نون لیگ اور اسٹیبلشمنٹ ، پس پردہ کیا ہو رہا ہے ؟

Home Forums Siasi Discussion نون لیگ اور اسٹیبلشمنٹ ، پس پردہ کیا ہو رہا ہے ؟ نون لیگ اور اسٹیبلشمنٹ ، پس پردہ کیا ہو رہا ہے ؟

#17
shahidabassi
Participant
Offline
  • Expert
  • Threads: 33
  • Posts: 7288
  • Total Posts: 7321
  • Join Date:
    5 Apr, 2017

Re: نون لیگ اور اسٹیبلشمنٹ ، پس پردہ کیا ہو رہا ہے ؟

جے بھیا، سب سے پہلے تو طویل عرصہ کے بعد محفل کو رونق بخشنے پر آپ کو خوش آمدید. جہاں تک آپ کے سوال کا تعلق ہے تو یہ فرد کا فیصلہ ہو سکتا ہے کہ اس کو کیا کہنا ہے پاکستانی سیاست کا کویی ایسا ہوشمند طالب علم نہیں ہو سکتا جو فوج کی پاکستانی سیاست میں بطور ایک عامل کی موجودگی کا انکار کرے بلکہ یہی تو آرگیو منٹ ہے کہ فوج ایک عامل ہے اور اسکو نہیں ہونا چاہئے . ان صفحات پر اس لفظ کونسٹنٹ کو لے کر جب بھی بات ہویی ہے وہ اس پیرائے میں ہویی ہے کہ فوجی عامل کے مقابلے میں ہمارا رویہ کیا ہونا چاہئے؟ ٹرمینالوجی کا استعمال اختلاف کی جڑ نہیں ہے . کیا ڈاکٹر انسانیت کی خدمت کے لئے طب کا پیشہ اختیار کرتے ہیں یا عزت و دولت کمانے کے لئے؟ کیا انجینئیر ملک کی تعمیر و ترقی کے لئے انجینیرنگ کی تعلیم حاصل کرتے ہیں یا عزت اور نسبتا خوشحالی کے لئے؟ کیا فوج میں افسر ملک کی حفاظت اور جان قربان کرنے کے جذبے تحت بنا جاتا ہے یا عزت، طاقت اور کچھ حد تک پیسہ بنانے کے لئے ؟ ان سوالوں کا جواب اسطرح دیا جاسکتا ہے کہیں نہ کہیں ذاتی اغراض و مقاصد قومی اغراض و مقاصد کے ساتھ اوور لیپ کرتے ہیں اسی طرح سیاست دان کی جدوجہد بھی اقتدار کے حصول کے لئے ہوتی ہے اور ہونا بھی چاہئے ورنہ کس کا دماغ خراب ہوا ہے کہ اپنی دولت جلسے جلوسوں میں لٹاتاپھرے ؟ .سیاست دان کے بھی ذاتی اغراض و مقاصد قومی اغراض مقاصد کے ساتھ کہیں نہ کہیں اوور لیپ کریں گے اور سیاست دان جمہوری ہوگا تو یہ اوور لیپ کا رقبہ بڑھ جائے گا سیاست دان فوجی ہوگا تو یا تو اوور لیپ ہوگا ہی نہیں یا بہت کم ہوگا . اسی لئے سول سوسایٹی کا فرض ہے کہ فوجی عامل کا سیاست میں کردار کم سے کم کروایا جائے تاکہ عوامی مفاد اور سیاست دان کے ذاتی مفاد کا اشتراک زیادہ سے زیادہ بڑھ سکے .

گھوسٹ صاحب
آپ کے اس تجزئیے سے متفق نہی ہوں کہ فوج کے کچھ عناصر اپنی کمانڈ کی پالیسی کے مخالف جا کر نواز شریف اور مریم کو ان کی تحریک میں مدد کر رہے ہونگے۔ میرے خیال میں پاکستان فوج میں ایسا نہی ہوتا سوائے اس بات کے کہ پچھلے چوہتر سال میں ایسا ایک آدھ واقعہ ہو گیا ہو۔ پاکستان کی افغان اور کشمیر پالیسی میں امریکہ کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے اسٹیبلشمنٹ نے اس بیانئے کو ایک عزر کے طور پر ضرور پیش کیا ہے کہ ہائی کمانڈ پر الزام سے بچا جائے لیکن درحقیقت ایسا ہے نہی۔

آپ کی دوسری بات کہ سیاست دان کے مفادات اور عوامی مفادات میں زیادہ اشتراک ہوتا ہے پر یہ کہنا چاہوں گا کہ یہ بات اصولی طور پر اور مغربی ممالک تک تو صحیح ہے لیکن پاکستان کی حد تک اس میں کوئی سچائی نہی۔ عوام کا سب سے زیادہ مفاد بلدیاتی نظام میں ہے ہوتا ہے لیکن پاکستان میں جب بھی سیاست دان کی حکومت آئی ہے تو بلدیاتی نظام کو یا تو بے بس کر دیا گیا یا پھر چلتا ہی کر دیا گیا۔ اسی طرح باقی معاملات میں بھی یا تو ذاتی مالی مفاد دیکھا گیا ہے یا پھر ان پڑھ عوام سے ایسی دھوکا دہی کہ عوام خوش تو ہو جائیں گے لیکن دور رس نتائج عوام کی تباہی ہوگا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ ن لیگ نے بجلی کے جتنے بھی منصوبے لگائے ان کی اوسط فی کلو واٹ قیمت ۱۱ اعشاریہ ۲۸ پینس ہے جبکہ اسی عرصے میں انڈیا میں جتنے بھی بجلی کے منصوبے لگے ان کی قیمت ساڑھے چار پینس سے سات پینس تک ہے۔اسی طرح ڈان لیکس کے بعد ن لیگ نے یہ معلوم پڑنے کے بعد کہ اگلی حکومت ان کی نہی بلکہ عمران خان کی ہے، ملک کی معیشت کے ساتھ جو کچھ کیا اور اس کا جو عوام نے خمیازہ پچھلے دو سال میں بھگتا وہ پری پلانڈ بھی تھا اور عوام کے مفادات کا قتل بھی۔ پی پی پی نے بیس پچیس سال میں سندھ کا جو حشر کیا ہے یا کراچی ہی کی مثال لے لیں تو پاکستان کے سیاست دان کا اپنا دولت اور طاقت کا بھوکا مفاد عوامی مفاد سے بہت کم ملتا نظر آئے گا۔

.
یہی وجہ ہے کہ آج بھی عوام یہ فیصلہ نہی کر پا رہے کہ ہمیں آمریت چاہئیے یا آمریت نما جمہوریت۔

Navigation

Do NOT follow this link or you will be banned from the site!