جانے نہ جانے گُل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے

Home Forums Siasi Discussion جانے نہ جانے گُل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے جانے نہ جانے گُل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے

#9
حسن داور
Participant
Offline
Thread Starter
  • Expert
  • Threads: 4257
  • Posts: 2747
  • Total Posts: 7004
  • Join Date:
    8 Nov, 2016

Re: جانے نہ جانے گُل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کی حکومت نے حال ہی میں صوبائی کابینہ میں تبدیلیاں کی ہیں جن میں ایک بڑی تبدیلی وزارتِ اطلاعات کا قلمدان ہے۔
بے باک بیانات اور حزبِ اختلاف پر سخت تنقید کے حوالے سے مشہور سابق وزیرِ اطلاعات سے یہ قلمدان لے کر فردوس عاشق اعوان کو وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی معاونِ خصوصی برائے اطلاعات تعینات کر دیا گیا ہے۔
فردوس عاشق اعوان اپریل 2020 تک وفاق میں اسی عہدے پر وزیرِ اعظم کے ساتھ رہ چکی ہیں جس کے بعد انھیں وہاں سے ہٹا کر سابق لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کو تعینات کر دیا گیا تھا۔
وزیرِ اعظم عمران خان نے حال ہی میں لاہور کا دورہ کیا تھا جس کے بعد کابینہ میں تبدیلیاں متوقع تھیں۔
جیل خانہ جات اور کوآپریٹیوز کی وزارتوں میں تبدیلی بھی متوقع تھی تاہم مقامی سیاست پر نظر رکھنے والوں کے لیے فیاض الحسن چوہان سے وزارت چھن جانا قدرے غیر متوقع تھا۔ ان کے بارے میں تاثر یہ تھا کہ وہ خصوصاً وفاقی حکومت کی پالیسی کے عین مطابق ’حکومت کا دفاع‘ کیا کرتے تھے۔
ایک مقامی صحافی کے مطابق خود وزیرِاعظم عمران خان ان کے ’بے باک بیانات کے معترف تھے اور کئی مرتبہ پنجاب کابینہ کے دیگر ممبران کو بھی ان کی مثال دے کر کہہ چکے تھے کہ وہ بھی فیاض الحسن چوہان کی طرح حکومت کا دفاع کیا کریں۔
تو اچانک کیا ہوا؟ خود فیاض الحسن چوہان کو اس وقت یقین نہیں آیا جب پیر کے روز بظاہر صحافیوں سے انھیں معلوم ہوا کہ ان سے وزارت واپس لے لی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’انھیں اس حوالے سے معلوم نہیں تھا۔
سوال یہ ہے کہ اگر ان کی کارکردگی درست تھی تو وزیرِاعظم کو انھیں کیوں تبدیل کرنا پڑا؟

خراب کارکردگی کس کی تبدیلی کا باعث بنی؟

میاں اسلم مقامی ٹی وی چینل سے منسلک صحافی ہیں اور طویل عرصے سے کابینہ اور سیاسی جماعتوں پر رپورٹنگ کرتے رہے ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جیل خانہ جات اور کوآپریٹوز کے وزرا سے قلمدان کی واپسی خالصتاً کارکردگی کی بنیاد پر ہوئی۔ ان کے مطابق ابتدائی دنوں میں سابق وزیر جیل خانہ جات زوار حسین وڑائچ نے ایک جیل پر چھاپہ بھی مارا لیکن اس کے بعد وہ دباؤ میں آ گئے۔
ان کے اس دورے کے بعد جیلوں کے حوالے سے بہت کام ہوئے، مینوئل بنے، اصلاحات کی گئیں، وغیرہ وغیرہ لیکن وزیر کو اس حوالے سے خبر ہی نہیں ہوتی تھی۔

وزیرِاعظم محتاط تھے

تاہم دوسری جانب کوآپریٹوز کے وزیر مہر اسلم کی کارکردگی سے بھی کابینہ اور وزیرِ اعلیٰ مطمئن نہیں تھے۔ میاں اسلم کے مطابق ان سے وزارت واپس لینے کا فیصلہ کرنے کے حوالے سے وزیرِاعظم محتاط تھے۔
مہر اسلم آزاد امیدوار کے طور پر انتخابات میں جیت کر آئے تھے اور اس کے بعد انھوں نے پاکستان تحریکِ انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی، اور ظاہر ہے وہ بدلے میں وزارت کے خواہشمند تھے جو انھیں مل بھی گئی تھی۔ لیکن ان کی کارگردگی نہ ہونے کے برابر تھی۔
ایک اور مقامی ٹی وی چینل کے لیے کام کرنے والے صحافی قذافی بٹ کے مطابق بھی ان دونوں وزرا کے ہٹائے جانے کی وجوہات صرف کارکردگی نہ ہونا تھی اور اس حوالے سے ’تمام کابینہ متفق تھی کہ انھیں ہٹا دیا جائے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے دنوں میں مزید تبدیلیاں بھی متوقع ہیں۔

لیکن وزیرِ اطلاعات سے تو وزیرِاعظم خوش تھے؟

وزیرِ اطلاعات فیاض الحسن چوہان کی کارکردگی کے حوالے سے وزیرِ اعظم کو شکایت نہیں تھی، تاہم تجزیہ نگاروں کے مطابق ان کے کابینہ کے ساتھیوں اور ان کی جماعت کے اندر سے لوگوں کو ان کے کام کرنے کے طریقہ کار سے شکایات تھیں جن کا اظہار وہ بارہا وزیرِاعظم کے سامنے بھی کر چکے تھے۔
صحافی قذافی بٹ کے مطابق کابینہ کے دیگر سینیئر ممبران اس بات سے خوش نہیں تھے کہ ’ٹی وی پر صرف فیاض الحسن چوہان ہی نظر آتے تھے، کسی دوسرے کو حکومت کو دفاع کرنے کا موقع نہیں دیا جا رہا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ کابینہ کے ممبران میں یہ تاثر پایا جاتا تھا کہ ’فیاض الحسن چوہان ذاتی تشہیر زیادہ اور حکومت کی تشہیر کم کر رہے تھے۔
قذافی بٹ کا کہنا تھا کہ اس کی ایک یہ مثال تھی ایک وقت میں خود فیاض الحسن چوہان نے حکومتی ترجمانوں کی ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس میں کابینہ کے دیگر سینیئر ممبران کے نام بھی تھے، تاہم بعد میں انھوں نے خود ہی یہ کمیٹی تحلیل کر دی تھی۔

وہ ذرا خود اعتمادی میں مارے گئے

صحافی میاں اسلم بھی قذافی بٹ کے خیالات سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فیاض الحسن چوہان کے ساتھ ایسا دوسری مرتبہ ہوا ہے کہ ان سے اطلاعات کی وزارت واپس لی گئی تاہم ایسا نہیں ہے کہ بطور حکومتی ترجمان ان کی کارکردگی خراب تھی۔
بس وہ شاید کچھ زیادہ خود اعتمادی میں مارے گئے۔ وہ وزیرِ اعظم کی سوشل میڈیا کی مرکزی ٹیم میں بھی اپنی مرضی کی تبدیلیاں کر رہے تھے اور بعض اوقات وہ وزیرِاعلیٰ ہاؤس کے احکامات کو بھی نظرانداز کر دیا کرتے تھے۔
صحافی میاں اسلم کے مطابق فیاض الحسن کی وزارت کی تبدیلی کی ایک وجہ خود نئی آنے والی معاونِ خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کابینہ اور خود وزیرِ اعظم یہ خواہش رکھتے تھے کہ ایسا نظام رکھا جائے کہ فیاض الحسن چوہان اور فردوس عاشق اعوان دونوں ساتھ کام کریں۔
لیکن فردوس عاشق اعوان بضد تھیں کہ وہ اکیلے حکومت کے دفاع کی ذمہ داری نبھانا چاہتی ہیں۔ اس لیے ان کو موقع دیا گیا۔

فردوس عاشق اعوان کی تعیناتی پر کسے اختلاف تھا؟

تاہم فردوس عاشق اعوان کی بطور معاونِ خصوصی اطلاعات وزیرِاعلیٰ پنجاب تعیناتی کے حوالے سے مقامی ذرائع ابلاغ میں یہ اعتراضات سامنے آ رہے تھے کہ پاکستان کی عدالتِ عظمٰی کے ایک حالیہ تحریری فیصلے میں ان کے بطور وزیرِ اعظم کی سابق معاونِ خصوصی برائے اطلاعات بیانات کو ناپسندیدگی اور توہینِ عدالت کے مترادف قرار دیا گیا تھا۔
چند مقامی ٹی وی چینلز نے صوبہ پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل سے منسوب کرتے ہوئے ذرائع کے حوالے سے یہ بیانات بھی شائع کیے کہ انھوں نے فردوس عاشق اعوان کی تعیناتی پر حکومت سے اختلاف رائے کا اظہار کیا تھا۔
تاہم بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس نے اس بات کی تردید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا اور نہ ہی ان کا اس حکومتی فیصلے سے کوئی اختلاف ہے۔
بلکہ میرا تو یہ کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم کی معاونِ خصوصی کے طور پر فردوس عاشق اعوان بہت اچھا بولتی تھیں اور ان کا کام بہت اچھا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ علاوہ ازیں یہ ایک سیاسی کام ہے اور ان کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
تاثر یہ ہے کہ فیاض الحسن چوہان بطور وزیر جیل خانہ جات شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے لیے مشکلات پیدا کریں گے

کیا فیاض الحسن چوہان حزبِ اختلاف کے قائدین کو مشکل میں ڈالیں گے؟

دوسری جانب فیاض الحسن چوہان کو کالونیز کے ساتھ ساتھ جیل خانہ جات کا اضافی قلمدان بھی سونپ دیا گیا ہے۔
اس پر وزیرِاعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فیاض الحسن چوہان نے عہدہ سنبھالا اور پہلے ہی روز قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف شہباز شریف اور پنجاب اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف حمزہ شہباز کو جیل میں دی جانے والی سہولیات کی تفصیلات طلب کر لیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کی جیلوں سے وی آئی پی کلچر کا خاتمہ ان کی اولین ترجیح ہے۔ ’جیلوں میں تمام قیدیوں کو یکساں اور بہترین سہولیات فراہم کرنا میرا مشن ہو گا۔ کسی بھی قیدی سے امتیازی سلوک ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ان اقدامات سے ایک تاثر یہ بھی سامنے آ رہا ہے کہ کیا فیاض الحسن چوہان حزبِ اختلاف کے جیل میں موجود قائدین کے خلاف دانستاً مشکلات پیدا کریں گے؟

وہ چاہیں بھی تو ایسا نہیں کر پائیں گے

صحافی قذافی بٹ کا استدلال ہے کہ ایسا ہی ہے اور ’یہی وجہ ہے کہ انھیں جیل خانہ جات کا قلمدان سونپا گیا ہے۔
تاہم صحافی میاں اسلم ان کے اس خیال سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ جیل خانہ جات کے اپنے قواعد و ضوابط ہوتے ہیں جن کے مطابق قیدیوں کو سہولیات دی جاتی ہیں۔
فیاض الحسن چوہان چاہتے ہوئے بھی سیاسی مخالفین کے لیے اس قسم کی مشکلات پیدا نہیں کر پائیں گے۔

https://www.bbc.com/urdu/pakistan-54804311

Navigation

Do NOT follow this link or you will be banned from the site!