آغاز جوانی میں ہم ذرا جھوم کے چلتے ہیں

Home Forums Siasi Discussion آغاز جوانی میں ہم ذرا جھوم کے چلتے ہیں آغاز جوانی میں ہم ذرا جھوم کے چلتے ہیں

#45
Ghost Protocol
Participant
Offline
  • Expert
  • Threads: 159
  • Posts: 5306
  • Total Posts: 5465
  • Join Date:
    7 Jan, 2017

Re: آغاز جوانی میں ہم ذرا جھوم کے چلتے ہیں

یہ مہاجر قیادت مہاجروں کے ہاتھ میں کب آی ؟ مہاجروں کو اپنی تحداد کے لحاظ سے پورا پاکستان نہیں مل سکتا تھا وہ نوے کی دہائی سے قومی اور صوبائی سطح پر وقتا فوقتا حکومت کے اتحادی رہے ہیں اور آج بھی ہیں مگر ان کی پرفارمنس کیا ہے سوائے ہر حکومت میں علحدگی کی دھمکیاں اور حکومت کو چھوڑ کر جانے کی بلیک میلنگ کے علاوہ -مشرف کے طویل دور میں تو وہ مکمل پاور میں رہے ہیں تھوڑا سا وقت مصطفیٰ کمال کا نکال لیں تو پیچھے کیا بچتا ہے- مصطفیٰ کمال بھی لوکل گورنمنٹ میں تھا صوبائی اور وفاقی لیول پر ایم قیو ایم کی کارکردگی پھر بھی صفر ہی رہتی ہے – مہاجروں کے لئے مہاجر قیادت نے کیا کیا ؟ اسکا فیصلہ کرنے کا اختیار کنکے پاس ہے اور اسکا طریقہ کار کیا ہے مہاجروں کو مہاجر پیپلز پارٹی کو سندھی اور عمران خان کو پٹھان کار کردگی کی وجہ سے ووٹ نہیں دیتے بلکے تینوں لسانی یا قوم پرست جماعتیں ہیں جو اپنی کارکردگی سے ہٹ کر صرف زبان یا قوم کی بنیاد پر ووٹ لیتی ہیں – آپ اس لوجیک کو چھوڑ دیں کہ مہاجر چونکے مہاجروں کو ووٹ دیتے ہیں تو مہاجر قیادت کی پرفارمنس اچھی ہے – ایک کراچی کے پانی کا مسلہ تو مہاجر قیادت حل کر نہیں سکی چالیس سال میں – کراچی کے پانی کا مسلہ حل کرنے میں سب سے بڑی ذمے داری مہاجر قیادت کی بنتی ہے کیونکے وہ ہمیشہ وہاں سے منتخب ہوتے ہیں – کیا کراچی کے پانی کے مسلے پر کبھی ایم قیو ایم نے کسی صوبائی یا وفاقی اتحاد سے علحدہ ہونے کی دھمکی دی ؟ ساری دھمکیاں اور بلیک میلنگ ایک اور وزارت ملنے سے ختم ہو جاتی ہیں جو ذاتی خود غرضی ہے اس میں کراچی کی کوئی بہتری نہیں ہے

اعوان بھائی،
آپ کی خوبی شہباز شریف کے شیدائی ہونے کے علاوہ ایک انتہائی تعلیم یافتہ اور کامیاب پروفیشنل ہونے کے ساتھ دردمند دل رکھنے والے تعصبات سے پاک انسان کی بھی ہے جسکی میرا نگاہ میں بڑی قدر بھی ہے. آپ کے بڑے مقدمہ سے کہ مہاجر قیادت اپنے ووٹرز کو ڈیلیور کرنے میں ناکام رہی ہے سے میں مکمل اتفاق کرتا ہوں میرے خیال میں یہ مستقبل میں بھی ناکام رہے گی( ایسا کیوں ہوا اور کیوں ہوگ یہعلحیدہ بحث ہے )ا مہاجر اور دیگر قومیتوں (چونکہ آپ نے پنجابیوں کا ذکر نہیں کیا تو میں بھی انکو استثنیٰ دیتا ہوں) کے لوگ لسانی بنیادوں پر ووٹ دیتے ہیں اس بات سے بھی اتفاق کرتا ہوں .
آپ نے اپنے معیشت والے دھاگہ میں وزن پیدا کرنے کے لئے ٹھوس اعدادوشمار کا سہارہ لیا ہے جو کہ آپ کی ڈیٹا کو اہمیت دینے کی نشاندھی کرتا ہے تو سوچا کراچی اور سندھ پر حکمرانی کے حوالے سے عموما یہ تاثر ہے کہ پچھلے تیس سالوں سے ایم قیو ایم حکمران رہی ہے حقیقت اور ڈیٹا مگر کچھ اور ہی کہانی بتاتے ہیں زیل میں کچھ چارٹوں کی مدد سے اس عرصہ حکمرانی کا دورانیہ دیکھتے ہیں

پہلا چارٹ کراچی کی بلدیہ عظمی کے نظامت کا دورانیہ ١٩٧٩ سے دکھاتا ہے
اس کے مطابق پچھلے چالیس سال میں سب سے زیادہ بلدیہ پر حکمرانی جو کہ تقریبا چالیس فی صدی بنتی ہے وہ پی پی اور پی ایم ایل این کے ادوار میں ایڈمنسٹریٹروں کی رہی ہے دوسرے نمبر پر تین مختلف ادوار پر مشتمل ایم قیو ایم کی نظامت کی رہی ہے جو کہ تقریبا ٣٣% بنتی ہے اور تیسرے نمبر جماعت اسلامی کا دورانیہ ہے جو کہ تقرینا ٢٧% بنتا ہے

دوسرا چارٹ مر حلہ وار بلدیہ کی نظامت کو ظاہر کرتا ہے اسمیں صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ ضیاء اور مشرف جیسے ڈکٹیٹروں نے کم سے کم بلدیاتی سطح تک تو ووٹ کو عزت دینے کی سعی فرمائی تھی اور بلدیاتی انتخابات اور بلدیاتی قیادت مقامی قیادت کو سونپی تھی بد قسمتی سے نام نہاد جمہوری ادوار میں اپنے علاوہ کسی دوسرے کے ووٹ کو عزت دینے کی روایت نہیں پڑ سکی تھی نتیجتا کام زیادہ تر سرکاری تعینات کردہ منتظمین کو سونپ دیا جاتا تھا وہ تو شکر ہے کہ ٢٠١٥ میں سپریم کورٹ کے ووٹرز کو عزت دو کے نعرے کی بدولت بلدیاتی انتخابات ہو گئے تھے  تو تاریخ میں اس نعرے کی کچھ عزت باقی رہ گئی ہے

تیسرا چارٹ قیام پاکستان سے سندھ پر حکمرانی کا چارٹ پیش کرتا ہے

جب آپ ان تمام اعدادو شمار کا جائزہ لیتے ہیں تو تصویر کا نسبتا بڑا رخ سامنے آتا ہے مگر پوری تصور پھر بھی سامنے نہیں آتی ہے مگر پھر بھی یہ تصویر ان تمام تصاویر سے بڑی ہے جو اس حوالے سے آپ کو ہمیشہ دکھائی گئیں ہیں یا آپ دیکھتے آئے ہیں یا آپ خود دیکھنا چاہتے ہیں

Navigation

Do NOT follow this link or you will be banned from the site!