نون لیگ اور اسٹیبلشمنٹ ، پس پردہ کیا ہو رہا ہے ؟

Home Forums Siasi Discussion نون لیگ اور اسٹیبلشمنٹ ، پس پردہ کیا ہو رہا ہے ؟ نون لیگ اور اسٹیبلشمنٹ ، پس پردہ کیا ہو رہا ہے ؟

#22
Zaidi
Participant
Offline
  • Advanced
  • Threads: 7
  • Posts: 597
  • Total Posts: 604
  • Join Date:
    30 May, 2020
  • Location: Wadi Al Ain

Re: نون لیگ اور اسٹیبلشمنٹ ، پس پردہ کیا ہو رہا ہے ؟

شاہد بھائی، آپ نے میرا جو تبصرہ قوٹ کیا ہے اسمیں میں نے فوج کے عناصر کا پی ڈی ایم کی پشت پناہی کے بارے میں کویی تجزیہ پیش نہیں کیا ہے ہاں اپنے پچھلے ایک تبصرے میں اس امکان کا اظہار کیا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ فوج کے ہی کچھ عناصر میں کچھ لوگ پی ڈی ایم کی پشت پناہی کررہے ہوں. ہمیں یہ بات بھولنی نہیں چاہئے کہ فوج میں ایک بہت بڑا طبقہ میاں صاحب سے ہمدردی رکھتا ہو گا اور ہو سکتا ہے عمران خان کو پسند نہ کرتا ہو خصوصا حکومت کی انتہائی نقص کارکردگی کے چلتے بھی یہ ناراضگی بڑھ رہی ہو مگر ڈسپلن کی وجہ سے خاموش ہو. فوج کے ہائر رینکس میں باجوہ صاحب کی ایکسٹنشن کی وجہ سے کچھ افسران کا ان سے ناراض ہونا بھی قابل فہم ہے ماضی میں وکلا تحریک کے بارے میں شنید رہی ہے کہ کیانی صاحب نے اسکو ہوا دینے میں بھرپور کردار ادا کیا تھا اور مشرف کی رخصتی کا سب سے زیادہ فائدہ بھی کیانی صاحب کو ہوا تھا. دوسرے خان نے ایک سے زیادہ مرتبہ حالیہ دنوں میں اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ حکومت جاتی ہے تو جائے مگر میں نے چوروں کو نہیں چھوڑنا ہے تو سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ اسکی روایتی بونگی ہے یا دال میں کچھ کالا بھی ہے؟ یہ بہرحال ایک امکان ہے اور پاکستان کے تناظر میں عجیب و غریب امکانات کی گنجائش ہمیشہ برقرار رہتی ہے .

پاکستانی سیاستدانوں کے حوالے سے عوام مفادات کے خلاف خصوصا بلدیاتی اختیارات کو غضب کرنے والے آپ کے مشاہدے سے سو فیصد متفق ہوں لوگوں کی ایسی ذہنیت بن گئی ہے کہ بلدیاتی سطح کے منصوبوں کی شروعات ، انکا افتتاح اور انکا کریڈٹ وزیر اعلی اور وزیر اعظم کی سطح سے لیا جاتا ہے مگر آپ اس بات پر بھی غور کریں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ آپ نے ایک طرح سے میری ہی بات کی تصدیق کی ہے کہ اگر سیاستدان فوجی فیکٹری کی پیداوار ہوگا تو اسکے ذاتی مفادات اور عوامی مفادات میں اشتراک کم سے کم ہوگا اور کہیں تو یہ عوامی مفادات کے معکوس ہی ہوگا آپ نے جیسا کہ اپنے تبصرے میں فرمایا ہے کہ اصولی طور پر اور مغربی ممالک میں تو شاید سیاستدان اور عوامی مفادات میں اشتراک ہوتا ہے اور وہاں ایسا اسی لئے ہوتا ہے کہ وہاں کی فوج انتخابی عمل میں من مانی نہیں کرتی ہے اور یہی ہماری بھی منزل ہونی چاہئے ہماری فوج بھی بجائے سیاست کو کنٹرول کرنے کے اگر سول اداروں یعنی الیکشن کمیشن، میڈیا ، پولیس، احتسابی اداروں اور عدلیہ کے پیچھے اپنا وژن رکھ دے اور ہر قسم کی بد معاشی سے ان اداروں کو محفوظ رکھنے میں اپنا کردار ادا کرے تو کچھ بعید نہیں ہے کہ ایک ڈیڑھ دھائی میں جمہوری کلچر پروان چڑھ جائے اور ہماری تنقید فوج پر اور بوٹ چاٹیوں پر اسی حوالے سے ہوتی ہے

آپ نے نون لیگ کی معیشت کے ساتھ کھلواڑ کرنے کے حوالے سے انتہائی دلچسپ نکتہ بیان کیا ہے جو کہ گاہے بگاہے شاید آپ اپنے پرانے تبصروں میں بھی بیان کرتے آئے ہیں مگر مجھے حیرت اس بات پر ہے کہ آپ نے اس وجہ پر کسی قسم کا اعتراض یا تبصرہ نہیں کیا ہے جسنے آپ کے بقول نون لیگ کو معیشت کو دانستہ نقصان پہنچانے پر مجبور کیا تھا . میرا اپنا خیال ہے کہ اسحاق ڈار اتنا قابل وزیر خزانہ نہیں تھا کہ اپنی مرضی سے معیشت کو انگلیوں پر نچاسکے . موجودہ حکومت کی نالائقی اور ناہلی کی وجہ سے اربوں ڈالر کا قیمتی زر مبادلہ زرعی اجناس اور ایل این جی کی درآمد پر خرچ ہورہا ہے. میری انتہائی غیر پیشہ ورانہ دانست میں تجارتی خسارہ میں کمی کا جو ڈھنڈورہ موجودہ حکومت پیٹ رہی ہے اسکی بنیادی وجہ معیشت میں آہستگی اور ترسیلات زر میں اضافہ ہے ، جب معیشت تیری سے ترقی کرے گی تو درآمدات پھر سے بڑھیں اور یہ تجارتی خسارہ پھر سے بڑھ جائے گا اس پر طرہ نا اہلی کی وجہ سے اربوں ڈالر کے ضیاع کی وجہ سے حالت مزید خراب ہوں گے . جو بات موجودہ حکومت کی قابل تعریف ہے وہ ترسیلات زر میں اضافہ کے لئے اوور سیز پاکستانیوں کے ڈالر ، یوروز ،ریال و دھرم کو لبھانے کی کوشش ہے اور انکو تعمیراتی شعبہ میں سرمایہ کاری کی ترغیب ہے آپ اور ہم دونوں جانتے ہیں کہ تعمیراتی شعبہ میں سرمایہ کاری سے معیشت عارضی طور پر ضرور مستحکم ہوگی مگر دور رس ترقی کے لئے برآمدات میں اضافہ نا گزیر ہے

اعوان صاحب، عباسی صاحب کے تبصرے اور ان کی یک طرفہ ڈھلک کے بارے میں تو پڑھنے والے خوب جانتے ہیں تاہم ڈان لیک کو شجر ممنوعہ بنانے ، اور اسے قوم کے سامنے غداری اور محب الوطنی کے ترازو کے طور پر زور اور شور سے ڈھنڈورا پیٹنے والوں میں شاید اس بات کو تسلیم کرنے کی اخلاقی جرت نہیں کہ اسی پھوج نے اس معاملے میں گنڈے بھی پورے کھائے اور چھتر بھی پورے برداشت کیے ۔ کیا کوئ بتا سکتا ہے کہ آج مولانا سعید کہاں ہے ، اور اسکی جماعت ادعوہ کا انہی فوجیوں نے کیا بنایا ہے ؟ نواز شریف نے یہی بات اپنے وقت سے بہت پہلے کہہ دی تھی اور اسی بات کو ٹی وی اور میڈیے پر فوجی جنتا نے حکومت کے خلاف پروپیگنڈہ کے طور پر خوب استعمال کیا ۔
نواز شریف ایک کمزور اور بزدل سیاستدان نکلا ۔ جو بات اس نے سالوں پہلے بیان کی تھی وہ قومی مفاد کے عین مطابق تھی اور محب الوطنی کا تقاضا تھا کہ وہ مخالفت اور چیں چیں کرنے والے جنرلوں کی پتلونیں اترواتا ، لیکن کمزور لیڈر اپنی شلوار کھلوا کر بیٹھ گیا ۔

پی ٹی آئ کی نااھلیت کے طوطا زن اگر پاکستان کی 2013 کی صورتحال دیکھتے تو اپنی لمبی چوڑی لفاظی کے بجائے خاموشی اختیار کرتے ۔ مشرف کے دس سال کراچی میں بھتا سیاست کو فروغ دینے اور لوگوں کی زبانوں میں ڈرل کرنے والوں سے اتحاد میں گزرے ۔ اگر پھوج میں اس قتل عام کو بند کروانی کی اھلیت ہوتی تومشرف اپنے آمرانہ دور میں کر گزرتا ، پھوجی تو اپنی یونیفارم شلوار کے اندر چھپا کر باہر نکلتے تھے ۔
موجودہ حکومت کے اپنے دعووں کے مطابق ، ان کے پاس زندگی کے ہر شعبہ کے لیے ماہرین کی ٹیمیں تیار بیٹھی تھیں ، بس صرف اقتدار ملنے کی دیر تھی پاکستان میں گھن بارش کی طرح برستا ۔ صرف پہلے آٹھ ماہ ہی میں اسد عمر کی پشت پرلات مار کر زرداری کے وزیر خزانہ کو بلانا پڑا ۔ شفیق الرحمان کی مزید حماقتیں کی نئ جلد ۔ ذرا ان کی وزیر اطلاعات کا چناؤ دیکھیں ۔جو پارٹی اپنے دفاع کے لیے کنجروں کی محتاج ہو اسکی قابلیت پر کسی کو شک کرنے کی کیا وجہ ہے ۔

  • This reply was modified 2 weeks, 1 day ago by Zaidi.

Navigation

Do NOT follow this link or you will be banned from the site!