پنجاب کی سیاست میں انقلابی تبدیلیاں

Home Forums Siasi Discussion پنجاب کی سیاست میں انقلابی تبدیلیاں پنجاب کی سیاست میں انقلابی تبدیلیاں

#166
Ghost Protocol
Participant
Offline
Thread Starter
  • Expert
  • Threads: 158
  • Posts: 5300
  • Total Posts: 5458
  • Join Date:
    7 Jan, 2017

Re: پنجاب کی سیاست میں انقلابی تبدیلیاں

Ghost Protocol sahib

محترم

بہت شکریہمیرے خیال میں پاکستان کے دوسرے صوبوں ، علاقوں اور قوموں میں جو تھوڑی بہت انقلابی بات ہوئی وہ پوری قوم کے حوالے سے تھی. میرے خیال میں پنجاب میں جس انقلابی سراب کا گماں ہو رہا ہے وہ ایک جماعتی سطح پر ہے اور اس سیاسی جماعت کی بحالی اقتدار کے آنے کے بعد شاید منظر سے غائب ہو جاۓ . یہ انقلاب کی جدوجہد نہیں بلکہ پنجاب سے اپنی بیشتر طاقت حاصل کرنے والی دو سیاسی جماعتوں کی جنگ ہے

باقی علاقوں میں اس انقلابی سوچ کی بات سیاسی جماعتوں کی حد تک نہیں تھی میرے خیال میں

ہاں ، اس بات کا تعیین کرنے کی ضرورت ہے کے انقلاب سے مراد کیا ہے . جس طرح مجھ کم عقل کو آج تک جمہوریت کی تعریف سمجھ نہیں آئ اسی طرح مجھے انقلاب کی تعریف بھی سمجھ نہیں آئ

میرے نزدیک انقلاب حاکم اور محکوم کے نظام کو جو اوپر سے لیکر نچلی سے نچلی سطح تک موجود ہے کو ختم کرنا ہے . جہاں ہر سطح پر نچلی سطح والے سے نہ صرف توقع ہو بلکہ لازمی ذمے داری ہو کے اپنے سے اوپر والے کو سلام کرے وہاں انقلاب آے گا مگر شاید دیر سے .

یہ میرا ہمیشہ کی طرح منفی نکتہ نظر ہے

جے بھیا،
یہاں “انقلابی تبدیلیاں” میں لفظ انقلاب ایک فگر آف اسپیچ کے طور پر استعمال ہوا ہے اس سے ہر گز مراد فرانس کی طرز کا انقلاب نہیں ہے
یہاں میرا بنیادی مقصد پاکستان کی حالیہ تاریخ میں پہلی مرتبہ اہل پنجاب کی ایک انتہائی معمولی اقلیت کی طرف سے فوج کی سیاست میں مداخلت پر اعتراض اور جمہوریت کے ساتھ وابستگی کی آوازیں آرہی ہیں روایتی طور پر جب بھی افواج کی طرف سے چھوٹی قومیتوں کے خلاف ظالمانہ کاروائیاں ہوتی رہیں ہیں تو عمومی طور پر اہل پنجاب فوجی مظالم کے ساتھ کاندھا ملا کر کھڑے ہوتے رہے ہیں اور مخالفین کو غداری کے سرٹیفکیٹ ہول سیل میں جاری کرتے رہے ہیں مگر پہلی مرتبہ شائد ایک پنجاب کے بیٹے کے خلاف انتقامی کاروائیوں کے ادراک نے کچھ لوگوں کے ضمیروں کو (کنڈیشنلی) جھنجھوڑ دیا ہے
مجھے بہت سارے تجزیہ نگاروں کے اس تجزیہ سے بھی اتفاق ہے کہ جمہوریت وغیرہ سے یہ وابستگی اصل میں صرف میاں صاحب کے اقتدار میں آنے سے یا انکی مشکلات میں کمی سے مشروط ہے غالب گمان ہے کہ میاں صاحبان کے ساتھ کسی بھی قسم کی ڈیل کے ساتھ ہی یہ جمہوریت پسندی اور فوج پر تنقید گٹر کے راستہ بہہ جائیگی مگر پھر بھی انتہائی اقلیت میں ایک طبقہ ضرور چھوڑ جائیگی جو حقیقی معنوں جمہوری اصولوں اور اقدار کا حامی ہوگا اس طبقہ کا ظہور اور باقی رہنا ہی بہت بڑی تبدیلی ہو گی کیوں کہ یہ طبقہ پہلے تو ناپید ہی تھا .

Navigation

Do NOT follow this link or you will be banned from the site!