Home Forums Non Siasi گوجرانوالہ کے قریب پولیس کی موجودگی میں احمدیوں کی عبادت گاہ کے مینار مسمار کر دیے گئے گوجرانوالہ کے قریب پولیس کی موجودگی میں احمدیوں کی عبادت گاہ کے مینار مسمار کر دیے گئے

#87
Believer12
Participant
Offline
  • Expert
  • Threads: 398
  • Posts: 9103
  • Total Posts: 9501
  • Join Date:
    14 Sep, 2016

Re: گوجرانوالہ کے قریب پولیس کی موجودگی میں احمدیوں کی عبادت گاہ کے مینار مسمار کر دیے گئے

میں تو آپ کے علم اور تجربے کے آگے طفل مکتب ہوں مگر پھر بھی آپ کی اتنی محنت سے اکٹھی کی گئی تحاریر پڑھ کر کچھ سوالات دماغ میں اٹھ رہے ہیں اگر مناسب ہو تو جواب دے دیں؟

اگر ضیاالحق ایک احمدی تھا اس کا باپ اکبر علی بھی احمدی تھا مگر اس کے باوجود ضیا نے صدر کی حیثیت سے ایک آرڈیننس جاری کروایا تھا جس کی وجہ سے احمدیوں کو جیلوں میں ڈالا گیا، جنرل ضیا کیسا احمدی تھا جو اپنی ہی برادری کے خلاف ایسا آرڈیننس جو اب تک آئین کا حصہ ہے لاگو کروا دیتا ہے؟ اس آرڈیننس کا ملاحضہ فرمائیں

آرڈیننس 20 ایک قانونی آرڈیننس ہے جو سابق پاکستانی صدر جنرل محمد ضیاء الحق کی سربراہی میں حکومتِ پاکستان نے پاکستان کی قومی اسمبلی میں پیش کیا۔ اس قانون کا مقصد احمدیہ جماعت کے پیروکاروں پر بعض پابندیاں عائد کرنا تھا۔ چنانچہ اس قانون کی رو سے احمدیہ جماعت کے پیروکاروں کے لیے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنا جرم قرار دیا گیا ہے۔ ان کے لیے اپنے آپ کو مسلمان کہنا، اسلامی طریق پر سلام کرنا، متعدد اسلامی اصطلا حات کا استعمال ممنوع قرار پائے ہیں۔

اس قانون کے ذریعہ پاکستان کے ضابطہ فوجداری کی شق 298 میں دو حصوں کا اضافہ کیا گیا ہے

شق بی 298

۔ اس شق کے تحت کسی بھی فرد کو جو احمدیہ جماعت سے ہو اپنے آپ کو احمدی کہلوانا ممنوع قرار دیا گیا ہے   کہ وہ بول، لکھ یا کسی اور طریقہ سے کسی کو “”امیر المومنین” یا “خلیفہ المومنین” یا “خلیفہ المسلمین” یا “صحابی” یا “رضی اللہ عنہ” کہے۔ (ب) آنحضور ﷺ کی ازواج کے علاوہ کسی کو “ام المومنین” کہے۔ (ج) آنحضور ﷺ کے خاندان کے اہل بیت کے علاوہ کسی کو “اہل بیت” کہے۔ (د) اپنی جائے عبادت کو “مسجد” کہے۔

ان سب امور کے لیے ایسا کرنے والا احمدی تین سال تک قید نیز جرمانہ کی سزا کا حق دار ہو گا۔

۔ اس شق کے مطابق “قادیانی گروہ یا لاہوری گروہ کے کسی رکن کو جو اپنے آپ کو ‘احمدی’ یا کسی اور نام سے پکارے” اپنی عبادت کے لیے بلانے کے طریق کو “اذان” کہنے یا مسلمانوں کے طریق پر عبادت گاہ کو مسجد کہنے کی صورت میں تین سال تک قید نیز جرمانہ کی سزا کا حق دار ہو گا۔

شق سی 298

اس شق کے تحت احمدی کہلانے والوں کے لیے خواہ وہ قادیانی فریق سے تعلق رکھتے ہوں یا لاہوری فریق سے، قرار دیا گیا ہے کہ اگر وہ اپنے آپ کو “براہ راست یا بالواسطہ” مسلمان کہیں یا اپنی مذہب کو اسلام کہیں یا اپنے مذہب کی اشاعت یا تبلیغ کریں یا کسی بھی طریق پر مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کریں تو ان سب صورتوں میں تین سال تک قید اور جرمانہ کے مستحق ہوں گے۔

اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ضیا نے ایک آرڈیننس کے ذریعے احمدیوں کو اذان دینے، مسجد کو مسجد کہنے،  اسلام علیکم کہنے، مسلمانوں کی طرز پر نماز پڑھنے اور ہر ان اسلامی شعائر سے روک دیا ہے جو مسلمان کرتے ہیں

اس سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ضیا اور اس کا خاندان احمدی نہیں تھا اور ضیا کو احمدی کہنے والا جھوٹ لکھ رہا ہے اور ایسے جھوٹے انسان کی کوی تحریر بھی قابل اعتبار نہیں۔ اب تو ان مذہبی علما کا بھانڈہ بھی پھوٹ چکا ہے کوی ان کو قابل اعتبار نہیں سمجھتا؟

×
arrow_upward DanishGardi