Home Forums Siasi Discussion پاکستانی سیاست کی نئی صورتحال پاکستانی سیاست کی نئی صورتحال

#27
Ghost Protocol
Participant
Offline
  • Expert
  • Threads: 164
  • Posts: 5438
  • Total Posts: 5602
  • Join Date:
    7 Jan, 2017

Re: پاکستانی سیاست کی نئی صورتحال

گھوسٹ بھائی میں پنجاب کا رہنے والا اور پنجاب کی سیاست کو تیس سال سے زیادہ عرصہ دیکھنے اور پڑھنے والا ہوں – پنجاب میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ ووٹ بہت کم ہے – پنجاب کو چڑھتے سورج کے پجاری کہا جاتا ہے – پنجاب ہی نے ہر مارشل لاء کی حمایت کی – ڈسکہ الیکشن کے جیتنے کی بہت سی وجوہات ہیں – پہلی یہ کہ نون لیگ کے گڑھ میں ہے – دوسری یہ کہ یہ سیٹ دو ہزار اٹھارہ کے نون لیگ کے خراب ترین حالات میں بھی نون لیگ نے چالیس ہزار ووٹ کے مارجن سے جیتی تھی – تیسری کمر توڑ مہنگائی اور چوتھی یہ کہ عوام کو اب تحریک انصاف کے وعدوں کا اعتبار نہیں حالانکے تحریک انصاف کے لوگوں نے یہاں پچاس کروڑ کے منصبوں کا اعلان کیا تھا الیکشن جیتنے کی صورت میں – خان صاحب کا ووٹ بینک ملک میں ہر جگہ ہی خیر کم ہوا ہے اس کی سب سے بڑی وجہ مہنگائی ہے دوسری بے روزگاری اور تیسری بری گوورنس ہے – آپ کی اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست سے محبت اپنی جگہ لیکن اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست کر کے فلحال پاکستان میں حکومت نہیں لی جا سکتی – اگر میاں صاحب ڈیل کر کے ملک سے باہر جا سکتے ہیں تو ڈیل کر کے نون لیگ کی اگلی حکومت کا راستہ بھی ہموار کر سکتے ہیں یہ الگ بات ہے میاں صاحب کو وزیر اعظم کبھی نہیں بننے دیا جائے گا – اسٹیبلشمنٹ کے لئے سب سے قابل قبول تو یہی ہے کہ میاں صاحب اور مریم ملک سے باہر رہیں اور وہاں سے ہی شہباز اور حمزہ کے لئے مہم چلائیں لیکن ڈیل اس بات پر بھی ہو سکتی ہے کہ میاں صاحب پر سے مقدمے ختم کر دئے جائیں اور انہیں ملک واپس بھی آنے دیا جائے البتہ وزارت عظمیٰ کی نا اہلی برقرار رکھی جائے – پارٹی قائد پر سے بھی پابندی اٹھ سکتی ہے مگر وزارت عظمیٰ پر سے نہیں اٹھے گی – یہ ڈیل دو ہزار سترہ سے دستیاب تھی مگر اس وقت میاں صاحب اور کلثوم نواز غصے میں تھے اور کلثوم سب کچھ اپنے دیوار اور دیوار کے بیٹے کو نہیں دینا چاہتی تھیں – اس کے کے بھد سے پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے کلثوم نواز کب سے مرحومہ ہو چکی ہیں – اگلے الیکشن سے پہلے میاں صاحب کو وطن کی یاد ضرور ستائے گی ویسے بھی میاں صاحب کے کس بل تب کافی حد تک نکل چکے ہونگے – یہ خوائش کم اور سیاسی تجزیہ زیادہ ہے – خوائش تو یہ ہے کہ میاں صاحب چوتھی بار وزارت عظمیٰ کا حلف لیں اور شہباز شریف ایک بار پھر وزیر اعلی پنجاب بنے مگر اب یہ ممکن نہیں ہے –

اعوان بھائی،
ڈسکہ کے انتخابات میں اصل خبر یہ نہیں ہے کہ یہ نون لیگ کا روایتی حلقہ ہے یا نون لیگ یہاں ضمنی انتخاب جیت گئی ہے اصل خبر یہ ہے کہ ٢٠١٨ کے انتخابات کی طرح اس مرتبہ بھی انتخابات کے نتائج تبدیل ہوئے اور سرکاری نتیجہ پی ٹی آئ کے حق میں آگیا مگر مریم کی قیادت میں نون لیگ کے مقامی ورکرز ڈٹ گئے اور دھاندلی کو قبول کرنے سے انکار کردیا الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ پر دباؤ ڈال کر پورے حلقے میں دوبارہ انتخابات کا مطالبہ منوالیا. پچھلے ضمنی انتخاب کے تجربہ کی روشنی میں حکومت کی ہمت نہیں ہویی کہ اب کی مرتبہ کچھ گڑ بڑ کرتے اور نتیجہ سب کے سامنے ہے یہ محض ایک ضمنی انتخاب نہیں تھا بلکہ ایک بیانیہ کی فتح ہے آپ کو ایسی مثال شائد اپنی تیس سالہ تجربہ کی روشنی میں نہیں ملے گی اور یہاں ہی آپ تبدیل ہوتی زمینی سیاست سے نا بلد نظر آرہے ہیں
فوجی جنتا بھی ٹیک اوور کرنے سے قبل موافق حالات تشکیل دیتی ہے اور موقع دیکھ کر کاری ضرب لگاتی ہے یہ بات تسلیم ہے کہ سیاسی جماعتوں کے حق میں وہ موافق حالات ابھی نہیں آئے ہیں اور لوگ ٹینکوں کے نیچے لیٹنے کے لئے راضی نہیں ہیں مگر منزل کی طرف سفر تو جاری ہے اور رفتار پکڑ رہا ہے اور یہ وقت ہے کہ فوجی جنتا پر دباؤ بڑھایا جائے اور مزید خلا کو پر کیا جائے . میرا نہیں خیال کہ میاں صاحب اب بھی وزیر اعظم بننے کے لئے اتاولے ہو رہے ہوں گے وہ اب زیادہ مطمئن نظر آتے ہیں کھل کر چوکے چھکے لگاتے ہیں ورنہ اقتدار کے دنوں میں تو انکا چہرہ کسی قبض کے مرض میں مبتلا مریض کا چہرہ لگتا تھا کہ بس نہیں چلتا تھا اور کہ کچھ کہہ یا کر سکیں . آپ اطمینان رکھیں میاں صاحب اور شہباز شریف کا دور مک گیا ہے اگلا دور مریم کا ہے اور وہی ملک کا مستقبل ہے

×
arrow_upward DanishGardi