آغاز جوانی میں ہم ذرا جھوم کے چلتے ہیں

Home Forums Siasi Discussion آغاز جوانی میں ہم ذرا جھوم کے چلتے ہیں آغاز جوانی میں ہم ذرا جھوم کے چلتے ہیں

#51
unsafe
Participant
Offline
  • Advanced
  • Threads: 53
  • Posts: 922
  • Total Posts: 975
  • Join Date:
    8 Jun, 2020
  • Location: چولوں کی بستی

Re: آغاز جوانی میں ہم ذرا جھوم کے چلتے ہیں

انسیف صاحب ، جن لوگوں نے پیچھے رہ کے جو ام چوپ لیے اس کا ذکر بھی کرتے جائیں کہ اس کے بغیر یہ کہانی مکمل نہیں ہوتی ۔ شاید بھارت میں اکثیریت کے ھاتھوں سے اقلیت پر ہونے والے روزمرہ کے تشدد کی وہ وڈیو آپ کی نظر سے نہیں گزرنا چاہتیں جہاں صرف مذھب کی ظاہرانہ شناخت کے نتیجے میں انسانیت سوز سلوک کیا جاتا ہے ۔ لہذا یہ مرض مذھبی نہیں علاقائ ہے اور دونوں جانب سے کوئ فرق نہیں ہے ۔

زیدی صاحب … وہاں پہ جو لوگ پس رہے ہیں وہ اسی تقسیم کی وجہ سے پس رہے ہیں … ورنہ تقسیم ہند سے پہلے علامہ اقبال صاحب کو بھی وظیفہ ملتا تھا جس پر وہ گھر بیٹھ کر شاعری کرتے اور دوسری اقوام کے لٹیروں کے قصیدے پڑھتے کسی ہندو نے ان کی وظیفہ کھانے کی بات نہیں … اور دوسری بات اپ سے پوچھ سکتا ہوں مجھے یہ بتائیں کہ یہ آزادی لے کے آپ نے کون سا تیر مار لیا ؟ آج آپ کی دنیا میں پہچان کیا ہے ؟ ریاست نے ایک عام آدمی کو دیا کیا ہے ؟ کون سی آزادی خود مختاری کی آپ بات کر رہے ہیں ؟ آپ کی خود مختاری اتنی سی ہے کہ آپ اپنے خیالات کو فیس بک پہ پوسٹ نہیں کر سکتے… اپنی اصلی تصویر لگا کر کوئی بات نہیں کر سکتے .. کہ فوجی غنڈے آپ کو اٹھا نہ لیں … اپ کا لیڈر لندن میں در بدر کی ٹھوکریں کھا رہا ہے اور ایک کتپُتلی پوری قوم کو تنگنی کا ناچ نچوا رہا ہے …. یہ آزادی ہے ؟ انڈیا کا آج پوری دنیا میں نام علم و ٹیکنالوجی اور کلچر کی وجہ سے ہے . آپ کا نام کس وجہ سے ہے ؟؟؟؟ آپ کو کوئی آزادی خود مختاری نہیں ملی . آپ سینتالیس سے پہلے پھر بھی آزاد تھے . اب تو آپ بدترین غلام ہیں …. جگہ جگہ فوجی چھوونیاں ہیں … یہاں تک کی شہری آبادی میں اپ کو جی ایچ قو ہے .. جہاں اپ جا نہی سکتے ..

Navigation

Do NOT follow this link or you will be banned from the site!