Home Forums Siasi Discussion تواڈیاں جوتیاں تواڈے سر تواڈیاں جوتیاں تواڈے سر

#6
Believer12
Participant
Offline
  • Expert
  • Threads: 397
  • Posts: 9087
  • Total Posts: 9484
  • Join Date:
    14 Sep, 2016

Re: تواڈیاں جوتیاں تواڈے سر

میں نے سنا ہے کہ انسان اپنے کردار سے پہچانا جاتا ہے ۔ لفظوں کے علم گاڑنے والے اس ملک کے طول و عرض میں ہمیشہ سے پیدا ہوتے رہے ہیں ۔ عمران کا یہ قول بالکل سو فیصد اس کے عمل پر پورا اترتا ہے کہ جب چھوٹے لوگ بڑے عہدوں پر بیٹھ جاتے ہیں تو اخلاقی گراوٹ کس قدر بڑھ جاتی ہے ۔ ہم اس کا عملی مشاہدہ ہر روز اپنے ٹی وی کی سکرین پر دیکھتے ہیں ۔ بات کلثوم نواز کے بستر مرگ پر بھیجے گئے جاسوس کے بارے میں ہو ، نعیم الحق کے نیشنل ٹی وی پر بیٹھ کر طمانچے مارنے کی بات ہو ،فوائد چودھری کے اپنے باپ کی عمر کے سمیع ابراھیم کے منہ پر بھری محفل میں تھپڑ کی بات ہو یا اینکر مبشر لقمان کے منہ پر مکا ، پی ٹی آئ اور ان کے لیڈران کی یہ پہچان پوری قوم پچھلے دو ڈھائ سال سے دیکھتی چلی آرہی ہے ۔

مجال ہے کہ اس عرصہ میں پی ٹی آئ کے لیڈران نے ایک دفعہ بھی اس طرز عمل کی مذمت کی ہو یا اس بات کا ارتکاب کرنے والے کو کوئ سزا دی گئ ہو ۔

کل کے واقعہ نے ابو جہل کو قبر میں پیغام تہنیت دیا ہے کہ اس کی دی ہوئ روایت کے پیروی کرنے والے دنیا میں ابھی باقی ہیں ۔ کیا اسلام آباد کل صرف ابوجہل کے حمایتوں کے علاوہ سب کے لیے بند تھا ؟ کیا پاکستان میں اپنی آزادانہ آواز اٹھانے پر پابندی ہے ؟ کیا اسلام آباد میں کل حکومتی طرز عمل پر تنقید کرنے پر پابندی تھی ؟ پی ٹی آئ کے مستند غنڈے پارلیمنٹ کے باہر کھڑے ہو کر کیا تاثر دینا چاھتے تھے ۔ یہ ملک کسی کے باپ کی جاگیر نہیں ہے کہ وہ کسی کو اسلام آباد آنے سے روکیں ۔ ملکی سیاست میں تشدد کا یہ عنصر اور سوویلین ڈکٹیٹر شپ کی یہ مثال پی ٹی آئ جیسی فاشسٹ پارٹی نے ہی متعارف کروائ ہے ۔ جو لوگ پی ٹی آئ کے فین کلب ( سیاست پی کے) کا مطالعہ کرچکے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہی پی ٹی آئ کے حمایتی کس قسم کی زبان کا استعمال کرتے ہیں ۔ اور انکی سیاسی تربیت کی پشت پر کونسے عوامل کارفرما ہیں ۔

لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئ زد میں یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے ۔ ہمارے منہ سے جو نکلے وہی صداقت ہے ہمارے منہ میں تمہاری زبان تھوڑی ہے جو آج صاحب مسند ہیں کل نہیں ہونگے کرائے دار ہیں ، ذاتی مکان تھوڑی ہے سبھی کا خون ہے شامل ، یہاں کی مٹی میں کسی کے باپ کا ” پاکستان” تھوڑی ہے ۔

زیدی صاحب پی ٹی آی تو اگلے الیکشن میں شائد رہے بھی کہ نہ مگر یہ بات درست ہے کہ جس قوم کے اخلاقیات گر جائین وہ قوم بھی گر جاتی ہے یہاں یورپ میں اختلافات بھی ہوں تو اخلاقیات سے گری بات نہیں کی جاتی خود اپنے ہی پارٹی ممبران ٹوک دیتے ہیں یا معافی مانگ لیتے ہیں آپ کبھی نہیں سنیں گے کہ اپوزیشن لیڈر نے پرائم منسٹر کو سلطان راہی کے انداز میں اوے یلسن کہہ کر مخاطب کیا ہو

×
arrow_upward DanishGardi