Home Forums Non Siasi ڈاکو ہو مگر اناڑی نہ ہو ڈاکو ہو مگر اناڑی نہ ہو

#2
Believer12
Participant
Offline
  • Expert
  • Threads: 398
  • Posts: 9103
  • Total Posts: 9501
  • Join Date:
    14 Sep, 2016

Re: ڈاکو ہو مگر اناڑی نہ ہو

جیسے کراچی والوں نے کرمنالوجی پر پی ایچ ڈی کررکھی ہے اسی طرح میں نے بھی اس سبجیکٹ پر کم از کم ماسٹرز تو کررکھا ہے

ہماری رہائش ایسی جگہ ہے جہاں پر بہت بڑا اور خاصا بہتر یعنی گراسی گراونڈز یا پارک ہے جس میں فٹبال، ہاکی ،کرکٹ اور اتھلیٹکس حتی کہ سیر کرنے والوں کیلئے ٹریک تک موجود ہے چاروں طرف دیواراور درخت لگاے گئے ہیں۔  اسدفعہ جب میں گیا تو کافی دوست اس ایریا میں شام کے بعد سیر کرنے سے رک گئے تھے پارک میں ایک حصہ کے متعلق کافی چہ میگوئیاں ہورہی تھیں کیونکہ دو فٹبال گراونڈ کے برابر وہ حصہ ایک تو کافی خستہ ہورہا تھا اور کسی قسم کی لائٹنگ کا انتظام بھی نہیں تھا۔ لوگ شام کے بعد ادھر جانے سے کنی کترانے لگ گئے تھے اور میری یہ عادت کہ جب بھی جانا ہے تو زیادہ فاصلہ بھی کرنا پڑے تو وہیں سے گزرنا ہے۔ وہاں بہت سکون ہوتا ہے۔دوستوں نے بتایا کہ نشئی ادھر جوا کھیلتے اور نشہ کرنے کے بعد ساری رات پڑے ملتے ہیں لوٹنے کی وارداتیں بھی عام ہوچکی ہیں جس میں لٹنے والے زخمی بھی ہوچکے ہیں جس میں خنجر بازی اور پستول دکھا کر پیسے لوٹنا وغیرہ ہوتا ہے۔ سب سے سنگین واردات جو اس کے ساتھ ہی ایک گھر میں ہوی وہ ڈکیٹی کی واردات میں دو عورتوں کا بہیمانہ قتل تھا۔ قاتل پکڑے گئے تھے کیونکہ خوشقسمتی سے محرم کی وجہ سے رینجرز موجود تھے انہوں نے پولیس کو سپورٹ فراہم کی اور ایک ماہر کھوجی نے قتل اور ڈکیٹی کی ورادات کا کھرا موقع پر ہی نکال لیا اور ریجنرز کے جوانوں نے ایک گھر جس کے دروازے پر تالا لگا ہوا تھا کی دیواریں پھلانگ کر اندر سے دو ڈاکو پکڑ لئے جو کراے پر رہتے تھے اور تیسرا ان کا ساتھی ایک عیسای تھا جو ساتھ والے گاوں سے صبح سویرے جاپکڑا۔میں اس کے باوجود باز نہیں آیا اور وہیں سے گزرتا رہا۔ایکدن کچھ زیادہ وقت ہوگیا عشا کی ازان بھی ہوچکی تھی دوستووں کو خیرباد کہہ کر میں اکیلا ادھر سے واک کرتے ہوے اپنی رہائش کیطرف رواں دواں تھا جب میں اس بہت بڑے پارک سے گزرنے لگا تو تقریبا سو گز دور مجھے ایک گروہ نوجوانوں کا بیٹھا دکھای دیا اندھیرے میں وہ صرف ہیولے لگ رہے تھے۔ میں واپس مڑ سکتا تھا مگر سوچا کہ ایسے ہی نوجوان بیٹھے ہونگے۔ جب میں ان سے صرف بیس گز دور تھا تو ایک نوجوان اٹھ کرباقی گروپ سے چند قدم دور پیشاب کرنے دیوار کے ساتھ بیٹھ گیا میں سمجھ گیا کہ اب انہوں نے مجھے نرغے میں لینے کا پلان بنا لیا ہے اور دونوں طرف سے مجھے قابو کریں گے یا ہوسکتا ہے اگر میں ان سے مزاحمت کروں تو پیچھے سے جو بندہ دیوار کے ساتھ بیٹھا ہے اٹھ کر مجھے پیچھے سے قابو کرے یا ہوسکتا ہے کوی بوتل وغیرہ میرے سر پر مار کر ڈھای تین سو کا نقصان بھی کروادے۔ دو تین ہزار جیب میں بھی تھے خیر جب میں ان کے بالکل قریب پنہچ گیا تو اس گروپ میں سے سرگوشیانہ سی ایک آواز آی،،،اوے ،،،،پای  روف  ای۔۔۔۔۔۔۔ باقی آپ خود سمجھدار ہیں۔ میں ان کے قریب سے گزر کر گھر آگیا مگر کسی نے مجھے روکنے یا لوٹنے کی کوشش نہیں کی

دراصل وہ گروہ انہی نشئیوں اور لٹیروں کا تھا مگر ان میں  سے اکثر میرے محلے کے ہی تھے لہذا بچت ہوگئی

:jhanda:

  • This reply was modified 3 months, 3 weeks ago by Believer12.
×
arrow_upward DanishGardi