پاکستانی سیاست کی نئی صورتحال

Home Forums Siasi Discussion پاکستانی سیاست کی نئی صورتحال پاکستانی سیاست کی نئی صورتحال

#34
Ghost Protocol
Participant
Offline
  • Expert
  • Threads: 163
  • Posts: 5436
  • Total Posts: 5599
  • Join Date:
    7 Jan, 2017

Re: پاکستانی سیاست کی نئی صورتحال

گھوسٹ بھائی پٹھو جیسے خان ہے کے دور میں فوج کے حق میں قانون سازی ہو رہی ہے – کھل کر مخالفت کرنے والوں کو فوج اقتدار میں آنے نہیں دے گے – ایک حلقے کی بات الگ ہے اس سے کسی کو کچھ فرق نہیں پڑتا تھا اسلئے طاقت ور حلقوں نے اس میں مداخلت نہیں کی لیکن آپ کا کیا خیال ہے کہ پورا ملک اینٹی فوج کو جا رہا ہو تو وہ چپ بیٹھیں گے ؟ ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ آپ فوج کو للکار کر اقتدار لے لیں اور اقتدار سے باہر بیٹھ کر آپ کچھ نہیں کر سکتے – میاں صاحب ملک سے باہر بیٹھ کر بڑھکیں مار رہے ہیں ملک کے اندر اینٹی فوج بیانئے کے لئے کوئی شیر کا بچہ نہیں ہے – مریم زیادہ چر چر کرے گی تو اسے بھی جیل میں بند کر دیا جائے گا -نون لیگ کا ووٹر سڑکوں پر ماریں نہیں کھاتا – اگر فوج ان کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی تو یہ بز دل تاجر دبک کر گھر بیٹھ جائیںگے – میرا ہمیشہ سے یہی موقف رہا ہے کہ سول سپریمیسی کی جنگ ابھی نہیں جیتی جا سکتی – مشرف نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ میں نے صرف شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کی پیشکش کی اور یہ پیشکش بار بار کئی سال جاری رہی – ابھی نواز کو اتارنے کے بھد بھی یہ پیشکش تھی خان کو مجبورا لایا گیا کوئی اور راستہ نہ بچا – شہباز اقتدار کا بھوکا ہوتا تو وزارت عظمیٰ کی کرسی نے بار بار پیچھا کیا مگر اس نے ٹھکرایا – ملک کے لئے اور سول سپریمیسی کے لئے بہتر یہی ہے کہ فلحال ایک ایسی پارٹی قیادت میں ہو جو نہ تو مکمل فوج کی پٹھو ہو جیسے خان حکومت اور نہ مکمل اینٹی فوج ہو جیسے نواز – درمیانے راستے پر چل کر آگے جا کر جمہوریت کی مضبوطی کی صورت میں سول سپریمیسی کی جنگ جیتی جا سکتی ہے مگر ملک میں خان جیسے مکمل فوج پٹھو لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے وہ آتے رہیں گے اور سول سپریمیسی کبھی حاصل نہیں ہو گی –

اعوان بھائی،
یہ ایک حلقہ کی بات نہیں ہے ایسے بہت سے حلقہ کراچی میں رہے ہیں جہاں کے ووٹ سے نفرت میں میاں صاب نے متعدد بار اپنے سورما بھیجے ہیں این اے ٤٦ تو ابھی کل ہی کی بات ہے تو یہ ایک حلقہ کی بات نہیں ہے بات یہ ہے کہ یہ حلقہ پنجاب میں پیدا ہو گیا ہے. آپ کی اس بات سے بھی اتفاق نہیں ہے کہ اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا ، بہت فرق پڑتا ہے پارٹی قیادت اور اس کے سپورٹرز میں ایک طرح سے خود اعتمادی آجاتی ہے کہ کھلی دھاندلی کو قبول نہیں کرنا ہے الیکشن کمیشن نے بھی کچھ پل پرزے نکالے ہیں اپنی آئینی حیثیت کو استعمال کرکے منہ کو خون سے آشنا کرلیا ہے اسٹیبلشمنٹ نے اگر کچھ لا تعلقی برتی ہے تو یہ بھی اتفاق نہیں ہے بلکہ میاں صاحب اور مریم کے تابڑ توڑ سیاسی حملوں نے انکو مجبور کیا ہے تو آپکا ایک حلقہ کو لے کر ڈاون پلے کرنے سے میں اتفاق نہیں کرتا ہوں جب چند برس پیشتر میں نے پنجاب میں آتی سیاسی تبدیلی کی طرف توجہ دلائی تھی تو تقریبا تمام ہی دوستوں نے اختلاف کیا تھا مگر وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ ہر قابل ذکر سیاسی تجزیہ نگار نے اسکا تذکرہ کیا ہے انہی تبدیلیوں کو ارتقا کہا جاتا ہے یہی وقت کے ساتھ آنے والی تبدیلیاں ہیں جیسے جیسے سماجی رابطے موثر ہو رہے ہیں معاشرے زیادہ آزاد ہو رہے ہیں نئی نسلیں وہ سوالات کررہی ہیں جو آپ کے وقت میں شائد آپ کے ذہن کے گمنام گوشوں میں خوف مصلحت احترام یا روایات وغیرہ کی چادریں اوڑھ کر سو رہے ہوں، تو معاشرے آگے بڑھ رہے ہیں اب یہ افراد پر منحصر ہے کہ آیا ان کی نگاہ ان تبدیلیوں کو دیکھ پاتی ہے یا نہیں .
سول سپرامیسی کی منزل بے شک کچھ فاصلے پر ہے مگر راستہ یہی ہے مردار گھوڑوں پر داؤ لگانا دانشمندی نہیں کہی جاسکتی اگر اپنی نالائقیوں اور ٹنل وژن کی بدولت اسٹیبلشمنٹ کچھ خلا پیدا کررہی ہے تو اس پر قبضہ جمانا چاہئے ورنہ لبیک وغیرہ جیسی قوتیں اسکو ڈارک انرجی سے پر کرنے کی صلا حیت دکھاسکتی ہیں پہلے ہی یہ کئی حلقوں میں دوسرے تیسرے چوتھے نمبر کے ووٹ لینے لگی تھی
آپ کی اس بات سے بھی مجھے اتفاق نہیں ہے کہ خان نے فوج کے مکمل پٹھو کا کردار ادا کیا ہے مکمل پٹھو کا کردار وہ ادا کرتا ہے ہے جسکی اپنی کویی عوامی حمایت نہیں ہوتی جیسے میاں صاحب اپنے ابتدائی ادوار میں ہوتے تھے یا شوکت عزیز یا جمالی یا جتوئی وغیرہ خان کی اچھی خاصی جڑیں عوام میں ہیں یہ درست ہے کہ خان اسٹیبلشمنٹ کے کاندھے پر سوار ہو کر آیا ہے مگر اسکی عوامی حمایت سے سیاسی حقیقتوں کے واقفان انکار نہیں کرسکتے ہیں خان نے جہاں بھی ممکن ہے اپنا موقف منوایا ہے جیسے بزدار کی حمایت ہو یا اسٹیبلشمنٹ کے جانے مانے بوٹ پالیشیوں سے خطرہ محسوس کرکے انکو ٹھکانے لگانے کا عمل ہو یا مریم کی باہر جانے کی راہ میں روڑے اٹکانے ہوں یا احتساب کے نام پر انتقامی کاروائیوں کا جاری رکھنا ہو یہ سب وہ اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت اور اپنی ضد اور انا میں کررہا ہے لہذا ایسے شخص کو مکمل پٹھو کہنا درست تشبیہ نہیں ہے

×

Navigation

DanishGardi