بہت کچھ گزر گئی اور باقی تھوڑی گزر جاۓ گی

Home Forums Hyde Park / گوشہ لفنگاں بہت کچھ گزر گئی اور باقی تھوڑی گزر جاۓ گی بہت کچھ گزر گئی اور باقی تھوڑی گزر جاۓ گی

#9
Believer12
Participant
Offline
  • Expert
  • Threads: 392
  • Posts: 9006
  • Total Posts: 9398
  • Join Date:
    14 Sep, 2016

Re: بہت کچھ گزر گئی اور باقی تھوڑی گزر جاۓ گی

زیدی بھائی! ایک طالبعلم کی حیثیت سے میرا سوال ہے کہ ساری دنیا کو اللہ کے وجود کا حصہ تصور کرنے والا فلسفہ مسلمانوں کی حد تک تو تسلیم کیا جاسکتا ہے لیکن ہم سے دوگنا تعداد میں اس کرّے پر غیر مسلم بستے ہیں، بلکہ اگر اسے مزید محدود کردیا جائے تو یوں کہا جاسکتا ہے کہ اللہ کے وجود کا انکار کرنے والے اپنی اخلاقیات کیسے برقرار رکھ سکتے ہیں؟؟ میری تھوڑی بہت سمجھ بوجھ اور مشاہدے کے مطابق ملحدین یا منکرین زیادہ بااخلاق اور اخلاقی طور پر زیادہ مضبوط اقدار کے حامل ہوتے ہیں۔

عاطف بھای مجھے دنیا کا کوی ایک ملک یا معاشرہ دکھا دیں جس کی اکثریت ملحدین پر مشتمل ہو یا کہا جاسکے کہ یہ ملک ملحدوں نے قائم کیا تھا اور جسے ہم  دنیا کا بہترین ترقی یافتہ ملک قرار دے سکیں جہاں کی معاشرتی اقدار دنیا کے سب معاشروں سے بہترین ہوں ؟ ملحدوں کی کوی ایک بستی دکھا دیں جس میں دودھ  اور شہد کی نہریں بہتی ہوں اور احترام انسانیت اس قدر کہ  یہاں آنے والے ہر نسل و رنگ کے فرد کوبرابرکی عزت ملتی ہو ؟ آپ ایک بھی مثال ایسی نہیں لاسکتے یہ میرا چیلنج ہے ۔

یہ مذہب کے ماننے والے معاشرے ہیں جو آج مثالی معاشرے ہیں جہاں انسان کی عزت اور قدرہے ۔ عیسای ممالک نے احترام انسانیت حضرت عیسی کی انتہای نرم تعلیمات سے سیکھیں جیسے کوی ایک جانب تھپڑ مارے تو دوسرا گال بھی آگے کر دو۔ چین میں کافی کیمونسٹ ہیں لیکن اس ملک کی اکثریتی آبادی بدھ مت کے ماننے والے ہیں اور پندرہ کروڑ کے قریب  مسلمان بھی ہیں مگر پھر بھی چین کو آپ اعلی اقدار کا حامل معاشرہ قرار نہیں دے سکتے۔

ملحد جنکو آپ زیادہ بااخلاق اور اعلی اقدار کا حامل قرار دے رہے ہیں یہی سب سے بڑے منافق ہیں کیونکہ دنیا کے اچھے اور اعلی اقدارکے حامل معاشرے کرسچین معاشرے ہیں جیسے یورپ اور امریکہ کینیڈا و آسٹریلیا وغیرہ یعنی مذہب کو ماننے والے ممالک ہی سب سے اعلی معاشرے قائم کرنے والے ہیں ،  ملحد تو انہی معاشروں کا حصہ ہیں اور قانون کی پابندی و اعلی اقدار انہوں نے انہی معاشروں سے سیکھے ہیں۔ انہوں نے اپنی کوی ایسی مثال نہیں چھوڑی کہ جہاں جاکر بندہ اقرار کرے کہ واقعی یہ ملک ملحدوں کا ہے اور بڑی اعلی درجے کی بااخلاق قوم ہے، روسی جو کیمونسٹ ہیں انکی مثال بھی اعلی معاشرے کے طور پر نہیں دی جاسکتی کیونکہ وہاں جاکر کوی رہے تو اس کو بہت جلد نانی یاد آجاے گی ایسی جرائم پیشہ ذہنیت اور نسل پرست قوم ہے  کہ کیا بتاوں ایسے افغان مہاجر یا افریقن جو روس کی طرف نکل گئے تھے ان سے کبھی سنیں، روس میں جو سلوک افریقنز سے کیا جاتا ہے وہ سن کر بھی رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں سٹوڈنٹ جو ماسکو میں پڑھنے گئے تھے اپنے ہوسٹلز تک محدود رہتے ہیں کیونکہ وہان نسل پرستی بہت زیادہ ہے۔ وہان کوی جاکر رہنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا اب روس ٹوٹنے کے بعد جب مختلف ریاستوں کا تعلق عیسای اور مسلم قوموں کے ساتھ بنا ہے راستے کھلے ہیں اور آنا جانا شروع ہوا ہے تو ان میں نمایاں تبدیلی آی ہے

مذہب کو کبھی کمتر درجہ نہ دیں، اگر مسلمان غلط کررہے ہیں تو کیا ان کو قرآن ایسا کرنے سے روکتا نہیں ہے؟ یورپی اقوام نے غلط کاموں سے روکنے کیلئے قوانین بنا لئے اور آج وہاں قابل قدر معاشرے بن چکے ہیں، آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ  چونکہ وہ ملحد تھے اس لئ ان کی اخلاقی سطح اتنی اونچی ہوگئی  اور احترام انسانیت ان میں آگئی، ملحد تو مریم نواز کی طرح بینیفشری ہیں یعنی مذہب کی سکھای گئی تمام اچھی باتوں کا بھرپور بینیفٹ لیتے ہیں مذہبی ممالک میں رہتے ہیں اور مذہبی رواداری  کے فوائد اٹھانے کے بعد  مذہب ہی کے خلاف بولتے بھی ہگر کبھی کوی ملک ملحدوں کا بن گیا تو یہ وہاں مذہبی افراد کا داخلہ ہی بند کردیں گے اور چن چن کر انہیں ماریں گے یہ مذہبی معاشروں میں رہتے ہوے بااخلاق بنے ہوے ہیں

  • This reply was modified 3 months, 1 week ago by Believer12.
×

Navigation

DanishGardi