قصور خان صاحب کا بھی نہیں

Home Forums Siasi Discussion قصور خان صاحب کا بھی نہیں قصور خان صاحب کا بھی نہیں

#18
Awan
Participant
Offline
  • Professional
  • Threads: 144
  • Posts: 2861
  • Total Posts: 3005
  • Join Date:
    10 Jun, 2017

Re: قصور خان صاحب کا بھی نہیں

اعوان صاحب، پاکستان کا باشعور طبقہ یہ بات اچھی طرح سے جان چکا ہے کہ آئین کی موجودہ شکل فوجیوں نے اپنے مقام خاص سے اتنی دفعہ پونچھی ہے کہ اب یہ باعث سعادت نہیں رہا ۔ آج بھی اپنے دور کے شریف پیرزادہ ، نسیم فروغ کی شکل میں فوجیوں نے مہارت کے ساتھ حکمرانی طبقے میں شامل کیے ہوئے ہیں ، ویسے قابل رشک ہے یہ بے غیرت لوٹا نسیم فروغ بھی کہ جب بھی فوجیوں نے چاہا اسے وزیر سے مشیر اور پھر وکیل سے وزیر بنادیا اور یہ بے عصمت شخص بھی رات بھر فوجی بیرکوں میں خدمت گزاری کے بعد ہر صبح سوٹ پہن کر ایک باعزت ، بے ضمیرے کی اداکاری کرتا رہتا ہے ۔ ہر سوال کے جواب میں ” یہ آپ نے بہت اچھا سوال پوچھا” کی بے توقیرانہ منافقت ٹپکاتا پھرتا ہے ۔ پاکستان میں جب تک ایسے بے شرم ، مردہ ضمیر اور آسودہ غلام جو اپنے آپ کو پڑھا لکھا بھی تصور کرتے ہیں ، موجود رہیں گے ، فوجیوں کو اپنی بادشاہت کبھی بھی خطرے میں محسوس نہ ہوگی ، اس طرح کے حرام الدھر اس ملک میں کثرت سے پائے جاتے ہیں ۔ ملک کے سمجھ دار اور باشعور لوگوں کو مل بیٹھ کر اس دستور میں ڈراسٹک قسم کی ترمیمات لانی پڑیں گی جس سے نہ صرف ملٹری انڈسٹرل کمپلیکس کو اسکی حدود میں دھکیلا جائے بلکہ عدلیہ اور فیوڈزم کے آگے بھی حصار کھینچا جائے اورایسے عملی اقدام کیے جائیں جس سے لوگوں کو فوری ریلیف ملے ۔

زیدی صاحب طاقتور اپنے لئے کوئی نہ کوئی راستہ نکال لیتے ہیں – جب نوے کی دہائی میں بے نظیر اور نواز کی دو بار حکومتیں صدر کے اسمبلی توڑنے پر گئیں تو نواز نے دو اکثریت والے دور میں صدر سے یہ اختیار لے کر اسے ڈمی بنا دیا – کیا اس کا فائدہ ہوا ؟ نہیں کیونکے اگلی بار فوج نے ڈائریکٹ مارشل لاء لگا دیا – اس بار بھی آئین میں سے صادق اور امین کی شک نکال کر وزیر اعظم کو اقامہ پر نا اہل کر دیا گیا – آپ تاریخ دیکھیں جب بھی فوج کو مار پڑتی ہے تو کچھ عرصے کے لئے وہ ہاتھ روک دیتے ہیں – جب ملک دو ٹکرے ہوا اور فوج کے ساتھ کتے والی ہوئی تو بھٹو ایک با اختیار وزیر اعظم بن گیا مگر یہ سات سال چلا اور پھر ضیاء نے مارشل لاء لگا دیا – ضیاء جب تک ہوا میں پھٹ نہیں گیا اس سے ہماری جان نہیں چھوٹی – مشرف کے دور میں بھی جب لوگ فوجی وردی دیکھ کر فوج کو مارتے تھے اور فوج انتہائی ذلیل ہو چکی تھی تو دو ہزار آٹھ اور دو ہزار تیرہ کے کے الیکشن کافی حد تک آزاد ہوئے اور زرداری دور میں تو کچھ خاص فوج کی طرف سے مداخلت نہیں ہوئی مگر نواز دور میں فوج کو پھر خارش ہوئی کہ بہت سال ہو گئے اب کچھ ہونا چاہئے ورنہ نواز اگلا الیکشن بھی جیت کر ہمارا گلہ پکڑ لے گا – آج کل فوج کے ساتھ جو ہو رہی ہے اور کھلے عام ان کے خلاف باتیں ہو رہی ہیں الیکشن آج ہوں یا ڈھائی سال بھد مجھے یقین ہے فوج بڑی مداخلت سے باز رہے گی اور منہ چھپا کر کم از کم اگلے الیکشن میں ایک طرف بیٹھی رہے گی

  • This reply was modified 1 month, 1 week ago by Awan.

Navigation

Do NOT follow this link or you will be banned from the site!