مذھب اور سیاست

Home Forums Hyde Park / گوشہ لفنگاں مذھب اور سیاست مذھب اور سیاست

#22
unsafe
Participant
Offline
  • Advanced
  • Threads: 53
  • Posts: 934
  • Total Posts: 987
  • Join Date:
    8 Jun, 2020
  • Location: چولوں کی بستی

Re: مذھب اور سیاست

انسیف صاحب، میرا اعتراض یا سوال انسان کے مذہبی ہونے پر نہیں ہے ہر انسان کا حق ہے کہ اپنے لئے جو بہتر سمجھے وہ کرے مگر جستجو یہ ہے کہ ایک طرف انسان اپنے آپ کو انتہائی مذہبی بنا کر پیش کرتا ہے جسکے اپنے تقاضے ہیں کیوں کہ مذھب آپ کے لئے زندگی کے رہنما اصول طے کردیتا ہے اب اگر ایک شخص دعوی کرتا ہے کہ وہ بہت مذہبی ہے لہذا اسکی زندگی کا ہر پہلو چاہے وہ معاشرت ہو ، معیشت ہو یا سیاست ہو اس مذہبی حصار سے باہر نہیں نکل سکتا ہے یہاں گفتگو کو میں صرف مذھب اور سیاست تک محدود رکھنا چاہتا ہوں خصوصا ان لوگوں کے لئے جو دونوں میدانوں میں گھوڑے دوڑاتے ہیں مگر سیاست کے ان پہلوؤں سے صرف نظر کرتے ہیں جو بطور ایک مذہبی پیروکار کے سیاست کے متضاد تقاضے ہوتے ہیں یہاں میں ایک مثال دے دیتا ہوں کہ پارلیمانی جمہوریت میں حزب اختلاف کا عمومی کردار حکومت کے ہر مثبت اور منفی کام پر تنقید ہوتی ہے جسمیں جھوٹ پر مبنی بہتان طرازی بھی شامل ہوتی ہے اور جان بوجھ کر ہوتی ہے اور پوری سنجیدگی سے ہوتی ہے سیاستدانوں ( یہاں میں اسٹیبلشمنٹ کو بھی اس گروہ میں شامل کررہا ہوں ) کو تو ہم لوگ شک کا فائدہ اس لئے دے سکتے ہیں کہ کیونکہ اس کھیل کے براہ راست بینفشری وہ ہوتے ہیں مگر سوال انکے پیروکاروں کے بارے میں ہے کہ جنکو شاید اپنی انا کی تسکین سے زیادہ اس کھیل میں کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا تو وہ کیوں اندھے ہو کر اور اپنی مذہبی تعلیمات کے بر خلاف اپنے سیاسی رہنماؤں کی بے جا حمایت کرتے ہیں؟
انسیف صاحب، میرا اعتراض یا سوال انسان کے مذہبی ہونے پر نہیں ہے ہر انسان کا حق ہے کہ اپنے لئے جو بہتر سمجھے وہ کرے مگر جستجو یہ ہے کہ ایک طرف انسان اپنے آپ کو انتہائی مذہبی بنا کر پیش کرتا ہے جسکے اپنے تقاضے ہیں کیوں کہ مذھب آپ کے لئے زندگی کے رہنما اصول طے کردیتا ہے اب اگر ایک شخص دعوی کرتا ہے کہ وہ بہت مذہبی ہے لہذا اسکی زندگی کا ہر پہلو چاہے وہ معاشرت ہو ، معیشت ہو یا سیاست ہو اس مذہبی حصار سے باہر نہیں نکل سکتا ہے یہاں گفتگو کو میں صرف مذھب اور سیاست تک محدود رکھنا چاہتا ہوں خصوصا ان لوگوں کے لئے جو دونوں میدانوں میں گھوڑے دوڑاتے ہیں مگر سیاست کے ان پہلوؤں سے صرف نظر کرتے ہیں جو بطور ایک مذہبی پیروکار کے سیاست کے متضاد تقاضے ہوتے ہیں یہاں میں ایک مثال دے دیتا ہوں کہ پارلیمانی جمہوریت میں حزب اختلاف کا عمومی کردار حکومت کے ہر مثبت اور منفی کام پر تنقید ہوتی ہے جسمیں جھوٹ پر مبنی بہتان طرازی بھی شامل ہوتی ہے اور جان بوجھ کر ہوتی ہے اور پوری سنجیدگی سے ہوتی ہے سیاستدانوں ( یہاں میں اسٹیبلشمنٹ کو بھی اس گروہ میں شامل کررہا ہوں ) کو تو ہم لوگ شک کا فائدہ اس لئے دے سکتے ہیں کہ کیونکہ اس کھیل کے براہ راست بینفشری وہ ہوتے ہیں مگر سوال انکے پیروکاروں کے بارے میں ہے کہ جنکو شاید اپنی انا کی تسکین سے زیادہ اس کھیل میں کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا تو وہ کیوں اندھے ہو کر اور اپنی مذہبی تعلیمات کے بر خلاف اپنے سیاسی رہنماؤں کی بے جا حمایت کرتے ہیں؟

موحترم پروٹوکول … انسان اپنی فطرت میں بہت خود غرض ثابت ہوا ہے … وہ ہر چیز کو اپنے ذاتی مفاد کے لئے استعمال کرتا آیا ہے ….مذہبی گفتگو کسی بھی چیز پر ہو چاہے روحانیت پر ہو یا فنڈامنٹل پر یا سیاست پر …… بہت ہی جادو رکھتی ہے …. اس سے عام عوام کو قائل کرنا بہت ہی آسان ہوتا ہے .. بجاے اس کے کہ عوام کو سیدھی بات بتا کر قائل کیا جاے … اب آپ عمران خان کی مثال لے لیں .. اس کی پارٹی کے ٹولے نے مدینہ کی ریاست کے نام پر ایک مذھبی شوشہ چھوڑ کر بہت سے پاگل مزبھی جننیئوں کو اپنی پارٹی میں شامل کر لیا تھا جس کی وجہ سے ان کے ووٹ اور کارکن زیادہ ہو گۓ … آپ چاہے مذھب کو غلط مانے یا ٹھیک آپ شائد اس معاملے میں کنفیوز ہیں مذھب بنانے ہی گے عوام کی حمایت حاصل کرنے کے لئے ہیں اور وہ کوئی زندگی کے اصول متین نہیں کرتے بلکے لوگوں کو جھوٹی امیدوں پر لگاتے ہیں جو بلکل سیاست میں ہوتا ہے … مرے خیال میں اس ماملے میں اپ تھوڑے اپنے مذھبی عقائد کی وجہ سے کونفیوز ہے … اگر اپ واقعی حقیقت کی تلاش میں تو پہلے مذھب بنے اور ان کے بنانے والوں کی زندگیوں کو پڑھیں .. بلکل نیوٹرل ہو کر …. تو آپ حقیقت تک پونچ جاے گے

Navigation

DanishGardi