آغاز جوانی میں ہم ذرا جھوم کے چلتے ہیں

Home Forums Siasi Discussion آغاز جوانی میں ہم ذرا جھوم کے چلتے ہیں آغاز جوانی میں ہم ذرا جھوم کے چلتے ہیں

#62
Ghost Protocol
Participant
Offline
  • Expert
  • Threads: 158
  • Posts: 5291
  • Total Posts: 5449
  • Join Date:
    7 Jan, 2017

Re: آغاز جوانی میں ہم ذرا جھوم کے چلتے ہیں

آپ بھی بٹوارے کے نفسیاتی مراحل سے نکلنے کی کوشش کریں اور اسے قبول کر لیں ۔ جناح نے غلط کیا ، صحیح کیا ، اچھا کیا یا برا کیا ، ان باتوں پہ وقت ضائع کرنے کے بجائے اس کی حقیقت اور پاکستان کے وجود کو تسلیم کرلیں  ؟

زیدی صاحب،
آغاز نوجوانی تھا پی ٹی وی پر ایک یو نیورسٹی کے پروفیسر صاحب کو سننے کا موقع ملا ، صاحب فرما رہے تھے کہ بانیان پاکستان نے اسلام کا نعرہ لگا کر وطن حاصل کرلیا ، منزل حاصل کرلی بہت عمدہ سیاسی پتے کھیلے ، پاکستان اب بن گیا ہے صحیح غلط کی بحث ختم ہونی چاہئے ہمیں اسی بھنور میں پھنسے نہیں رہنا چاہئے بلکہ اب مو جودہ دور کے حوالے سے اپنی نئی فلاسفی اپنانی چاہئے تو ہم آگے بڑھیں گے . میرے لئے یہ بلکل ایک نئی بات تھی اس وقت تک جو بھی پڑھا لکھا تھا جو شعور تھا اس کی نفی تھی بہت تکلیف ہو ی غصہ آیا اور دل میں ان نام نہاد فلاسفر کو بہت کوسا اور انکو دشمنوں کا ایجنٹ سمجھا .
آج اتنے عرصہ کے بعد سوچتا ہوں تو انکی بات درست محسوس ہوتی ہے ہمیں ہی شعور نہیں تھا سمجھ نہیں تھی آپ نے بلکل وہی بات تو نہیں کی مگر کچھ حد تک ملتی جلتی بات کہی ہے . ملک بن جاتے ہیں انکے پیچھے تاریخی عوامل ہوتے ہیں آج جس دیس میں ہم رہتے ہیں یہ تو آج بھی کولونیل پاور ہے اور ہم اسکے بینیشفری ہیں آج اگر تاریخ کا پہیہ موڑ کر اسکو واپس ایب اوریجنلز کو واپس کرنے کی بات ہوگی تو ہم ہی شائد اسکی سب سے زیادہ مخالفت کریں گے کہنے کا مطلب ہے کہ صحیح یا غلط اچھا یا برا ملک بن جاتے ہیں اہم بات یہ ہے کہ آگے کسطرح بڑھا جائے. دنیا کے دیگر ممالک کے بر خلاف پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے لہذا ایک گروہ ہمیشہ اس ملک میں رہے گا جو اسکا مستقبل اسکے ماضی سے جوڑنا چاہے گا چونکہ بنیاد مذھب تھی تو مستقبل بھی مذھب ہی رہے گا مذھب کا استعمال اس ملک میں جسطرح سے ہو رہا ہے شائد ہی کسی دوسرے ملک میں ہو رہا ہو مذھب کی اوور ڈوز کے اثرات اس ملک کے باشندوں اور انکی سوچوں پر بہت واضح ہیں اور انکی ایکسٹریم مظاہر ہمارے سامنے آئے روز آتے جا رہے ہیں
میرے اپنے مشاہدے میں پہلے جو احباب و رشتہ دار دوسرے کے فرقہ کو پانی پلاتے تھے آج انکو کفر کہتے ہیں پہلے جو اقلیتوں کو انکے تہواروں پر مبارکباد دیتے تھے آج دیوالی اور کرسمس سے قبل خصوصا پیغامات بھجواتے ہیں کہ غیر مسلموں کو وش کرنا گناہ ہے پہلے ہیپی نیو ایئر کہتے تھے آج خصوصا منع کرتے ہیں کہ یہ عیسوی سال ہے ہمارا اس سے کویی تعلق نہیں ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جنکو تعلیم یافتہ مڈل کلاس گردانا جاسکتا ہے

Navigation

Do NOT follow this link or you will be banned from the site!