Home Forums Siasi Discussion پاکستانی سیاست کی نئی صورتحال پاکستانی سیاست کی نئی صورتحال

#11
Zaidi
Participant
Offline
  • Advanced
  • Threads: 19
  • Posts: 939
  • Total Posts: 958
  • Join Date:
    30 May, 2020
  • Location: دل کی بستی

Re: پاکستانی سیاست کی نئی صورتحال

کون کس کا ساتھ دے گا اور اندرکھاتے کیا چل رہا ہے یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے مگر حکومت بنوانے والا موجد جہانگیر ترین خود اپنی ہی بنای ہوی حکومت کو گرانے کے موڈ میں ہے سب سے خطرناک اپوزیشن نہیں بلکہ جہانگیر ترین ہے وہ اندر کا بھیدی ہے اور ان کی خامیاں اور خوبیان سب جانتا ہے اسے معلوم ہے کہ جن لوگوں کو اس نے کامیاب ہونے کے بعد پی ٹی آی مٰں شامل کروایا تھا ان کو کیا آفرز کی تھیں اور آج اگر دوبارہ ان کو واپس لانا ہے تو کیا کرنا ہوگا حکومت میں اگر تھوڑی سی بھی عقل باقی ہے تو جہانگیر ترین سے پنگا لینے کی کوشش نہ کرے کیونکہ جہانگیر ترین نے واضح اور کھلے لفظوں میں حکومت کو تنبیہ کردی ہے کہ وہ دوست ہے اسے دشمن کیوں بنا دیا گیا ہے اور غیر منتخب لوگ کیوں منتخب نمائندوں پر مسلط کردئیے گئے ہیں جہانگیر ترین جب عمران کے دائیں ہاتھ بیٹھتا تھا اس وقت بھی اس کی خاتون اول کے ساتھ نہیں بنتی تھی اور خاتون اول نے بھی ترین کے اپنے بارے میں ریمارکس کو اس کے منہ پر بول کر جتایا تھا کہ اس کو سب پتا چل رہا ہے تاکہ ترین محتاط رہے جہانگیرترین جب چاہے حکومت گرا سکتا ہے اور پنجاب کی حکومت تو ایکدن میں جاسکتی ہے اس وقت جتنا بڑا خطرہ ترین بنا ہوا ہے اس قدر خطرہ تو اپوزیشن تین سال میں پورا زور لگانے کے باوجود نہیں بن سکی اب جو بھی ہوگا اس کا انحصار ترین کی اگلی چال پر ہوگا، ترین کی پوزیشن اتنی مضبوط ہے کہ وہ ایک اشارہ بھی کرے تو تمام سیاسی پارٹیاں الٹے قدموں بلکہ سر کے بل بھاگتی ہوی آئیں گی لب لباب یہ ہے کہ اس وقت حکومت کو شدید خطرہ ہے اور وہ خطرہ ترین ہے جسکے ساتھ اپوزیشن تو لگ چکی ہے وہ خود ہی ابھی کوی رسپانس نہیں دے رہا ڈسکہ میں زندگی موت کا معاملہ تھا وہاں بھی حکومت ہارتی ہے تو بہت سبکی ہوگی اور اگر ن لیگ ہار گئی تو ان کی بھی بہت بے عزت ہوگی اگر ڈسکہ میں پی ٹی آی ہار گئی تو بہت بڑی ہار ہوگی اوپر سے جہانگیر ترین کا خطرہ سر اٹھا چکا ہے، ممبران ساتھ چھوڑ رہے ہیں اور چوہدری برادران کیلئے بھی آپشن اب ختم ہوتے جارہے ہیں یہ بھی چانس ہے کہ مایوسی کے عالم میں عمران خود ہی اسمبلیان توڑ دے

بلیور صاحب، اس وقت ملک کا اور اسکی معاشت کا جو حال ہے اس کی وجہ سے اس حکومت کو عبوری مدت کے لیے کوئ ھاتھ لگانا پسند نہیں کرے گا ۔ اس وقت بڑے سے بڑا اکنامسٹ بھی اس اکانمی کو ایک یا دو سال میں درست نہیں کرسکتا۔ اس سال اور اگلے سال جو قرض کی ادائیگی کرنی ہے وہ ایک ایسا کوہ گراں ہے جو کسی سے اٹھایا نہیں جائے گا۔ ریوینیو کی حالت آپ کے سامنے ہے ۔ جی ڈی پی بمشکل ایک فیصد بھی نہیں ہوگی ۔ ملک کی اکانمی کو جام لگا ہوا ہے ۔ نہ گروتھ ہوگی ، نہ ریونیو بڑھے گا اور نہ ہی روزگار کے مواقع فراھم ہونگے ۔

بوٹ سرکار کو سب سے زیادہ فکر اپنے بجٹ کی ہے جو موجودہ حالات میں برقرار نہیں رکھا جاسکتا اور یہی صورتحال رہی تو اس بجٹ کو ھر حال میں آئیندہ آنے والے سالوں میں کم کرنا پڑے گا ، اس بات سے ان میں کھلبلی مچی ہوئ ہے ۔
عمران خان سے یہ اکانمی چلنے کی نہیں اور نہ ہی اس کے پاس کوئ ایسا بندہ ہے جو اسے ٹھیک راہ پر لے آئے ۔
افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ عمران نے اپنی نالائقی، ناتجربہ کاری اور اپنی انا کی خاطر نہ صرف پی ٹی آئ کو ڈبویا بلکہ پورے ملک کو کھڈے لائن لگا دیا ہے ۔

ایسے عالم میں ایک نون لیگ تو کیا ھزاروں نون لیگ بھی اس عوام کو کوئ ریلیف نہیں دے سکتی اور نہ ہی کوئ اور جماعت اس حالت میں مختصر مدت میں ملک کو ٹھیک کر سکتی ہے ۔

×
arrow_upward DanishGardi