آغاز جوانی میں ہم ذرا جھوم کے چلتے ہیں

Home Forums Siasi Discussion آغاز جوانی میں ہم ذرا جھوم کے چلتے ہیں آغاز جوانی میں ہم ذرا جھوم کے چلتے ہیں

#24
Zaidi
Participant
Offline
  • Advanced
  • Threads: 13
  • Posts: 703
  • Total Posts: 716
  • Join Date:
    30 May, 2020
  • Location: دل کی بستی

Re: آغاز جوانی میں ہم ذرا جھوم کے چلتے ہیں

زیدی صاحب، اس موضوع پر گفتگو کی بہت گنجائش ہے اسکی بہت ساری جہتیں ہیں کسی ایک شخص کے لئے تمام جہتوں کے ساتھ انصاف کرنا ناممکن سا محسوس ہوتا ہے کہ کہیں نہ کہیں اپنے اپنے معلوم یا نامعلوم انکاری یا تسلیم شدہ تعصبات اہم کردار ادا کرتے ہیں میرے خیال میں مہاجروں کی تسلسل کے ساتھ آزمائش کا تعلق اپنی اصل کی پہچان یا اس سے انکار میں پوشیدہ ہے اور یہ سلسلہ تقسیم سے قبل اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں کا اپنی مقامی اکثریتی اور غیر مسلم آبادی کے متعلق انکے نظریات ، خیالات اور شائد انکے لئے تضحیک آمیز جذبات میں پوشیدہ ہے جس نے انکو اپنے ملک کو تقسیم کرنے کی تحریک کا ہراول دستہ بننے پر نہ صرف مجبور کیا بلکہ مذھب کی بنیاد پر بننے والے ملک کی خاطر اپنے پرکھوں کی سر زمین کو چھوڑنے پر مجبور یا آمادہ کیا ، تحریک آزادی بنگال ، پنجاب یا کسی حد تک سندھ میں ہوتی تو بات سمجھ آتی تھی کہ یہ علاقے مجوزہ نئے ملک کا حصہ بننے تھے مگر مسلم اقلیتی علاقوں کے مسلمانوں کے لئے تقریبا یہ بات واضح تھی کہ مجوزہ مذہبی مملکت میں انکے جغرافیائی علاقوں کی شمولیت نہیں ہونی تھی تو آخر انکو کس بات نے تحریک کا ہراول دستہ بننے پر مجبور کیا؟ یہ بات میری سمجھ سے فلحال باہر ہے کیوں کہ ہجرت کے بارے میں مجھے تقسیم کے قبل کویی حوالہ نہیں ملتا یہ تقسیم ہند کےنتیجہ میں پھوٹ پڑنے والے فسادات کا لازمی نتیجہ تھی ایسے فسادات ہونا تقرینا یقینی تھے بلکل اسی طرح جسطرح آج مہاجروں کو الگ صوبے کا چورن بیچنے کی کوشش ہو رہی ہے اس کے نتیجہ میں خون کی ندیاں بہنا لازمی ہیں جنکے بارے میں کویی بات نہیں کررہا . منیر نیازی کی یہ خوبصورت نظم بہت ساری صورتحال کا درست احاطہ کرتی ہے کس دا دوش سی کس دا نئیں سی اے گلاں ہُن کرن دیاں نئیں ویلے لنگ گئے ہُن توبہ والے راتاں ہُن ہوکے بھرن دیاں نئیں جو ہویا او تے ہونا ہی سی تے ہونیاں روکے رکدیاں نئیں اک واری جَد شروع ہو جاوے تےگل فیر ایویں مُکدی نئیں کُج انج وی راہواں اوکھیاں سَن کج گَل وچ غم دا طوق وی سی کج شہر دے لوک وی ظالم سَن کج سانوں مرن دا شوق وی سی

تقسیم ھند یا تشکیل پاکستان کے منفی یا مثبت نتائج کے بارے میں کوئ بھی بحث حتمی قرار نہیں جاسکتی کہ صورتحال 72 سال بعد بھی بہت فلووڈ ہے ۔ 70 کی جنگ کے نتائج کے بعد مسلمانان ھند کی بحثی مجالس میں شاید ان کے ھجرت نہ کرنے کے فیصلے کو ایک جائز اور دانشمندانہ فیصلہ قرار دیا جاتا تھا ، تاہم بابری مسجد کے انہدام اور مودی حکومت کے قیام کے بعد ، ان ہی مجالس میں اب بکثرت پیچھے رہ جانے کے تمام تر منفی اثرات پر بحث جاری ہے اور کوئ صورتحال ایسی نہیں کہ اس فیصلے کو اب ایک غیر دانشمندانہ فیصلہ قرار نہ دیا جاتا ہو ۔

کسی بھی قوم کے مستقبل کے بارے میں ، ان کی ممکنہ ھجرت کے امکان کے پیش نظر ، ایسی کون سی طاقت یا کشش ہے ، جو انہیں ایک فیصلے پر متفق کرتی ہے ؟۔ کیا یہ صرف امپلسیو رسپونس کا نتیجہ تھا یا پھر اس میں سب کی کولیکٹیو وژڈم کا عمل دخل تھا ؟ کیا یہ مشترکہ فیصلہ کسی دباؤ کے پیش نظر تھا یا پھر بحیثیت مجموعی قوم کے نظرے کی صداقت پر ایمان کا درجہ تھا جس نے انہیں اپنے مستقبل سے بے خوف وخطر کردیا اور انہوں نے بھی نظریاتی اساس کو اپنے مستقبل کے لیے ضروری سمجھا ؟

ان سوالوں کا جواب پاکستان کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے ۔ اس کی کامیابی یا ناکامی ، وہ کسوٹی ہے جو آج سے 72 سال پہلے کیے گئے فیصلوں کو سچا یا جھوٹا ثابت کر سکے گی۔

Navigation

Do NOT follow this link or you will be banned from the site!