مذھب اور سیاست

Home Forums Hyde Park / گوشہ لفنگاں مذھب اور سیاست مذھب اور سیاست

#21
Zaidi
Participant
Offline
  • Advanced
  • Threads: 16
  • Posts: 772
  • Total Posts: 788
  • Join Date:
    30 May, 2020
  • Location: دل کی بستی

Re: مذھب اور سیاست

زیدی صاحب، ایک مرتبہ پھر وضاحت کردیتا ہوں میرا موضوع یا مقصد ہر گز مذھب کو کٹہرے میں کھڑا کرکے اس پر جرح کرنا نہیں ہے بلکہ اسکے بر عکس ان لوگوں کے کردار کو سمجھنا ہے جو مدعی ہیں کہ انکا ایمان مذھب پر بغیر کسی شک و شبہ کی گنجائش کے موجود ہے جو مذھب کی اپنے تئیں حفاظت کے لئے “ہر گھڑی تیار ہیں ہم” کے مصداق چوکس رہتے ہیں اس کی سچائی کے لئے دلائل کے انبار لگا دیتے ہیں .اب جیسا کہ آپ نے کہا “مذھب آفاقی اصولوں کو کھول کر بیان کردیتا ہے ” ظاہر ہے کہ اگر مدعی کا دعوی ہے یہ آفاقی اصول وہ مانتا ہے اور بغیر کسی پس و پشت کے ان پر کاربند رہتا ہے تو مسلہ یہ ہے کہ یہ آفاقی اصول زندگی کے ہر معاملہ بشمول سیاسی رویہ پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں مشاہدہ ہے کہ جیسے ہی انسان سیاسی اینیمل کی کھال پہنتا ہے اب وہ ان آفاقی اصولوں کی چیری پکنگ شروع کردیتا ہے جو اسکو کسی خاص سمت میں فائدہ دیتے ہیں اور دیگر آفاقی اصولوں کو کنوننٹلی پس پشت ڈال دیتا ہے اب میرے علم میں نہیں ہے کہ مذھب اس دھرے معیار یا کردار کی اجازت دیتا ہے درج بالا مشاھدہ کسی غیر مرعی مخلوق کے بارے میں نہیں ہے بلکہ ہمارے اور آپ جیسے احباب کے متعلق ہے ہمارے دوست احباب رشتہ داروں کولیگس ہمارے آئیڈیلز میں پایا جاتا ہے. کیا آپ اس مشاہدے سے اتفاق کرتے ہیں؟ اگر کرتے ہیں تو میرے خیال میں اسکی صرف دو ہی وجوہات ہو سکتی ہیں اول -مذھب پر ایمان کے حوالے سے ہمارا دعوی مشکوک ہے دوئم -مذھب کے آفاقی رہنما اصول درست نہیں ہیں

گھوسٹ صاحب ، منافقت اگر کوئ جامہ نہ پہنے تو منافقت نہ کہلائے ۔ جہاں تک میں سمجھا ہوں کہ آپ کے تجزیے کا بنیادی نقطہ یہ ہونا چاھیے کہ انسان کیا اپنی منافقت صرف مذھبی قدروں کو روندے کے لیے ہی استعمال کرتا ہے یا پھر اس کے اور بھی مصارف ہیں ۔ کیا آپ محسوس نہیں کرتے  کہ وہ لوگ جو مذھب کی حقانیت کو تسلیم کرنے کا کلیم رکھتے ہیں دراصل اس کٹھن اور مشکل راستے سے ہو کر کبھی نہیں گزرے جہاں مادی فوائد اور ذاتی مفادات کی خادراد جھاڑیاں سارے راستے میں بکھری ہوتی ہیں اور انسان کو اپنا نازک اور باریک لباس اس خاردار راستے سے اس احتیاط سے گزارنا پڑتا ہے جہاں کوئ کانٹا اس نازک لباس کو چھو نہ سکے ۔ ۔

جیسا کہ آپ نے فرمایا ،ان لوگوں کے تجزیے سے کیا دستیاب ہوگا جن سے آپ کے بقول اپنے حرف کی حرمت ہی سنبھالی نہ جائے ۔ یہ تو کھلی کتاب کی مانند ہیں ، آپ کتبہ تحریر کرسکتے ہیں ۔ انسانی بنیادی کمزوریوں میں سے ایک کمزوری تعصب کی وہ قسم بھی ہے جہاں انسان ہمیشہ ڈنڈی مارتا ہے ۔ میرا تجربہ آپ کے پہلے نقطے کی تائید کرتا ہے ۔

Navigation

DanishGardi