Home Forums Siasi Discussion پلان بی ؟ پلان بی ؟

#15
Awan
Participant
Offline
Thread Starter
  • Professional
  • Threads: 152
  • Posts: 2949
  • Total Posts: 3101
  • Join Date:
    10 Jun, 2017

Re: پلان بی ؟

اعوان بھائی، نواز شریف کو میں پاکستان کی تاریخ کا سب سے قیمتی سیاسی اثاثہ کسی وجہ سے ہی سمجھتا اور کہتا ہوں کہا جاتا ہے کہ جب دیوار سے لگایا جاتا ہے تو بلی بھی شیر (کاغذی ہی سہی) سے لڑجاتی ہے خیر بلیوں اور انکے لڑنے کی کس کو فکر ہے میاں صاحب کی اسناد میں سب سے اہم انکا “اصلی” تے “وڈی” نسل کی بلی ہونا ہے لہذا جب وہ پنجے مارتی ہے تو خراشیں بھی لگتی ہیں اور جوابا ایک حد سے آگے جانے میں شیر کی ٹانگیں بھی کانپتی ہیں میاں نواز شریف کو جس بات کا کریڈٹ دینا بنتا ہے وہ ہے کہ انہوں نے پنجے مارے ہیں خراشیں لگائی ہیں ورنہ وہ “اپنے” کھربوں کے ساتھ کسی عرب یا ولایتی ملک میں خاموشی اور لا تعلقی کی زندگی بھی سکون سے گزار سکتے تھے اور یہ بات درست ہے کہ ان پنجوں کے مارنے اور خراشیں لگنے سے ٹیکٹی کلی ہی شائد کاغذی شیر خاموشی اور لاتعلقی کا مظاہرہ کرنے کی اداکاری پر مجبور ہوجائے. یہ اداکاری کب اور کتنی دیر تک جاری رہتی ہے اس بات کا انحصار “دیگر عوامل” کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی ہے کہ پنجاب کی عوام اپنے لیڈر کے لئے کس حد تک جانے کے لئے تیار رہتی ہے. باقی پلان بی وغیرہ قابل اور دور اندیش قسم کے لوگوں کی عیاشی ہوتی ہے یہ نخوت کے مارے نیم خواندہ کاغذی شیروں کے بس اور قابلیت سے آگے کی چیز ہے سہیل وڑایچ کی روزی روٹی کی مجبوری ہے سامنے نظر آنے والی اجزائے ترکیبی کو ملا جلا کر مکس چاٹ بنانا ہی انکا ہنر ہے جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ کاغذی شیر ملکی کاروباری باگ و دوڑ سے بغیر کسی انتہائی مضبوط عامل کے اپنا ہاتھ مستقبل قریب میں کیھنچ سکتے ہیں دیوانے کی بڑ ہے، انکو بدرجہ اتم اس بات سے آگاہی ہے کہ اعوانوں ، حفیظوں ، اطہروں کا انقلابی کیڑا میاں صاحبان کو ریلیف ملنے سے مشروط ہے علاوہ پنجاب باقی پورے ملک میں وہ سیاسی انجینیرنگ کرتے رہیں اور یہ انقلابی تالیاں پیٹتے رہیں گے

گھوسٹ بھائی بلی کو جب بھی شیر سے خطرہ ہوتا ہے تو درخت پر چڑھ جاتی ہے اور شیر کو اس نے درخت پر چڑھنا سکھایا نہیں ہے – اس بار تو بلی پوری شیر کے حصار میں آ چکی تھی اور شیر کے پیچھے چھپا ایک گیڈر کہہ رہا تھا مار دو بچ کر نہ جائے – بلی آخر شیر کی پرانی رشتے دار ہے کچھ تحلقات بیچ میں ڈال کر پھر بھاگ گئی ہے – میاں صاحب کے تین بار وزیر اعظم بننے میں دو باتیں تھیں ایک تو وہ عوامی کام کر کے عوام کو اپنے پیچھے لگاتے تھے اور انہیں کی پارٹی سے پرو اسٹیبلشمنٹ عناصر جیسے شہباز شریف اور چودھری نثار وغیرہ گارنٹی دیتے تھے میاں صاحب اس بار آپ سے پنگا نہیں لینگے – مصیبت یہ ہے سب حربے آزما کر بھی دو ہزار اٹھارہ کے

الیکشن میں میاں صاحب کا ووٹ پنجاب سے زیادہ تھا – باقی سول بالادستی کی تاریخ جب بھی لکھی جائیگی تو میاں صاحب کو اس میں بلند مقام ملے گا – ویسے سول بالادستی کی تاریخ لکھے گا کون سورما ؟

:lol:

  • This reply was modified 4 months, 3 weeks ago by Awan.
×
arrow_upward DanishGardi