Home Forums Non Siasi کرکٹ ٢٠٢١ پاکستان کرکٹ ٢٠٢١ پاکستان

#14
shahidabassi
Participant
Online
  • Expert
  • Threads: 33
  • Posts: 7325
  • Total Posts: 7358
  • Join Date:
    5 Apr, 2017

Re: کرکٹ ٢٠٢١ پاکستان

شاہد بھائی محیشت کے شوھبے میں آپ کو کمال حاصل ہے مگر میں نہیں سمجھتا کرکٹ میں بھی ایسا ہے – آج ہر آدمی جو کرکٹ کو سمجھتا ہے اس کا یہی خیال ہے کہ کرکٹ کو اس نئے نظام نے تباہ کر دیا ہے اور اس میں کسی قسم کا کوئی شبہ نہیں ہے – جب کرکٹ میں پیسہ زیادہ نہیں تھا تو انڈین ٹیم ہم سے بھی بری تھی اور ہم نے اسے اتنی بار ہرایا کہ اس کے کھلاڑی ہم سے کھیلنے سے ڈرتے تھے – انڈین پریمیئر لیگ کے آنے سے انڈین کرکٹ پر دولت نچھاور ہونے لگی – دنیا کے بہترین کھلاڑی کوچ ٹرینر فیزیشن نے انڈیا میں ڈیرے لگا لئے اور انڈیا کے کونے کونے سے ٹیلنٹ پکڑ کر کوچ ان پر کام کرنے لگے – تیز ہٹ کرنے والے وکٹ پر ٹھہرنے والے ہر طرح کے پلیئرز کے بڑے بڑے پولز تیار ہونے لگے – یہ پولز اتنے مظبوط ہیں کہ انڈیا کے اے ٹیم جس میں کوئی مشهور کھلاڑی نہیں تھا اس نے آسٹریلیا کو چند دن پہلے اپنے ہی ملک میں دھول چٹا دی – یہ ہوتی ہے پیسے سے مظبوط کھلاڑیوں کو ایسا تیار کرنا کہ کسی بھی کھلاڑی کے آنے جانے سے ٹیم کی کارکردگی پر کوئی اثر نہ پڑے – جہاں تک آسٹریلیا اور انگلینڈ کی بات ہے تو وہاں کاؤنٹی کرکٹ کو بہت پیسے ملتے ہیں – خود بقول خان صاحب کے انہوں نے کاؤنٹی کرکٹ کھیل کر بنی گالا کا محل بنایا – اگر صوبے اور شہر کی تنظیموں کے پاس آسٹریلیا اور انگلینڈ کی طرز پر بڑے فنڈ ہوتے تو اس نئے نظام میں کوئی خرابی نہیں تھی مگر کھلاڑیوں کو بغیر کسی فنڈ کے بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا – وہ دور کوئی اور تھا جب پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی ٹیمیں صرف ٹیلنٹ کی بنا پر ورلڈ چیمپئن بن جایا کرتی تھیں – آج کل فٹنس اور کوچنگ کی بہت اہمیت ہے اور اس کے لئے بہت زیادہ سرمایہ درکار ہے – آج کل محظ ٹیلنٹ سے آپ چند میچ تو جیت سکتے ہیں لیکن انڈیا جیسی ٹیم نہیں بنا سکتے جو پچھلے طویل عرصے سے ہر فارمیٹ میں پہلے یا دوسرے نمبر پر ہے – کرکٹ میں سائنس اور ٹیکنولوجی کے استعمال نے ایشین ٹیموں ( ماسوائے انڈیا ) کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے – آج پاکستان بنگلادیش سری لنکا اور ویسٹ انڈیز جسی غریب قوموں کو کرکٹ میں بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے – جب تک کھلاڑیوں کو پرکشش تنخواہ بونس وغیرہ نہیں ملتے بین الاقوامی معیار کے کھلاڑی پیدا کرنا مشکل ہے – اکا دکا بابر اعظم جیسے قدرتی ٹیلینٹ رکھنے والے کھلاڑی ضرور مل جائیںگے –

اعوان بھائی، میں نے کب پیسے کی وقعت سے انکار کیا ہے۔ اس وقت جو پلیئر فرسٹ کلاس کھیل رہا ہے وہ ڈپارٹمنٹل ٹیموں کے کھلاڑیوں سے تین گنا زیادہ پیسے کما رہا ہے۔ کم از کم ماہانہ تنخواہ دو لاکھ ہے جبکہ بنکوں میں یہ اچھےنوجوان کھلاڑی فرسٹ گریڈ آفیسر کی تنخواہ لیتے تھے۔ میں کرکٹ کا ایکسپرٹ تو نہی لیکن انٹر یونیورسٹی ٹیم کا کپتان تھا اور ایک میچ رمیز راجہ کے خلاف بھی کھیلا ہوا ہے۔ ڈپارٹمنٹل سسٹم ہو یا موجودہ پاکستان سری لنکا اور بنگلہ دیش جیسی ٹیمیں بِگ تھری کا پیسے پر مقابلہ نہی کر سکتے۔ کرکٹ میں ستر فیصد پیسہ انڈیا سے کھیلنے میں ہے جس سے ہم محروم ہیں۔ لیکن پیسے کے ساتھ ساتھ دوسری اہم چیز ٹیلنٹ کو پالش کرنا ہے اور یہ صرف اسی وقت ہو سکتا ہے جب ہماری ڈومیسٹک میں سخت مقابلہ ہو۔ ہمارے پاس کوئی پچاس کے قریب اچھے کھلاڑی ہیں انہیں چھ ٹیموں میں تقسیم کرو گے تو اچھی ٹیمیں بنیں گی، اٹھارہ میں تقسیم کرو تو ہر ٹیم میں دو تین ہی کام کے کھلاڑی ہونگے۔ پہلے ہی ہماری فرسٹ کلاس اور انٹرنیشنل سٹینڈرڈ میں زمین آسمان کا فرق ہے لیکن اگر فرسٹ کلاس کمزور ہوگی تو یہ فرق بہت زیادہ ہو جائے گا۔ پہلے ہم انڈیا سے اپنے سسٹم کی وجہ سے نہی بلکہ صرف اس لئے جیتتے تھے کہ یا تو ان کے پاس باؤلر نہی تھے یا پھر اس لئے کہ ہمارے کھلاڑی ہر سال کاؤنٹی کھیلتے تھے۔

×
arrow_upward DanishGardi