کیا ایک اور کنگز پارٹی ڈمپنگ کے قریب ہے؟؟؟

Home Forums Siasi Discussion کیا ایک اور کنگز پارٹی ڈمپنگ کے قریب ہے؟؟؟ کیا ایک اور کنگز پارٹی ڈمپنگ کے قریب ہے؟؟؟

#7
نادان
Participant
Offline
  • Expert
  • Threads: 108
  • Posts: 15127
  • Total Posts: 15235
  • Join Date:
    31 Aug, 2016

Re: کیا ایک اور کنگز پارٹی ڈمپنگ کے قریب ہے؟؟؟

مجھے پہلے بھی کئی لوگوں نے بتایا ہے کہ وہاں جا کر بندہ ایویں ذلیل ہی ہوتا ہے کیونکہ عمران خود ایک انٹرویو میں انکی عجیب پالیسی کے بارے میں بتا چکا ہے۔ میں نے خود انٹرویو بہت حیرانی سے سنا تھا مگر اس وقت میں عمران کے حق میں تھریڈز لگایا کرتا تھا اس لئے جان کر بھی انجان بنتا رہا، عمران نے کہا کہ اس کے ہسپتال میں لوگوں کو شکایت ہوتی ہے کہ ان کا علاج نہیں کیا جاتا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم انکا علاج کرتے ہیں جن کی حالت خطرناک اور کینسر پھیل چکا ہو دنیا بھر میں اور یہاں یوکے میں این ایچ ایس والے پرزور طریقے سے اپیل کرتے ہیں کہ کینسر جب شروع میں ہی ڈائگنوز ہوجاے تو فورا آجاو ، کینسر بگڑنے کے بعد آنے کا کوی فائدہ نہیں ادھر ہمارے خان صاحب کہتے ہیں شروع میں آو گے تو کوی علاج نہیں کیا جاے گا ہاں جب کیینسر پھیل جاے تب آنا کینسر کا علاج شروع میں ہی ہوسکتا ہے بعد میں نہیں ایکبار یہ پھیلنے لگ گیا تو کیموتھراپی کے بعد بارہ مہینے کا ٹائم دے دیا جاتا ہے یعنی کیموتھراپی کے بعد آپ ایک سال نکالیں گے یہان جتنے بھی کیٹیگری ون کے مریض ہیں ان کا علاج کیا جاتا ہے اور وہ تندرست بھی ہوجاتے ہیں، انڈیا کے یووراج سنگھ کو کینسرکی کیٹیگری ون میں ہی ٹریٹمینٹ دی گئی تھی وہ چنگا بھلا ہوکرا کرکٹ بھی کھیلنے لگ گیا تھا اور اب تک کھیل رہا ہے اگر زیادہ نہیں تھوڑی دیر بھی ہوجاے تو کیٹیگری ٹو میں چلے جانے کے بعد چانس ففٹی ففٹی ہوجاتے ہیں اور کیٹیگری تھری میں بندہ کیموتھراپی کے بعد ایک سال چلتا ہے اور کیٹیگری فور میں تو کوی چانس ہی نہیں ہوتا

بلیور  صاحب ..ویسے تو اکثر آپ سے لوگوں کو شکایت ہوتی ہے کہ آپ غلط بیانی سے کام لیتے ہیں ..آج پہلی دفعہ  مجھے بھی کہنے دیجئے کہ آپ کی پوری سٹیٹمنٹ جھوٹ کا پلندہ ہے ..میں پرسنلی کسی کو جانتی ہوں ..جنہوں نے اپنا والدہ کا وہاں علاج کرایا اور ایک ٹکا بھی ان کا خرچ نہیں ہوا ..جبکہ باقی تمام جگہ سے ان کو انکار مل چکا تھا

اچھا کام دشمن بھی کرے تو دیانت  داری کا تقاضہ  ہے کہ اس کو سراہا جائے اور اگر ایسا کرنا دشوار لگے تو خاموش رہا جائے ..شوکت خانم کی پالیسی ہمیشہ سے یہ رہی ہے کہ محدود جگہ کی وجہ سے وہ ایسے کیس نہیں لیتے جو اپنی آخری سٹیج پر ہوں اور جن کا بچنا باظاھر نا ممکن ہو ..ورنہ ہر کینسر کا مریض مریض چاہے وہ امیر ہو یا غریب ..میرٹ کی بنیاد پر علاج کے لئے جگہ پاتا ہے ..اور اس بات کو ان صاحب نے بھی کنفرم کیا ..اگر مریض غریب ہے تو وہ پوری چھان  بین کرتے ہیں اور اس کا علاج اسی لیول پر ہوتا ہے جیسے کسی اور مریض  کا جو فل پیمنٹ کرتا ہے ..وہاں مریض حسب استطاعت زیرو سے لے کر جہاں تک افورڈ کر سکتا ہے ..پیمنٹ کرتا ہے ..یہ ادارہ کسی نفع اور نقصان کے بغیر چل رہا ہے ..اس کو سپورٹ کرنے والے بہت لوگ ہیں ..امیر بھی اسے سپورٹ کرتے ہیں .اور غریب بھی ..جتنا ممکن ہو

Navigation

DanishGardi