مولانا تیرا شکریہ

Home Forums Siasi Discussion مولانا تیرا شکریہ مولانا تیرا شکریہ

#9
Awan
Participant
Offline
Thread Starter
  • Professional
  • Threads: 144
  • Posts: 2861
  • Total Posts: 3005
  • Join Date:
    10 Jun, 2017

Re: مولانا تیرا شکریہ

امتیاز عالم کا بہت اچھا کالم اور موجودہ پر پیچ سیاسی حالات پر بہت موثر تجزیہ ہے اگر کالم کے اوپر کالمسٹ کا نام بھی لکھ دیا جاے تو کوی حرج نہیں کیونکہ مجھے یہی اشتیاق سورس کی طرف لے گیا تھا مولانا بلکہ پی ڈی ایم نے کچھ زیادہ ہی جلسے اور ریلیاں کر ڈالی ہیں آج بھی ایک ریلی تھی ان جلسوں پر بہت زیادہ زور لگ گیا ہے اور اب عوام کی دلچسپی جلسہ جلوس سے شائد کم ہوگئی ہے میں سمجھتا ہوں کہ مہنگای سے بھوک مرتی عوام اس حکومت کو خود چلتا کردے گی مولانا یا مریم نواز کو جلسے کرنے کی بجاے ایک دھرنے کی تاریخ دینی چاہئے اور پھر دیکھیں کہ عوام کیا کرتی ہے دونوں پارٹیاں اور انکی اتحادی جماعتیں باقاعدہ پلاننگ کے ساتھ دھرنا دیں اور ایسے کارکنوں کی لسٹ بنائیں جو ادھر مستقل بیٹھیں گے ان کی ضروریات کیسے پوری کی جائین گی اور میدان بھرا رکھنے کی پلاننگ ہو سب پارٹیاں اپنا اپنا حصہ ڈالیں تو بہت کامیاب دھرنا ہوگا ان کو صرف رات گزارنا ہوگی کیونکہ دن کے وقت عوام خود ہی ادھر کا رخ کیا کریں گے اور حکومت پر سخت دباو بڑھے گا اس حکومت نے ایک دھیلے کاکام بھی نہیں کیا اور سواے بک بک کے زیرو پرفارمنس ہے ان کے اگلے دو سال اس سے بھی برے ہونگے مجھے تو لگتا ہے کہ فصلی بٹیروں پر قایم یہ حکومت جلد فارغ ہوجاے گی

بلیور بھائی کالم کا لنک اسی لئے لگایا ہے کہ نا صرف کالم کا سورس واضح ہو بلکے مصنف کی مکمل معلومات بھی حاصل کی جا سکے – مصنف کا نام کالم کے شروع میں لکھنے کا آئیڈیا اچھا ہے آیندہ نام ابتدا میں لکھنے کی کوشش کرونگا – اپوزیشن نے جلسے جلوس اور ریلیاں اسلئے کی ہیں کہ ایک مومینٹم بنایا جا سکے اور اس مومینٹم کے عروج یا پیک پر جا کہ استعفیٰ یا اسلام آباد میں دھرنا دیا جا سکے – اس میں سب سے بڑا مسلہ یہ پیش ہوا کہ پیپلز پارٹی اپنی سندھ حکومت سے استعفیٰ نہیں دینا چاہتی کیونکے ان کا خیال ہے کہ انہیں سندھ سے زیادہ کچھ مل نہیں سکتا اور سندھ پہلے ہی ان کے پاس ہے – زرداری صاحب نے بے نظیر صاحبہ کی برسی پر اپوزیشن اور خاص کر نون لیگ کو قائل کر لیا ہے کہ ضمنی اور سنیٹ کے الیکشن میں حصہ لینا چاہئے اور سارے آپشن ایک ہی بار استعمال کرنے درست نہیں کیونکے اگر حکومت وہ وقت کسی طرح گزار گئی تو اپوزیشن کے پاس آگے کے لئے کچھ ایسا کرنے کو نہیں بچے گا جس سے حکومت پر دباؤ بڑھایا جا سکے – اس بات پر میاں صاحب بھی متفق ہیں اور بظاھر ایسا لگتا ہے نون لیگ اور پیپلز پارٹی دونوں ہی ضمنی الیکشن اور سینیٹ الیکشن میں حصہ لینگی – مولانا صاحب کو بھی مجبورا ان الیکشن میں حصہ لینا ہو گا جن میں ان کے لئے کچھ خاص نہیں ہے – تمام پارٹیاں سمجھتی ہیں کہ دھرنا یا لونگ مارچ بہترین آپشن ہے اور یہ سب سے موثر ہو گا – مولانا صاحب نے دھرنے کی جگہ اسلام آباد کی بجائے پنڈی میں تجویز کر کے اسٹیبلشمنٹ کو پہلے ہی دباؤ میں لا دیا ہے – اگر دھرنا یا لونگ مارچ ہوا تو اس میں مولانا صاحب کی پارٹی کا رول پچھلے دھرنے کے طاہر القادری صاحب کی پارٹی جیسا ہو گا جو دھرنے میں چوبیس گھنٹے بیٹھے گی جبکے اپوزیشن کی باقی پارٹیاں روزانہ کی بنیاد پر اپنے تازہ دم کار کن وقتا فوقتا لاتی رہیں گیں – حکومتی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے روزانہ کی بنیاد پر لوگوں کو لانا کچھ زیادہ مشکل نہیں البتہ وہاں مستقل بیٹھنا بہت زیادہ مشکل اور تکلیف دے ہے جو مولانا کی پارٹی کے علاوہ کسی کے بس کا روگ بھی نہیں ہے – اس دھرنے کی جگہ اور وقت کا طے کرنا بہت مشکل کام ہے البتہ لوگوں کو دھرنے کے مقام پر وقتا فوقتا لانا نسبتا آسان ہے جس کے لئے ساری پارٹیاں تیار ہیں اور مکمل تیاری تاریخ اور مقام کے طے ہونے کے بھد کر سکتی ہیں – میاں صاحب کے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نام لے کر پکارنے کے بھد اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے حکومت گرانے کا دباؤ ڈالنے کی بات تقریبا نا ممکن لگتی ہے البتہ اس کا اتنا فائدہ ضرور ہوا ہے جس کا کالم نگار نے ذکر کیا ہے کہ اب انہوں نے سیاست میں مداخلت سے کان پکڑ کر توبہ کی ہے – اگلا ایک مہینہ سیاسی فضا خاموش رہنے کی امید ہے لیکن فروری شروع ہوتے ہی درجہ حرارت پھر بڑھے گا جو ضمنی انتخاب سے لے کر سینیٹ کے الیکشن اور پھر گرمیوں تک جاری رہے گا – بظاھر لگتا ایسا ہے کہ اپوزیشن نے اب اگلے ڈھائی سال سڑکوں پر ہی رہنا ہے ، لوگ گرفتار ہوتے اور رہا ہوتے رہیں گے اور میاں صاحب بھی کبھی اپنا رویہ کچھ نرم اور کبھی اور سخت کر دینگے اور کبھی شاید نسبتا طویل مدت جیسے کہ کچھ مہینوں کے لئے ممکن ہے خاموش بھی ہو جائیں –

Navigation

Do NOT follow this link or you will be banned from the site!