افسر علامہ اقبال کی تصویر دکھاتا رہا، مالی مجسمہ بناتے رہے

Home Forums Non Siasi افسر علامہ اقبال کی تصویر دکھاتا رہا، مالی مجسمہ بناتے رہے افسر علامہ اقبال کی تصویر دکھاتا رہا، مالی مجسمہ بناتے رہے

#11
Bawa
Participant
Offline
  • Expert
  • Threads: 154
  • Posts: 15454
  • Total Posts: 15608
  • Join Date:
    24 Aug, 2016

Re: افسر علامہ اقبال کی تصویر دکھاتا رہا، مالی مجسمہ بناتے رہے

ایک اعلیٰ افسر نے مالیوں سے کچھ عرصہ قبل کہا تھا کہ پارک کا نام ’گلشن اقبال‘ ہے تو ادھر علامہ اقبال کا ایک مجسمہ ضرور ہونا چاہیے ،،،،،،،،، وہ افسر ہمیں علامہ اقبال کی تصویر دکھاتا تھا اور ہم مجسمہ بناتے جاتے تھے ،،،،،، ہمیں اس مجسمے کے گرد لگی باڑ کو توڑنے اور مجسمے کو کپڑے سے ڈھانپنے کا کہا گیا ہے

======================================

ایک مراثی کسی محفل میں انتہائی بے سرا گا رہا تھا کہ ایک آدمی کو غصہ آگیا اور وہ جوتا ہاتھ میں پکڑ کر کھڑا ہوگیا. مراثی آدمی کو غصے میں دیکھکر سہم گیا اور گانا بند کر دیا. وہ آدمی مراثی کو مخاطب کرکے بولا

سوہنیا، توں گانا گاندا رہ، میں تو اسے ڈھونڈ رہا ہوں جو تجھے یہاں لے کر آیا ہے

————————-

قوم بھی غصے کی حالت میں ہاتھ میں جوتا کپڑے اس سلیکٹر افسر اعلی کو ڈھونڈ رہی ہے جسے ان سلیکٹڈ مالیوں میں مجسمہ سازوں کی خوبیاں نظر آتی ہیں

اب سلیکٹر افسر اعلی لاکھ مجسمے کو کپڑوں سے ڈھانپ کر سلیکٹڈ مالیوں کے کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرے لیکن اپنی نا اہلی قوم سے چھپا نہیں سکتا ہے

Navigation

DanishGardi