Home Forums Siasi Discussion آغاز جوانی میں ہم ذرا جھوم کے چلتے ہیں آغاز جوانی میں ہم ذرا جھوم کے چلتے ہیں

#61
Zaidi
Participant
Offline
  • Advanced
  • Threads: 19
  • Posts: 938
  • Total Posts: 957
  • Join Date:
    30 May, 2020
  • Location: دل کی بستی

Re: آغاز جوانی میں ہم ذرا جھوم کے چلتے ہیں

زیدی صاحب ہر آدمی اپنی سوجھ بھوج اور عقل سے حساب سے ہر چیز کا ھل دیتا ہے … جناح نے یہ جھوٹ بول کر پاکستان کے قیام میں ہندو مسلم تنازعہ کا حل موجود ہے تاریخ نے اس کے جھوٹ کو بری طرح ایکسپوز کردیا ہے۔ یہ تنازعہ حل ہونے کی بجائے مزید پیچیدہ ہو گیا .. نفرت کے بیج وہی بوتے ہیں جن کے مفادات نفرتوں میں ہی پنہاں ہوتے ہیں۔ نفرت سے نفرت ملتی ہے اور پیار سے پیار پروان چڑھتا ہے۔۔ آج تک عام عوام کو ان نفرتوں سے کیا ملا ہے۔ سوائے مزید غربت اور خون خرابے کے ۔ جو طبقہ فوائد حاصل کر رہا ہے ۔وہ اس نفرت کو کبھی ختم نہیں ہونے دیں گے۔ نفرت کو بیچنا اور مال بنانا بھی ایک بزنس ہے۔ کون اپنے بزنس کو خراب کرنا چاہے گا ۔ ؟ ہم سب انڈین ہے کوئی بھی عربی یا انگریز نہیں ہے …

باقی اپ سب کی کہانیاں ہیں وہ پبلک ڈیلنگ میں اچھا ہے وہ خراب ہے … اپ چھوٹے اور محدود پیمانے پر سوچ رہے ہیں جب کہ میں دونوں طرف ظلم کی چکی میں پستی اور عوام کی بات کر رہے ہیں … تقسیم ہند سے زیادہ نقصان غریب اور عام عوام کا ہوا ہے ..

دراصل جناح اور انگریز اس ہندو مسلم تنازعہ کو اس خطے کی بربادی بنانے کے جو خواب دیکھ رہے تو یہ اس خواب کی حقیقت ہے یہ بہت بڑا جھوٹ بول کر جناح نے مسلمانوں کو ایک گھڑھے میں گرا دیا جو پتہ کب نکلیں گے ۔

انسیف صاحب، آپ پرانی نام نہاد نفرتوں کا ذکر تو خوب کرتے ہیں لیکن حال میں تسلسل سے کی جانے والی نفرتوں کو کس طرح نظر انداز کر سکتے ہیں ۔میرے خیال میں تو یہ بٹوارا اور ھجرت ایک منطقی چیز تھی جس کو ہونا ہی تھا ، ہمیں اب اس واقعے سے آگے نکل کر حال کی فکر کرنی چاہیے اور جس طرح میں کہہ چکا ہوں کہ محبت کے عمل کی فتح کو صرف علاقائ حدود میں بانٹنے کے بجائے آفاقی سطح پر دیکھنا چاہیے ۔ آج ہندو پاک کے تناذے کی سب سے بڑی وجہ کشمیر ہے اور میرا خیال ہے کہ دونوں ملکوں کو مل بیٹھ کے کوئ ایسا راستہ اختیار کرنا چاہیے جس کے نتیجے میں کشمیری عوام کو اپنی امنگوں اور آرزوں کے مطابق رہنے کا حق مل جائے اور دونوں طرف بسنے والے کشمیری اپنے زندگی کو آزادی سے ڈھالنے کا اختیار رکھتے ہوں ۔ نفرتوں کی فصل بونے کے نتائج کسی بھی ملک کے لیے بہتر نہیں ہونگے اور نہ ہی نفرتوں کی فصل کا کوئ خریدار ہمیشہ میسر ہوگا ۔

آپ بھی بٹوارے کے نفسیاتی مراحل سے نکلنے کی کوشش کریں اور اسے قبول کر لیں ۔ جناح نے غلط کیا ، صحیح کیا ، اچھا کیا یا برا کیا ، ان باتوں پہ وقت ضائع کرنے کے بجائے اس کی حقیقت اور پاکستان کے وجود کو تسلیم کرلیں اور اسی صورت میں نفرت کی آگ کم ہو سکتی ہے ، 72 سال بیشتر گزرنے والے واقعات کے پوسٹ مارٹم کا کوئ عملی فائدہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک اکیڈیمک بحث ہے جو جاری رہے گی ۔ مجھے آپ کے خیالات طارق فتح سے بہت ملتے جلتے لگتے ہیں ، کہیں اس ملعون کی شاگردی تو اختیار نہیں کرلی ؟

×
arrow_upward DanishGardi