Home Forums Non Siasi گوجرانوالہ کے قریب پولیس کی موجودگی میں احمدیوں کی عبادت گاہ کے مینار مسمار کر دیے گئے گوجرانوالہ کے قریب پولیس کی موجودگی میں احمدیوں کی عبادت گاہ کے مینار مسمار کر دیے گئے

#88
Believer12
Participant
Offline
  • Expert
  • Threads: 398
  • Posts: 9103
  • Total Posts: 9501
  • Join Date:
    14 Sep, 2016

Re: گوجرانوالہ کے قریب پولیس کی موجودگی میں احمدیوں کی عبادت گاہ کے مینار مسمار کر دیے گئے

آپ کی پوسٹ کا یہ حصہ بہت اہم اور قابل غور ہے لہذا میں نے آپ کے اقتباس کے نیچے دی گئی کتاب بعنوان ” انجام آتھم”” آن لائین ویب سائیٹ سے ڈاون لوڈ کرکے پڑھی ہے چونکہ مختصر کتاب ہے بہت جلدی میں پڑھ لی اور یہ سوال پھر اٹھا جس کا جواب آپ دے سکیں تو میرے علم میں اضافہ ناگزیر ہے

عبداللہ آتھم ہندوستان میں تقسیم سے پہلے انگریز کا مقرر کردہ ہیڈ پادری تھا۔ اس نے رسول کریم :pbuh:   کی شان میں جو گستاخیاں کی تھیں ان کے جواب میں مسلمان اور عیسای دو گروہ بن چکے تھے، مسلمانوں کے گروہ کی قیادت مرزا غلام احمد صاحب کررہے تھے جو اس وقت تک علما کی آنکھ کا تارہ تھے اور علم تو ظاہر ہے ان کے پاس تھا

عیسای ہیڈ پادری کے ساتھ مناظرہ بہت تفصیلی ہے مگر یہ جو باتیں حضرت عیسی کے متعلق لکھی گئی ہیں وہ مرزا غلام احمد صاحب نے انجیل سے نوٹ کی ہیں اور ان کے ریفرینس صفحہ نمبر سمیت دیا گیا ہے۔ جو آپ  والے مصنف نے شائد مخالفت کی وجہ سے دینا مناسب نہیں سمجھا کیونکہ اس سے قاری کو پتا چل جاتا ہے کہ عیسائیوں نے یہ باتیں خود اپنے نبی کے بارے میں اپنی مقدس کتاب میں لکھی ہیں اور جب وہ نبی پاک :pbuh:   کی ذات پر حملے کررہے تھے اور ان کا ہیڈ پادری بہت بڑھ چڑھ کر عیسی علیہ سلام کی تعریف اور نبی پاک کی توہین کررہا تھا تو مرزا صاحب نے انہی کی کتاب میں سے یہ اقتباس نکال کر کہا کہ تم لوگ تو اپنے نبی کی عزت نہیں کرتے تو ہمارے نبی کی عزت کیسے کرسکتے ہو؟

اپنی کتاب کے شروع میں ہی مرزا صاحب نے یہ لکھ دیا تھا کہ یہ باتیں عیسائیوں کی اپنی کتاب میں اپنے ہی نبی کے بارے میں لکھی ہوی ہیں جن پر ہم مسلمان بالکل یقین نہیں رکھتے مگر عیسای اپنے نبی کے بارے میں کیا یقین رکھتے ہیں وہ بتانے اور ان کو نبی پاک :pbuh:   کی توین سے روکنے کیلئے یہ باتیں ریفرینس کے ساتھ شائع کی جارہی ہیں

×
arrow_upward DanishGardi