نون لیگ اور اسٹیبلشمنٹ ، پس پردہ کیا ہو رہا ہے ؟

Home Forums Siasi Discussion نون لیگ اور اسٹیبلشمنٹ ، پس پردہ کیا ہو رہا ہے ؟ نون لیگ اور اسٹیبلشمنٹ ، پس پردہ کیا ہو رہا ہے ؟

#24
Zaidi
Participant
Offline
  • Advanced
  • Threads: 7
  • Posts: 597
  • Total Posts: 604
  • Join Date:
    30 May, 2020
  • Location: Wadi Al Ain

Re: نون لیگ اور اسٹیبلشمنٹ ، پس پردہ کیا ہو رہا ہے ؟

زیدی صاحب آپ نے دو ہزار تیرہ کی بات کی تو یاد آیا کہ زرداری جب ۲۰۰۸ میں حکومت میں آیا تو پاکستان کا بیرونی خسارہ ۸ ارب ڈالر تھا۔ اس وقت کا ۸ ارب خسارہ بھی شاید ۲۰۱۸ کے ۲۰ ارب ڈالر خسارے جتنا ہی مشکل مرحلہ تھا۔ تب زرداری حکومت نے بھی وہی کیا تھا جو آج کیا گیا ہے۔ اس وقت بھی انفلیشن چودہ پندرہ فیصد تھا اور سود کی شرح بھی تقریبا یہی تیرہ چودہ فیصد رہی ہوگی۔ جی ڈٰ پی گروتھ جو ۲۰۰۵ میں نو فیصد اور اس کے بعد ۲۰۰۶، ۲۰۰۷ اور ۲۰۰۸ میں ۵ فیصد سے زیادہ تھی وہ ایک دم سے آدھے فیصد سے بھی کم رہ گئی تھی۔ لوگ اس وقت بھی زرداری کو برا بھلا کہہ رہے تھے۔ لیکن زرداری نے ایکسپورٹس کو ۲۰ ارب سے ۲۵ ارب تک بڑھایا اور جب حکومت نواز شریف کو دی تو بیرونی خسارہ صرف اڑھائی ارب تھا۔ اسی طرح جی ڈی پی گروتھ بھی پانچ فیصد سے کچھ ہی کم تھی۔ زرداری مشکل کام سر انجام دے چکا تھا اور جب سب کچھ ٹھیک ہو گیا تو حکومت میاں صاحب کو مل گئی۔ . میاں صاحب نے تین سال تو آئی ایم ایف کے دباؤ میں بیرونی خسارے کو اڑھائی فیصد ہی پر رکھا لیکن اس کے بعد انہوں نے وہ کیا جس کا رزلٹ پچھلے دو سال میں نظر آتا ہے۔خسارہ اڑھائی ارب ڈالر سے ۲۰ ارب ڈالر پر لے گئے اور پانچ سال میں ایکسپورٹ ۲۵ ارب سے ساڑھے ۲۳ ارب پر لا کھڑی کی۔ رہی بات بجلی کے کارخانوں اور موٹر وے کی کہ جن پر اخراجات کا رونا رو کر کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی تاویل پیش کی جاتی ہے تو سی پیک پراجیکٹس کا تو ایک پیسہ بھی ادا نہی کیا گیا جبکہ موٹر وے پر خوش ہونا صرف پرائیرٹیزپر منحصر ہے کہ مثلا کووڈ آنے پر مزدوروں اور چھوٹے بزنسز کو دیا گیا ۱۲۰۰ ارب کا پیکچ ہی موٹر ویز پر پانچ سال میں لگنے والے پیسے سے دوگنا ہے۔

عباسی صاحب، لمبی چوڑی بحث میں جانے کی بجائے ان حالات کا اندازہ کریں جب ملک میں 1999 سے لیکر 2007 تک بجلی کی پیداوار میں ایک میگاواٹ کا اضافہ بھی نہیں کیا گیا ۔ یہاں تو عام صارفین 20 گھنٹے لوڈ شیڈنگ کا شکار رہتا تھا تو صنعت کو بجلی کہاں سے مہیا کی جاتی ۔ امن وامان کی صورتحال درگرو تھی اور کوئ کمپنی اس صورتحال میں پاکستان آنے کو تیار نہیں تھی ۔ مسلم لیگ کی حکومت نے جن حالات میں حکومت سنبھالی تھی وہ دیکھنے سےتعلق رکھتی تھی ۔
بجلی کی پیداوار کے منصوبے ایک یا پانچ سال میں ہی نہیں لگتے اور جب صنعتوں کو انرجی ہی نہ مہیا کی جاسکے تو پھر برآمدات میں اضافے کی توقع فضول ہے ۔ ھاں 2013 سے 2018 تک انفرا اسٹکچر کے منصوبوں نے نتائج دینا شروع کردے تھے اور وہ پرائم ٹائم تھا جب برآمدات میں اضافے کی منصوبہ بندی شروع کی جاتی ۔
کسی بھی ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے قرض لینے میں کوئ برائ نہیں جبکہ مجموعی جی ڈی پی کی مناسب شرح کے اندر رہتے ہوئے وہ قرض لیا جائے ۔ جب جی ڈی پی ، 5 اعشاریہ 6 سے ایک ہی سال میں منفی کی سطح پر آجائے ، وزیر خزانہ کو سمجھ نہ آئے کہ کیا کرنا ہے ، روپے سے آئ ایم ایف کے کہنے پر یکمشت پیگ ھٹادیا جائے ، سودی ریٹز کو 8 فیصد سے ساڑھے تیرہ فیصد کردیا جائے ، تو ملک میں مہنگائ نہیں بڑھے گی تو کیا ہوگا ۔

بونگی حکومت ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے کہ سی اے ڈی 20 ارب سے 2 ارب پر لے آئے ، شاید یہ اسی لیے حکومت میں آئے تھے ، درآمدات مکمل بند کرکے ملک کی معشیت کی قیمت پر یہ حدف آسانی سے حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ کوئ راکٹ سائنس نہیں ہے ۔
جہاں تک قرضوں کا معاملہ ہے ، پچھلے دو سالوں میں لیے جانے والے قرضے تو پچھلے پانچ سال کے قرضوں سے بھی زیادہ ہیں ۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت گرانے سے جو اضافہ قرض میں ہوا ہے وہ خود ہوش ربا ہے۔
پھر کررونا کے مقابلے میں کونسی حکومت حکمت عملی تھی ، جس کی وجہ سے کرونا کیسز میں اضافہ نہیں ہوا ؟ کوئ ایک بھی ایسا عمل بتا دیں جو ساری دنیا سے منفرد اختیار کیا گیا ہو اور اسکے نتیجے میں پاکستان میں کررونا پر قابو پایا گیا ہو ؟

آپ کا یہاں آکر یہ کہنا کہ چونکہ مسلم لیگ کو ڈان لیک کے بعد اپنے اقتدار کو کھونے کا علم ہوگیا تھا اور اسی وجہ سے انہوں نے جان بوجھ ملک کو تباہی کی طرف دھکیلا ( جس کے جواز میں آپ نے ڈاکٹر اشفاق کے ایک بیان کو پیش کیا ہے ) کسی بھی طرح سے سنجیدہ قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ غلطیوں سے کوئ مبرا نہیں ، لیکن دوسروں پر الزامات اور بہتان لگانا عمران خان کی پرانی عادت ہے ۔

Navigation

Do NOT follow this link or you will be banned from the site!