پاکستانی سیاسی کلچر

Home Forums Siasi Discussion پاکستانی سیاسی کلچر پاکستانی سیاسی کلچر

#3
Anjaan
Participant
Offline
  • Professional
  • Threads: 38
  • Posts: 1945
  • Total Posts: 1983
  • Join Date:
    2 Mar, 2017
  • Location: Kala Shah kaku

Re: پاکستانی سیاسی کلچر

پاکستان کی سیاست میں کوی بھی تازہ ہوا کا جھونکا بننے والا سیاستدان باقی نہیں بچا میں سمجھتا ہوں کہ ایک نیا نظام لانے کی اشد ضرورت ہے جس میں امیدوار کروڑوں خرچ کرکے منتخب ہونے کی بجاے اہلیت کی بنا پر منتخب ہوں اگر حکمران واقعی کچھ کرنا چاہتے ہوں تو کرجاتے ہیں جیسے یو اے ای یا ساوتھ کوریا کے حکمران ہیں۔ سب سے پہلے محکموں پر کنٹرول کرنا ہوگا پاکستان میں کنٹرول نامی کو چیز نہیں ہے کسی محکمے کو یا کسی افسر یا وزیر کو اپنے ہی محکمے پر کنٹرول نہیں ہے انگلینڈ میں محکموں کا کنٹرول اتنا سخت ہے کہ ایک وزیر نے تین سو کلومیٹر گاڑی چلای مگر پولیس کو پتا چل گیا انہوں نے اسے کبردار کردیا کہ یہ تو منع کیا گیا تھا کرونا کی وجہ سے لاک ڈاون ہے ہم شہریوں کو کیوں روکتے ہیں جب خود عمل نہیں کرسکتے، اس وزیر نے استعفی دے دیا تھا پاکستان میں پرفارمنس کی بنا پر نہ تو پروموشنز ہوتی ہیں اور نہ ہی بھرتیاں وزیر کو اپنے ہی شعبے کے بارے میں پہلی بریفنگ وزیر بننے کے بعددیجاتی ہے حالانکہ اس کو اس شعبے کا تجربہ نہیں ہے تو سیکھتے سیکھتے دس سال لگ جائیں گے بہتر ہوگا کہ اس شعبے کابہترین دماغ اس کا وزیر بنا دیا جاے ایم این ایز کا یہ حال ہے کہ فیصل آباد میں ایک لڑکی نے ایک ٹرک ڈرائیور سے شادی کرلی اس لڑکی کا باپ ایم این اے کے پاس روتا ہوا آیا لڑکی سے رابطہ کیا گیا تو لڑکی اپنے شوہر کے ساتھ ایم این اے کے پاس پنہچی اس نے نقاب کیا ہوا تھا ۔ ایم این اے نے (حرامی تو ہوتے ہیں) کہا کہ نقاب اتارو اور چہرہ دکھاو لڑکی نے کہا کہ ایسے ہی بات کرلیتے ہیں میں پردہ کرتی ہوں اور شادی میں نے اپنا شرعی حق سمجھتے ہوے اپنی پسند سے کی ہے ایم این اے کو ایکدم جانے کیوں تاو آگیا اس لڑکی کو گالیان دی اور کھینچ کر نقاب اس کے چہرے سے اتار دیا، اسطرح کے حرامی تو ایم این اے ہوتے ہیں اور یہی وزیر بنتے ہیں، اسی ایم این اے پر سو گیس چوری کا الزام تھا فیکٹری میں چوری کی گیس جارہی تھی بغیر میٹر کے اب ایسا بندہ سوی گیس کا انچارج بنا دیا جاے تو سارا محکمہ ڈوب جاے گا کیونکہ اس کے بندے چوری کی گیس بیچیں گے اور حکومت کے خزانے میں رقم جانے کی بجاے ان کی جیبوں میں جاے گی قبائلی علاقوں یا سندھ کے مضافاتی علاقوں میں ایسا ہوچکا ہے کہ بجلی اور گیس صارفین کو دی جارہی تھی مگر حکومت کو پیسے نہیں مل رہے تھے نوازشریف نے ان کو گلے سے پکڑ کر بلز وصول کئے تھے اب پھر یہی صورتحال ہوچکی ہے اگر موجودہ نظام کی بجاے ایسا نظام تشکیل دے دیا جاے جس میں صرف ایک بندہ جو اہل ہو ووٹ لے کر اپنی ٹیم تشکیل دے سکے اس ٹیم کو انتخاب لڑنے کی ضرورت نہ ہو اور نہ ہی وہ کرپشن کرکے اپنے انتخابی خرچے پوری کرنے والی ہو تو امید ہے کہ بیس سال میں ہمارا نظام ٹھیک ہوجاے گا یا کسی قدر بہتر ہوجاے گا جس جگی آج بھارت کھڑا ہے وہاں تک جانے کیلئے بھی دس سال لگ جائیں گے

جب تک نمائندوں کو منتخب کرنے والی عوام میں اپنے ووٹ کی اهمیت پہچاننے کی اہلیت نہیں ایے گی ایم این ایزبھی نااہل ہی ہوں گے -یہ سب عوام کا اپنا قصور ہے –

ایم این ایز کو تو حرامی کہ دیا لیکن جن لوگوں کے ووٹوں سے ایم این ایز بنے ان کے متعلق کیا خیال ہے حضور؟

Navigation

Do NOT follow this link or you will be banned from the site!