ریاست مدینہ کے دعوہ دار

Home Forums Siasi Discussion ریاست مدینہ کے دعوہ دار ریاست مدینہ کے دعوہ دار

#74
Ghost Protocol
Participant
Offline
  • Expert
  • Threads: 159
  • Posts: 5311
  • Total Posts: 5470
  • Join Date:
    7 Jan, 2017

Re: ریاست مدینہ کے دعوہ دار

گھوسٹ صاحب …..ارشاد بھٹی اور ایاز امیر نے بھی ایک شو میں کچھ ایسی ہی بات کی ہے..ایاز امیر کے مطابق ..سی سی پی او نے صرف وہ باتیں کہی ہیں جو کہ ہر پاکستانی کے ذہنوں میں ہیں لہذا اسے قصوروار نہیں ٹھہرایا جاسکتا یہاں میں آپ کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں کہ آپ اور بلیک شیپ صاحب میں بلآخر کسی بات پر اتفاق ہوگیا ہے ..اور اپپ دونوں ایک پیج پر ہیں …یہاں میں اس مفروضے کا سہارا لے رہا ہوں کہ چونکہ ایاز امیر نے کہ دیا ہے تو اپنے بلیک شیپ صاحب کی بھی وہی پوزیشن ہوگی اب میں آتا ہوں اپنی ذاتی رائے پر میرے خیال میں آپ شدید غلطی پر ہیں… ….سی سی پی او کو یہ بیان نہیں دینا چاہئے تھا اور اس کے خلاف ڈسپلن کی خلاف ورزی پر نوٹس لیا جانا چاہیے میں وکٹم بلیمنگ اور شیمنگ کا قائل نہیں لیکن ہم معاشرے کا حصہ ہیں اور ہمیں زمینی حقائق کا پتا ہے …چلیں میں اور آپ یہ کہ سکتے ہیں کہ خاتون کو رات کو سفر نہیں کرنا چاہیے تھا ..یا کہ اکیلا سفر نہیں کرنا چاہیے تھا ..ارشاد بھٹی یہ کہ سکتا ہے ..ایاز امیر بھی یہ کہ سکتا ہے …تاہم لاھور پولیس چیف یہ نہیں کہ سکتا اور بلکل بھی نہیں کہ سکتا کیونکہ اس کی جاب صرف صرف صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک شہریوں کی حفاظت کرنا نہیں ہے …اس کی جاب چوبیس گھنٹے کے لیے ہے میں آپ کو ایک مثال دے کر سمجھاتا ہوں ..فرض کیا آپ کا ایک قریبی عزیز جن کی عمر پینسٹھ چھیاسٹھ سال ہے .. ہارٹ اٹیک یا کسی اور سنگین بیماری کی وجہ سے ہسپتال میں داخل ہے ..یہاں آپ سے مراد آپ ذاتی طور پر نہیں بلکہ ہر پاکستانی ہے …ایک ڈاکٹر مریض کا چیک اپ کرنے آتا ہے اور آپ سے یہ کہتا ہے کہ “آپ لوگ پریشان کیوں ہورہے ہیں …ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستانی مردوں کی اوسط عمر پینسٹھ سال ہے …میں کوشش تو کروں گا مریض کو ٹھیک کرنے کی مگر مریض کی عمر تو پینسٹھ سال ہوچکی ہے لہٰذا اعداد و شمار کی رو سے تو اس کا جانا ٹھہر گیا ہے”. ..اب آپ ہی بتائیے کہ ڈاکٹر کہ تو صحیح رہا ہے ..اعداد و شمار بھی صحیح ہیں مگر میرا اندازہ ہے کہ آپ اور کوئی بھی پاکستانی اس ڈاکٹر سے اپنے عزیز کا علاج کروانا پسند نہیں کرے گا وکٹم کو الزام دینے سے پہلے ہمیں حکومت کو الزام دینا چاہیے کہ موٹر وے کھولی کیوں گئی اگر اس پر پولیس تعینات نہیں تھی …اور پولیس کو بیشمار کالیں کرنے کے باوجود اس خاتون کو ادھر سے ادھر کیوں گھمایا گیا ..اور یہ بہانے کیوں کئے گئے کہ یہ علاقہ ہماری حدود میں نہیں آتا …لہٰذا کسی کو شرمسار کرنا ہے تو حکومت اور پولیس ہے جہاں تک پولیس چیف کی بات کہ موٹر وے کیوں لی جی ٹی روڈ کیوں نہیں لی ..تو وہاں بھی وہ غلط ہے …میں بیرون ملک رہتا ہوں مگر اخبارات اور میڈیا میں موٹر وے پولیس کی مثالی کارکردگی کے بارے میں پڑھتا رہتا ہوں ..شاید یہی سوچ کر اس خاتون نے بھی موٹر وے کا راستہ چنا ہو کہ یہ محفوظ ہے جب سے کوئٹہ سے پکڑے والے طالبان لیڈروں سے نادرا کے جاری کردہ شناختی کارڈ برآمد ھوئے ہیں یا فوجیوں کا چالان کرنے پر موٹر وے پولیس کے اہلکاروں کو اغوا کے بعد فوجی چھاؤنی میں تشدد کا سامنا کرنا پڑا ہے ..اس کے بعد شاید یہ دو محکمے بھی اپنی ساکھ کھو بیٹھے ہیں

قرار صاحب،

میرے لئے سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ جن سند یافتہ جوتیئے صحافیوں کا آپ نے تذکرہ کیا ہے ان کے اور میرے موقف میں کتنی ہی موہوم سہی ، کچھ مماثلت سی محسوس ہو رہی ہے اس بارے میں دیکھنا پڑے گا کہ کب اور کونسی گنگا میں نہانا ہے
میں بھی آپ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ پولیس افسر کو اسطرح نہیں کہنا چاہئے تھا یا شاید یہی بات بہتر انداز میں کہہ سکتا تھا میرے کہنے کا مقصد تھا کہ جو اس نے کہا وہ درست تھا
بات کہنے اور بیان دینے تک کا ہی معاملہ ہے تو آج اگر لاھور کا سی سی پی او، یا پنجاب کا آئ جی یا صوبے کا وزیر اعلی یا ملک کا وزیر اعظم حتی کہ آرمی چیف بھی یہ بیان دیدے کہ ہم نے شہر، صوبے اور ملک کو محفوظ بنادیا ہے اور بنا کسی خدشہ کے اپنی مرضی سے دن رات کے کسی بھی پہر کہیں بھی آجا سکتے ہیں تو قرار صاحب میں اس بیان کو ردی کی ٹوکری میں ڈالدوں گا چونکہ مجھے ان لوگوں پر رتی بھر بھی بھروسہ نہیں ہے میں کہیں بھی آنے جانے سے قبل اپنا رسک اسسمنٹ خود ہی کروں گا اور فیصلہ کروں گا کہ میرا کب کہاں کس وقت جانا مناسب ہے
اس سی سی پی او کا بیان چاہے کتنا ہی غیر مناسب کیوں نہ ہو مگر یہ مبنی بر حقیقت تھا، اس میں جھوٹی تسلیاں نہیں تھیں اسمیں واضح پیغام تھا کہ جاگدے رہنا ساڈے تے نہ رہنا ، بجاے اسکے کہ آپ سکون کی نیند سو جایں کیوں کہ محافظ جاگ رہے ہیں- اب میڈیا اور سوسایٹی کے دباؤ پر شاید کویی ایسا بیان نہیں دے گا مگر اسکے بیان دینے یا نہ دینے سے ان لوگوں کی صلاحیت، کارکردگی اور نیت میں شاید رتی بھر بھی فرق نہیں اے گا
قرار صاحب ، اپنے پچھلے دورہ کراچی میں میرا سی آئ اے سینٹر صدر جانے کا اتفاق ہوا ، آپ تصور ہی کرسکتے ہیں کس قدر پسماندہ بلڈنگ اور حالت تھی اس جگہ کی. لاک اپ میں ملزمان جانوروں کی طرح بند تھے پولیس والوں نے میری جیب سے پین نکال کر کاغذات پر دستخط کئیے اور پین رکھ لیا .
ہم لوگ فرانزک فائلز دیکھتے ہیں ، کرائم اسٹوریز دیکھتے ہیں جدید طریقہ تفتیش دیکھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان میں ہم کئی نوری سال کے فاصلے پر کھڑے ہیں ان لوگوں کی حالت تو دیکھیں کہ آج کے دن کا یہ سب سے ہائی پروفائل کیس ہے یقینا انتہائی قابل اور اعلی افسران اس پر دن رات محنت کررہے ہوں گے مگر جن دو ملزمان کی تصا ویر انہوں نے بطور مجرم شائع کیں انمیں سے ایک نے تو خود ہی اپنی گرفتاری پیش کردی کہ میرا اس واقعہ سے کویی تعلق نہیں ہے دوسرے کے گھر میں یہ لوگ چھاپہ مارنے گئے تو وہ اپنی بیوی کے ساتھ فرار ہو گیا نااہلی اور نالائقی کی بھی کویی انتہا ہے؟ مجھے تو سمجھ نہیں آتا کہ ان لوگوں کی فرانزک لیبارٹریز اور ڈیٹابیسس وغیرہ کسطرح مینٹین ہوتے ہوں گے

Navigation

Do NOT follow this link or you will be banned from the site!