آغاز جوانی میں ہم ذرا جھوم کے چلتے ہیں

Home Forums Siasi Discussion آغاز جوانی میں ہم ذرا جھوم کے چلتے ہیں آغاز جوانی میں ہم ذرا جھوم کے چلتے ہیں

#16
Zaidi
Participant
Offline
  • Advanced
  • Threads: 17
  • Posts: 801
  • Total Posts: 818
  • Join Date:
    30 May, 2020
  • Location: دل کی بستی

Re: آغاز جوانی میں ہم ذرا جھوم کے چلتے ہیں

عاطف بھائی، یہ واقعہ شام کے وقت تھا جب لوگوں کی اپنے دفتروں اور کارخانوں سے واپسی کا وقت تھا اور یہ افواہیں گرم تھیں کہ بہت ساری خواتین اغوا ہو گیئں ہیں . میری اپنی ایک رشتہ دار خاتون جنکا دفتر ٹاور کے علاقے میں تھا وہ اس شب اپنے گھر نہیں پہنچ سکیں تھیں چونکہ تمام سیل فون کے روابط منقطع تھے تو انکی خیریت کی کویی اطلاع نہیں تھی گھر والوں کا وسوسے اور صدمے سے برا حال تھا دوسرے دن خاتون بخیر و عافیت گھر پہنچ گئیں اور بتایا کہ شہر میں برے حالات کی وجہ سے دفتر کی تمام خواتین نے رات دفتر میں ہی گزاری اور دوسرے دن موقع مناسب جان کر گھر پہنچ گئیں اسکے علاوہ مجھے ذاتی طور پر کچھ علم نہیں ہے کہ کسی خاتون کے ساتھ زیادتی ہویی ہو جنکے ساتھ ہویی ہو گی ظاہر سی بات ہے انہوں نے کونسا ڈھنڈورا پیٹنا تھا اس شہر میں کبھی لوگوں کے شناختی کارڈ دیکھ کر انکے فرقہ کا اندازہ کرکے مارا گیا تو کبھی انکی لسانیت کا تعین کرکے زندگی اور موت کے فیصلے ہوے مگر اس روز شہر میں جو وحشت تھی اسکا شکار تمام ہی اقوام ھویں ظاہر سی بات ہے کہ بطور اکثریتی گروہ مہاجروں کا جانی و مالی نقصان بھی زیادہ ہوا ہوگا

گھوسٹ صاحب ۔ یہ کتنی افسوسناک صورتحال ہے کہ مہاجر قوم کے اپنے مسیحا اس کے زخموں پر نمک پاشی کرتے ہوۓ اپنے ذاتی منفعت کے لیے ایک پوری قوم کو عذاب میں جھوکنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں ۔ آپ تاریخ اٹھاکر دیکھ لیں ۔ جماعت اسلامی سے پی ٹی آئ تک اور لالو کھیت سے تین تلواروں تک ، کراچی نے ہر کسی کے کشکول کو بھرا لیکن ھر کوئ کراچی کو کرچی کرچی کر گیا ۔ غیروں سے گلا تو فضول ہے اور اپنوں کے دیے ہوئے غم سے تسکین لا حاصل ۔

ہم ہی ہمیشہ قتل ہوئے اور تم نے بھی دیکھا دور سے لیکن
یہ نہ سمجھنا ہم کو ہوا ہے ، جان کا نقصاں تم سے زیادہ

  • This reply was modified 2 months, 1 week ago by Zaidi.

Navigation

DanishGardi