نااھل الیون

Home Forums Siasi Discussion نااھل الیون نااھل الیون

#6
Zaidi
Participant
Offline
Thread Starter
  • Advanced
  • Threads: 12
  • Posts: 696
  • Total Posts: 708
  • Join Date:
    30 May, 2020
  • Location: دل کی بستی

Re: نااھل الیون

زیدی صاحب، جب کویی چور، ڈاکو ، قاتل یا آیین کی خلاف ورزی جیسے جرائم کا مرتکب شخص پھڑا جاتا ہے تو مجبوری و شرمندگی میں اپنے ماضی کے اقدامات پر اظہار شرمندگی کرتا ہے اصول و قانون کی دنیا میں اسکی بحالت مجبوری اظہار ندامت کی کویی حیثیت نہیں ہوتی اور اسکو اپنے جرائم کی سزا تو بھگتنی پڑتی ہے ضیاء کی گود میں خالصتا مفاد پرستی کے تحت پرورش پانے والے میاں صاحب نے بےنظیر کی جائز حکومت کے خلاف فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر جس کھیل کی بنیاد رکھی اور چھانگا مانگا کا کلچر سیاست میں متعارف کروایا اور ایک جائز جمہوری حکومت کو گرانے کے لئے پنجاب کارڈ کا کھیلا اس سارے عمل نے پاکستان کی سیاست کا رخ ہی تقریبا تبدیل کردیا.اور کرپشن اس قوم کی رگوں تک میں سرایت کر گئی اب جبکہ اپنے ہی مفاد کے زیر سایہ میاں صاحب گنگا نہا کر پوتر ہونے کا جو ڈھونگ رچا رہے ہیں اور عمران خان کے انہی کی راہوں پر چہل قدمی پر جمہوریت کا لبادہ اوڑھے ہوے ہیں ایسے میں اگر وہ اپنے ماضی کے جرائم پر اظہار ندامت کرتے ہوے قوم سے معافی مانگتے تو پھر بھی اخلاقی لحاظ سے اس پوزیشن میں نہیں ہوتے کہ دوسرے چور کو چور ، ڈاکو کو ڈاکو یا قاتل کو قاتل کہہ سکتے یہاں تک کہ اپنے جرائم کی سزا بھگت چکے ہوتے. میری نظر سے تو میاں صاحب کا اپنے جرائم پر اظہار ندامت یا معافی بھی نہیں گزری ہے سزا کاٹنے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا. لہذا میاں صاحب کا عمران خان پر اسٹیبلشمنٹ کی کٹھ پتلی کے حوالے سے تنقید جچتی نہیں ہے میاں صاحب کے تمام غیر متنازعہ جرائم سے کافی حد تک آگاہی کے باوجود میرے خیال میں آج بھی میاں صاحب پاکستان کا سب سے بڑا اور قیمتی سیاسی اثاثہ ہیں اور میرے پاس اس نظریہ کی حمایت میں کافی دلائل ہیں جنکا اظہار وقتا فوقتا میں انہی دھاگوں پر کرتا رہا ہوں Zaidi

گھوسٹ صاحب، اس بات میں کس شک کی گنجائش باقی ہے کہ سارے سیاستدانوں نے اس بوٹ کے خول میں اپنے اپنے پیروں کا پنجہ ڈالا ہے ۔ میاں نواز نے بھی ماشا اللہ کسی بھی قسم کی کسررکھ نہیں چھوڑی ہے اور نہ ہی وہ دودھ کے دھلے ہیں جو ان کے ماضی کو حدف تنقید نہ بنایا جائے ۔
تاہم ، اس سارے اعتراف کے بعد اور سیاستدانوں کو پانچ سو جوتے مارنے کے بعد ، کیا ہماری فوج کے جنرلوں کے غلیظ ماضی اور حال کے اعمال کا دفاع کیا جاسکتا ہے ؟
میں پاکستان کی موجودہ اور پہلے کی سیاسی قیادت سے انتہائ مایوس ہوں ۔ کیا میں ان سب پر اپنے آنے والے کل سے وابستہ مستقبل کے لیے اعتماد کر سکتا ہوں ؟ کیا یہ   میرے اعتماد کو ٹوکری میں رکھ کر پھر دوبارہ فروخت کے لیے جی ایچ کیو کے دروازے نہیں کھٹکٹائیں گے ؟
بلاشبہ مجھے اپنے ملک میں ہونے والی، غیر اخلاقی، غیر قانونی فوجی مداخلت سے نفرت ہے لیکن کیا مجھے اس کے خلاف کھڑے ہونے والی کوئ مخلص اور ایماندار سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والی شخصیت نظر آتی ہے یا لائق اعتبار ہے ؟ ھر گز نہیں ۔

اس کا حل کیا ہے ؟ کیا میں اس خلا کی وجہ سے اس بڑھتی ہوئ مداخلت اور جنگل کے قانون کے خلاف خاموش رہوں جہاں دن دھاڑے لوگ صرف نقطہ نظر کے اختلاف پر اغوا کر لیے جاتے ہیں ۔ کیا میں مخلص سیاسی لیڈر کے انتظار میں فوجی گدھوں کے غول کو قوم کی ادھ موئ لاش کو ادھیڑنے کی اجازت دے دوں ۔ کیا میں فوج کے مراسیوں کی جماعت کو جوائن کرکے ان کے غیر قانونی اقدامات پر گلہ پھاڑ کے ان کی حمایت کے پرچے لکھوں ؟ یا پھر اپنی ضمیر کی آواز کو سن کر اپنی وساعت کے مطابق غلط کو غلط اور حق کو حق کہتا رہوں ؟

میرا خیال ہے کہ آپ بھی ہمیشہ دوسرے آپشن کو اختیار کریں گے ۔

Navigation

Do NOT follow this link or you will be banned from the site!