آغاز جوانی میں ہم ذرا جھوم کے چلتے ہیں

Home Forums Siasi Discussion آغاز جوانی میں ہم ذرا جھوم کے چلتے ہیں آغاز جوانی میں ہم ذرا جھوم کے چلتے ہیں

#38
Zaidi
Participant
Offline
  • Advanced
  • Threads: 17
  • Posts: 801
  • Total Posts: 818
  • Join Date:
    30 May, 2020
  • Location: دل کی بستی

Re: آغاز جوانی میں ہم ذرا جھوم کے چلتے ہیں

زیدی صاحب، آج ہی ایک ٹویٹ دیکھا تھا جسمیں لکھا تھا کہ پاکستان کو دیکھیں تو تقسیم غلط نظر آتی ہے اور ہندوستان کو دیکھیں تو تقسیم درست نظر آتی ہے قدرت کی بھی کیا ستم ظریفی ہے کہ جس نظریہ کے تحت ملک وجود میں آیا اس کی حقانیت کا دارومدار فریق ثانی کے اعمال پر ہے جس کو آپ نے فلوئڈ ہونے سے تشبیہ دی ہے . اصولی طور پر نظریہ کی درستگی کی ذمہ داری فریق ثانی سے زیادہ فریق اول پر عائد ہوتی ہے تو کیوں نہ فریق اول کے قول و فعل و رویوں کا جائزہ لیا جائے . تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ نظریہ پاکستان کیا تھا؟ یہ بھی ایک بحث ہے مگر عام اور سادہ الفاظ میں عمومی مفہوم یہ لیا جاتا ہے بر صغیر میں مذہبی لحاظ سے دو بڑے گروہ یعنی ہندو اور مسلمان رہتے ہیں جو کہ دو جداگانہ اقوام ہیں اور جنکا ایک ساتھ رہنا شائد ممکن نہیں ہے لہذا بر صغیر کو مذھب کی بنیاد پر تقسیم کردیا جائے. اور مسلمان اکثریتی علاقوں پر مشتمل ایک مسلم ریاست قائم کردی جائے جسمیں مسلمان اپنے دین پر عمل درآمد کرنے میں آزاد ہوں اگر تو میرا مفہوم نظریہ پاکستان درست ہے تو چند سوالات ذہنوں میں اٹھنا شروع ہو جاتے ہیں کہ ١) جب مسلمان اقلیت ہندو اکثریت پر ہزار سال تک حکومت کرتی رہی تو قومیت کا یہ فرق کسی کو یاد کیوں نہیں آیا؟ تو کیا یہ دین کا معاملہ تھا یا اقتدار کا ؟ ٢) کیا بانیان پاکستان کے ذہن میں نئی مجوزہ ریاست تمام مسلمانان ہند کے لئے تھی یا صرف مسلم اکثریتی صوبوں کے مسلمانوں کے لئے؟ اس سوال سے چند جزوی سوالات بھی ابھرتے ہیں الف) اگر تو نئی ریاست صرف مسلم اکثریتی صوبوں کے مسلمانوں کے لئے تھی تو یہ بنیادی مقدمہ کہ مسلمان ہندووں کے زیر سایہ نہیں رہ سکتے ہیں کا اطلاق مسلم اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں پر کسطرح ہوتا؟ ب) اگر تو نئی ریاست تمام مسلمانان ہند کے لئے تھی تو اقلیتی صوبوں کے لئے کیا تیاری تھی؟ تحریک پاکستان کا جہاں تک مجھے علم ہے ایسی کویی سرکاری دستاویز نہیں ہے جسمیں اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں کی نقل مکانی کا ذکر ہو یا اس سلسلے میں کویی تیاری کی گئی ہو . یا مسلمان اکثریتی صوبوں سے اس بات کی منظوری لی گئی ہو کہ انکے ہاں نقل مکانی ہو گی تو کیا وہ اسکے سماجی ، معاشی اور دیگر اثرات جھیلنے کے لئے راضی ہیں؟ پ) فرض کیا جائے کہ نی ریاست تمام مسلمانان ہند کے لئے تھی تو نقل مکانی کے لئے مسلمانان ہند کے لئے پاکستان کے دروازے ہمیشہ کے لئے کھلے رہنے چاہئے تھے جبکہ واقعہ یہ ہے کہ تقسیم کے ابتدائی سالوں میں ہی نقل مکانی پر پابندی عائد کردی گئی تھی. ت) پاکستانیوں سے تو اپنے نظریہ کی لاج رکھنے کی خاطر اتنا بھی نہیں ہوسکا کہ مشرقی پاکستان میں پاکستان کے نام پر جنگ کرنے والوں اور بے پناہ قربانی دینے والوں کی باقی ماندہ انتہائی قلیل تعداد کو ہی واپس لے آتے جنکی دو نسلیں کیمپوں میں پل کر جوان ہو گئیں ہیں بہت زیادہ تفصیل میں جانے کا موقع نہیں ہے مگر تقسیم کے بعد تسلسل کے ساتھ سرکاری کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر بھی مسلمان قومیت کا تصور فروغ نہ پاسکا. علاقائی اور لسانی گروہ کل بھی اور آج بھی قومی اور لسانی تعصبات میں رنگے ہوے ہیں جسکا ایک نتیجہ ملک کے ٹوٹنے کی صورت میں بر آمد ہو چکا ہے اور آج بھی باقی ماندہ پاکستان مسلم قومیتی فلسفے کے بجائے فوجی ڈنڈے کی مرہون منت قائم ہے پاکستانی مسلمانوں کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ مسلم قومیتی فلسفے کے تحت اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں اور تمام مسلمانوں کو بلکہ تمام شہریوں کو برابر کا انسان سمجھیں اور ہر قسم کے تعصبات کو پیچھے چھوڑ کر مساوات اور اخوت پر مبنی ریاست کا قیام عمل میں لائیں . ایسی ریاست یقینا ترقی اور خوشحالی بھی حاصل کرے گی اور قیام پاکستان کے مقاصد بھی حاصل کرلے گی . ایسی صورت میں نظریہ پاکستان کی حقانیت ہندوستان کے انتہا پسند ہندؤں کے نفرت انگیز اقدامات کی مرہون منت نہیں رہے گی

گھوسٹ صاحب، آپ کی تحریر کا محور آج سے 70 سال بیشتر ہونے والے واقعات، ان کےنتیجے میں ہونے والے فیصلے اور ان فیصلوں کے نتیجے میں لکھی جانے والی تاریخ ہے ۔ کچھ چیزیں ایسی ہوتیں ہیں جن کا مستقبل میں ظہور پزیر ہونا ناگزیر لگتا ہے اور اس امر کے نتیجے میں ہونے والے واقعات کے بارے میں کچھ ازمشنز ( مفروضے ) صحیح یا غلط ،سوچ لی جاتیں ہیں ۔ لیکن ان ازمسنز کا بذات خود اسی حالت میں ظہور پزیر ہونا بھی سو فیصد ممکن نہیں ۔

تشکیل پاکستان کے فوری بعد جوقتل و غارت گری کا ماحول پیدا ہوگیا تھا ۔ لاکھوں خاندانوں کی اس بے ھنگم ھجرت ، اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خون خرابے کی قبل از وقت پیش رفت کے لیے کسی منصوبہ بندی کا فقدان ہی بتاتا ہے کہ اس وقت کی قیادت ، اتنی بڑی ھجرت ، اس کے لاجسٹک اور اس سے وابستہ پیچیدگیوں کے بارے میں یا تو مکمل لاعلم تھی یا حد درجہ نااہل تھی ۔ انسانی نفسیات میں چھپی وحشت کچھ اس ہی قسم کے مواقع پر کھل کر سامنے آجاتی ہے اور وہ نہ کسی اخلاقی قدر کا خیال رکھتی ہے اور نہ کسی مذھبی پابندی کا احترام کرتی ہے ۔

یہ کہنے میں کوئ آر نہیں کہ ہمارے سارے مفروضے ، اپنے تمام تر کمالات کے باوجود ، اب تک، بہت حد تک غلط ثابت ہوئے ہیں اور اس ناکامی میں سرحد کے دونوں طرف کے افراد کی ناکامی یکساں ہے ۔ یہ ایک بہت لمبی بحث ہے اور اس کی تمام جزیات کا احاطہ کرنا بہت کٹھن ہے ۔

کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا ۔
کہیں زمیں ، کہیں آسماں نہیں ملتا

Navigation

DanishGardi