میرے وزیر اعظم کے کتُے دوست

Home Forums Siasi Discussion میرے وزیر اعظم کے کتُے دوست میرے وزیر اعظم کے کتُے دوست

#4
Awan
Participant
Offline
  • Professional
  • Threads: 144
  • Posts: 2862
  • Total Posts: 3006
  • Join Date:
    10 Jun, 2017

Re: میرے وزیر اعظم کے کتُے دوست

اعوان صاحب، پاکستان کی سیاست میں جتنا زہر ، غلاظت ،جھوٹ اور لوٹا گیری شیخ رشید نے بھری ہے ، اس سے زیادہ شاید کوئ اور مشکل سے ہی پایا جائے گا۔ اس کے کرتوت کتوں سے بھی زیادہ ناپاک اور نجس رہے ہیں اور یہ تصویر اسی کی نشاندھی کرتی ہے ۔ اس بندے کی غلامانہ ذھنیت ہر فوجی آمر سے مل کر مذید پستی کی طرف مائل ہوئ ہے اور پاکستان کی سیاست میں فوجی مداخلت کی نشانی ہے ۔ہر آمر اور لالچی شخص کی طرح اس سگ پاکستان نے بھی ہر برتن پلید کیا ہے ۔

جہاں تک عمران اور کتوں کی تصویر کا اس موقعہ پر اجرا کا تعلق ہے ، میں سمجھتا ہوں کہ اسے اپنی دماغی معائنہ کروانا چاہیے ۔ یہ ایک پیچیدہ نفسیاتی مریض ہے اس بارے میں مذید تفصیل ریحام خان نے اپنی کتاب میں بیان کی ہے ۔

۔

کنُد ہم جنس باہم جنس پرواز

ذیل میں جنگ اخبار لاہور کا صفحہ اول ملاحظہ فرمائیں ۔ کوئ حکومت جلسہ کی خبروں سے اس قدر خوفزدہ بھی ہوسکتی ہے کہ پورے کا پورا صحفہ ہی اپنے اشتہار کے لیے خرید لے ؟ جو کچھ مین اسٹریم میڈیا پر جلسے کے بارے میں کل جبرا” غلط خبریں ڈلوائ گئیں ، وہ اسی کتا خصلت کی نشاندھی کرتی ہیں ، ایک کامیاب جلسے کو ناکام ثابت کرنے کے لیے مرکزی اور صوبائ وزراء جس طرح حلق پھاڑ پھاڑ کر جھوٹ بول رہے تھے ، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مریم کا تیر ٹھیک نشانے پر لگا ہے ۔

زیدی صاحب آپ نے شیخ رشید کے کردار کی جو تفصیل دی ہے وہ ایسے ملک میں جہاں بہتر سال براہ راست یا بلواسطہ فوج حکمران رہی ہو کوئی عجیب بات نہیں ہے – یہ شیخ نہ ہوتا تو کوئی اور ہوتا – جب انگریز یہاں حاکم تھے تو ایسے کرداروں نے اس کی خوشنودی سے لمبی جائیدادیں حاصل کیں – ایسے کردار آتے رہیں گے جب تک یہاں مکمل جمہوریت نہیں آ جاتی جب تک لوگوں کو یقین نہیں ہو جاتا کہ اب فوج کی خوشامد کسی کام کی نہیں اب عوام کے دل جیتنے ہونگے – اگرچے میں بہت بڑی بات کرنے جا رہا ہوں اور اس میں میرا تجزیہ کم اور خوائش زیادہ ہے مگر مجھے لگتا ہے فوج کی آشیر وار سے آنے والا بادشاہ عمران خان آخری ہے – میں اسے فوجی مداخلت سے آنے والوں کا بہادر شاہ ظفر کہوں گا – فوج جتنی اس بار ذلیل ہوئی ہے کبھی کسی سویلین یا مارشل لاء میں نہیں ہوئی – مجھے لگتا ہے اگلا الیکشن کل ہو یا ڈھائی سال بھد فوج کی مداخلت کم سے کم ہو گی اور بتدریج کم سے کم ہوتی جائے گی – جیسا کہ میں نے کہا یہ تجزیہ یا پیشن گوئی کم اور میری خوائش زیادہ ہے لیکن میں سمجھتا ہوں اس کے بحرحال اچھے خاصے امکانات موجود ہیں – اگلی بار فوج بھلے اپنے پٹھو شہباز شریف کو لائے مگر نہ ایسی پولیٹیکل انجینرنگ ہو گی جتنی پچھلی بار ہوئی اور نہ شہباز انہیں ہر ادارے میں سربراہ اور ہر وزارت میں مشیر لگائے گا – میں نے پہلے بھی لکھا ہے یہ فوج کا موجودہ نظام میں بہت زیادہ فوجی تعیناتیاں فوج کی خوائش کم اور مجبوری زیادہ ہیں – خان سب کچھ ڈبونے چلا تھا سسٹم کے سب سے بڑے اسٹیک ہولڈر نے سسٹم کو بچانے کے لئے نیچے یہ پلر رکھے ہیں -خان کے پہلے سال اور پہلی کابینہ میں یہ سب نہیں تھا – ایک تجربے کار وزیر اعظم کی موجودگی میں اس کی ضرورت بھی نہیں رہے گی – شہباز بھی فوج کی خوشنودگی کو عزیز رکھے گا مگر ان کا براہ راست حکومت میں کردار بہت محدود ہو جائے گا اور وقت کے ساتھ کم ہوتا جائے گا – میرا خیال ہے خان کو ایک ٹھوکر فوج سے لگنے کی دیر ہے وہ بھی سمجھ جائے گا کہ سیاست میں فوج کا کوئی کام نہیں ہے – اب واحد یہی پارٹی رہ گئی ہے ورنہ باقی سب پارٹیاں اس بات پر متفق ہیں –

Navigation

Do NOT follow this link or you will be banned from the site!