑا خود کش بم دھماکہ ہے جتنا بڑا دھماکہ یہ تھا کہ کراچی کے لوگ پر امن ہیں – کراچی میں ووٹ لسانی بنیادوں پر ملتا ہے – اردو سپیکر ایم قیو ایم کو ، پٹھان اے این پی کو اور سندھی پیپلز پارٹی کو ووٹ دیتا ہے -کیا یہ سیاسی شعور ہے ؟ کیا کبھی کراچی کے ووٹر نے کارکردگی پر بھی کسی کو ووٹ دیا ہے ؟ پنجاب کے ووٹ کی غالب اکثریت کارکردگی پر ووٹ دیتی ہے جب انہیں لگا کہ بھٹو بہتر کارکردگی دکھا سکتا ہے تو سندھی بھٹو کو پنجابی ووٹر نے ووٹ دیا اور اتنا دیا کہ بہت سے شہر جیسے لاہور کو اس وقت پیپلز پارٹی نے سویپ کیا – بھٹو کے دور کے بھد بے نظیر کے پہلے دور میں پیپلز پارٹی کو لاہور اور پنجاب سے بہت سیٹیں ملیں مگر اپنے دور میں ان کی کارکردگی بہت بری تھی اور زرداری کی کرپشن کے گلی گلی چرچے ہوئے جس کے بھد نون لیگ آگے آئی اور اس کے بھد نون لیگ کو کارکردگی کی وجہ سے ووٹ ملنا شروع ہوا – وجہ صرف ترقیاتی منصوبے نہیں تھے کاروبار اور صنحت نے اس دور میں کافی ترقی کی اور نواز کے پہلے ہی دور میں جی ڈی پی سات سے اوپر گئی – اب مجھے یہ بتائیں کارکردگی کی بنیاد پر کسی پارٹی کو ووٹ دینا سیاسی شھور ہے یا لسانی بنیادوں پر ؟

اعوان بھائی،
دیر سے جواب دینے پر معزرت ،
ہویی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا
آپ کے جواب میں میں کوشش کروں گا انتہائی شیریں انداز اپناؤں کہ آپ کو دکھ دینا نا پہلے کبھی مطمع نگاہ تھا نہ اب ہے اور نا آئندہ ہوگا حقائق مگر تلخ ہیں تو اگر وہ تلخ لگیں ان پر میرا زیادہ بس نہیں چلتا ہے
اپنی بات کہنے سے قبل اہل پنجاب خصوصا نون لیگیوں کی ایک مجبوری کی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں جو کہ آپ کو کبھی بھی شائد کسی دوسرے زاویہ سے کراچی کی سیاست کا درست تجزیہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے وہ ہے کہ میاں صاحب کی ہر حکومت میں کراچی پر فوجی لشکر کشی ہو ی ہے میں زیادہ تفصیل میں جانا نہیں چاہتا ہوں مگر یہاں مفادات کے ٹکراؤ والا معاملہ ہے کہ اگر کراچی میں ہونے والی فوجی دہشت گردی کا اعتراف کریں تو لا محالہ اسکی ذمہ داری میاں صاحب کے کاندھوں پر جاتی ہے کہ اپنے تینوں ادوار میں میاں صاحب نے کراچی پر دو مرتبہ براہ راست لشکر کشی کی ہے اور ایک مرتبہ بلواسطہ کی ہے لہذا آپ لوگوں کے لئے محفوظ مقام یہی ہے کہ کراچی میں امن و امان کا رونا رو کر ان فوجی بربریت کا جواز گھڑتے رہیں اور سکون کی نیند سوتے رہیں
اپنی درج بالا تجزیہ کی روشنی میں میرا کسی بھی طرح بین بجانے کا جواز تو نہیں بنتا ہے مگر پھر بھی آپکے چند نکات کے جواب میں اپنے موقف کا اظہار ضروری سمجھتا ہوں
آپ نے کہا کہ آپ کو کس چیز سے نفرت ہے تو آپکو کراچی کے سیاسی شعور سے نفرت ہے یہ درست ہے کہ آپ سیاسی نکتہ نگاہ سے اختلاف کا حق رکھتے ہیں مگر اگر آپ درست معنوں میں جمہوریت پر یقین رکھتے تو اپنے مخالفین کے سیاسی حق رکھنے کے حق کا تو اعتراف کرنا چاہئے کراچی میں حالیہ دور میں بدترین سیاسی انجینیرنگ ہو ی یا کرنے کی کوشش کی گئی آپ اپنی ایک پوسٹ دکھایں جس میں آپ نے اس سیاسی انجینیرنگ کی مذمت کی ہو اب تو وقت نے ثابت کردیا ہے کہ پچھلی تینوں انجینیرنگ کی طرح یہ بھی ناکام ہو گئی ہے
میں نے لکھا کہ اہل کراچی پر امن لوگ ہیں تو آپ نے اسکو ایٹمی دھماکہ قرار دیدیا؟؟ گویا دوسرے الفاظ میں آپ نے کراچی کے شہریوں کو ایک طرح سے فسادی اور جنگجو قرار دیدیا اعوان بھائی فسادی اور جنگجو لوگ معیشت میں بیس فیصد حصہ ہونے کے باوجود ساٹھ فیصد کا جگا نہیں دیتے ہیں کراچی کی ایک درمیانہ درجہ کی مارکٹ پورے لاھور کے برابر ٹیکس ایسے ہی نہیں جمع کروادیتی ہے یہ فسادی لوگوں کا کام نہیں ہے کراچی کے شہریوں کا خون چوس چوس کر پورے پاکستان کو کھلایا جاتا ہے مگر جواب میں انکا بدترین سیاسی ، معاشی اور تعلیمی استحصال کیا جاتا ہے نہ انکی گنتی درست کی جاتی ہے بجٹ میں اپنے ہی ٹیکسوں سے مونگ پھلی دے دی جاتی ہے نا انکے پاس پانی ہے وہاں بھی فوجیوں اور وڈیروں کا مافیہ ہے نا صحت کی سہولیات ہیں نہ انتظامیہ اور پولیس میں انکی کویی نمائیندگی ہے مگر پھر بھی نا وہاں کویی شدید احتجاج ہوتا ہے نہ ہنگامہ ہوتا ہے ایم قیو ایم نے بھی کبھی عوامی مسائل پر احتجاج نہیں کیا ہڑتالیں بھی کیں تو اپنے کارکنان کی ماورا عدالت قتال پر ہی کیں
کبھی وہاں پر طالبان کا عفریت مسلط کیا جاتا ہے تو کبھی مصنوعی طور پر اے این پی کو کھڑا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو کبھی زرداری کا دہشت گرد ونگ امن کمیٹی کو کھڑا کیا جاتا ہے اور اہل کراچی تمام تر صورتحال کو دیکھنے سمجھنے کے باجود ہر روز بکری کی طرح منہ جھکا کر اپنے اپنے کام دھندوں میں مصروف ہو جاتے ہیں کہ جانتے ہیں کہ اس دنیا میں انکا اپنے علاوہ کوی نہیں ہے اور جب ان لوگوں کو میں نے پر امن قرار دیا تو آپ کو یہ بات اسقدر بری لگی کہ آپ نے اسکو ایٹم بم پھوڑنے سے تشبیہ دے دی اب خود بتائیے کہ اس پر میں اور کیا عرض کروں . معزرت وغیرہ طلب کرنا بھی بے معنی بات ہے اب تو میں کہتا ہوں کہ اچھا ہے جو دلوں میں کھل کر لکھنا چاہئے کہ شخصیت کا ہر پہلو سامنے رہے .

اب بات کرتے ہیں سیاسی شعور کی، آپ نے اسکو بھی ایک ایٹمی دھماکہ سے تشبیہ دی .یہ بھی کافی توہین آمیز بات ہے مگر میں چاہوں گا کہ آپ اپنے دل کی باتیں لکھتے رہیں تاکہ جنکو سمجھ نہیں بھی آتی انکو بھی سمجھ آجائے . میں نے سیاسی شعور کی بات بات بلا وجہ نہیں کی ہے دقت صرف یہ ہے میرا وقت کا پہیہ میاں شریف کی سیاسی پیدائش سے شروع نہیں ہوتا ہے بلکہ تاریخی عوامل سے اچھی طرح آگاہ ہوں اسکے لئے مجھے آپ کو تقسیم ہند سے قبل لے کر جانا پڑے گا اور آج کے دور تک کا احاطہ تاریخی حقائق کی روشنی میں کرنا پڑے گا دیکھیں کب وقت میسر آتا ہے تو اس پر لکھتا ہوں

×

Navigation

DanishGardi