Home Forums Siasi Discussion پاکستانی سیاست کی نئی صورتحال پاکستانی سیاست کی نئی صورتحال

#26
Awan
Participant
Offline
Thread Starter
  • Professional
  • Threads: 152
  • Posts: 2951
  • Total Posts: 3103
  • Join Date:
    10 Jun, 2017

Re: پاکستانی سیاست کی نئی صورتحال

اعوان بھائی، پیسے امریکہ سے آرہے تھے یا جہاں سے بھی آرہے تھے ملک میں ترقی ہو رہی تھی پیٹرول سو ڈالر سے اوپر ہونے کے باوجود کم نہیں ہوا تھا، پاور کرائسس آیا بھی ترقی کی وجہ سے ہی تھا ظاہر ہے لوگوں کے پاس دولت آرہی تھی ، سائکلوں والوں سے موٹر سائکل اور موٹر سائکل والوں نے کاریں خریدلیں تھیں جنکے پاس نہیں تھے انہوں نے پنکھے خریدے ، پنکھے والوں نے اے سی خریدے صنعت کا پہیہ چلا انفرا اسٹرکچر کے منصّوبے شروع ہوئے ظاہر ہے کہ توانائی کا بحران تو آنا ہی تھا مگر مشرف نے جتنی ادارہ جاتی اصلاحات کیں انکا عشر عشیر بھی کسی سول حکومت نے نہیں کیا پچاس ہزار لوگ تو نہیں مرے مگر پاکستان میں جو بھی شورش تھی وہ پاکستانیوں کی اپنی رجعت پسندی اور طالبان سے لو افئیر کا خمیازہ تھی یہ جو آج میاں صاحب فوجی آپریشنوں کے نتیجے میں آنے والے امن کا کریڈٹ لیتے ہیں اور یہ منافق خان جو طالبان کو پشاور میں دفتر کھولنے کی آفر کرتا تھا اس وقت دہشت گردی اور طالبان کے حمایتی تھے آپ اگر گہرائی میں جاکر دیکھیں تو ان ہی لوگوں نے طالبان اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صرف سیاست کی وجہ سے رکاوٹیں کھڑی کیں جو جنگ پوری قوم کو ٢٠٠٠ – ٢٠٠٥ میں لڑنی چاہئے تھی وہ بلآخر ٢٠١٤ میں پشاور کے بچوں کی جانوں کا زبردستی نذرانہ لے کر لڑی گئی اور ڈھٹائی اتنی ہے کہ اسکا کریڈٹ لینے سے بھی نہیں چوکتے ہیں آپ کو اپنی بات کہنے اور اپنے نظریات پر ڈٹے رہنے کا مکمل استحقاق ہے مگر مجھے خوشی ہے کہ فلحال میاں صاب کے موجودہ جرات مندانہ بیانیہ نے پہلی مرتبہ فوجی جنتا کو اگر پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں بھی کیا ہے تو پیش قدمی ضرور روک دی ہے میاں صاب کو جس بے مزہ اقتدار کی طرف آپ دھکیلنا چاہ رہے ہیں میاں صاب نے ایسے اقتدار کے مزے تین دھائیوں تک ایسے اٹھاے ہیں کہ آج نا اہل ہو کر پلیٹیں کلچ اوپر نیچے کرکے انکو بھاگنا پڑا لہذا اب میاں صاب نہیں چاہتے کہ اس قسم کا پھیکا اقتدار انکی بیٹی اور دامادوں کی یونین کے جنرل سیکریٹری کو ملے لہذا ووٹ کی عزت کے نعرے کے لئے میاں صاحب نے اہل پنجاب کے لہو کو گرمانا شروع کردیا ہے اسکا شاندار نتیجہ تو آپکے سامنے ہے ڈسکہ میں جسطرح عوام نے اپنے حق کا دفاع کیا ہے وہ اسی جرات کا نتیج ہے ساتھ میں فوجی ترجمانوں کو بھی بار بار آکر ہاتھ جوڑ اعلان کرنا پڑتا ہے کہ پائی ساڈا سیاست نال کویی تعلق نہیں ہے یہ سب میاں صاب کی برکات ہی ہیں مگر آپ کی بات بھی درست ہے آخر آپ بھی تو میاں صاحبان کے بھلے کے لئے مشورے دیتے ہیں :bigsmile: :bigsmile: :bigsmile:

گھوسٹ بھائی میں پنجاب کا رہنے والا اور پنجاب کی سیاست کو تیس سال سے زیادہ عرصہ دیکھنے اور پڑھنے والا ہوں – پنجاب میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ ووٹ بہت کم ہے – پنجاب کو چڑھتے سورج کے پجاری کہا جاتا ہے – پنجاب ہی نے ہر مارشل لاء کی حمایت کی – ڈسکہ الیکشن کے جیتنے کی بہت سی وجوہات ہیں – پہلی یہ کہ نون لیگ کے گڑھ میں ہے – دوسری یہ کہ یہ سیٹ دو ہزار اٹھارہ کے نون لیگ کے خراب ترین حالات میں بھی نون لیگ نے چالیس ہزار ووٹ کے مارجن سے جیتی تھی – تیسری کمر توڑ مہنگائی اور چوتھی یہ کہ عوام کو اب تحریک انصاف کے وعدوں کا اعتبار نہیں حالانکے تحریک انصاف کے لوگوں نے یہاں پچاس کروڑ کے منصبوں کا اعلان کیا تھا الیکشن جیتنے کی صورت میں – خان صاحب کا ووٹ بینک ملک میں ہر جگہ ہی خیر کم ہوا ہے اس کی سب سے بڑی وجہ مہنگائی ہے دوسری بے روزگاری اور تیسری بری گوورنس ہے – آپ کی اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست سے محبت اپنی جگہ لیکن اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست کر کے فلحال پاکستان میں حکومت نہیں لی جا سکتی – اگر میاں صاحب ڈیل کر کے ملک سے باہر جا سکتے ہیں تو ڈیل کر کے نون لیگ کی اگلی حکومت کا راستہ بھی ہموار کر سکتے ہیں یہ الگ بات ہے میاں صاحب کو وزیر اعظم کبھی نہیں بننے دیا جائے گا – اسٹیبلشمنٹ کے لئے سب سے قابل قبول تو یہی ہے کہ میاں صاحب اور مریم ملک سے باہر رہیں اور وہاں سے ہی شہباز اور حمزہ کے لئے مہم چلائیں لیکن ڈیل اس بات پر بھی ہو سکتی ہے کہ میاں صاحب پر سے مقدمے ختم کر دئے جائیں اور انہیں ملک واپس بھی آنے دیا جائے البتہ وزارت عظمیٰ کی نا اہلی برقرار رکھی جائے – پارٹی قائد پر سے بھی پابندی اٹھ سکتی ہے مگر وزارت عظمیٰ پر سے نہیں اٹھے گی – یہ ڈیل دو ہزار سترہ سے دستیاب تھی مگر اس وقت میاں صاحب اور کلثوم نواز غصے میں تھے اور کلثوم سب کچھ اپنے دیوار اور دیوار کے بیٹے کو نہیں دینا چاہتی تھیں – اس کے کے بھد سے پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے کلثوم نواز کب سے مرحومہ ہو چکی ہیں – اگلے الیکشن سے پہلے میاں صاحب کو وطن کی یاد ضرور ستائے گی ویسے بھی میاں صاحب کے کس بل تب کافی حد تک نکل چکے ہونگے – یہ خوائش کم اور سیاسی تجزیہ زیادہ ہے – خوائش تو یہ ہے کہ میاں صاحب چوتھی بار وزارت عظمیٰ کا حلف لیں اور شہباز شریف ایک بار پھر وزیر اعلی پنجاب بنے مگر اب یہ ممکن نہیں ہے –

×
arrow_upward DanishGardi