ریاست مدینہ کے دعوہ دار

Home Forums Siasi Discussion ریاست مدینہ کے دعوہ دار ریاست مدینہ کے دعوہ دار

#69
Qarar
Participant
Offline
  • Professional
  • Threads: 110
  • Posts: 2761
  • Total Posts: 2871
  • Join Date:
    5 Jan, 2017

Re: ریاست مدینہ کے دعوہ دار

لاھور-سیالکوٹ روڈ پر پیش آنے والے واقع پر چند گزارشات میری حفاظت کی سب سے اولین ذمہ داری کس کی ہے؟ کیا میری اپنی نہیں ہے؟ کیا میرے گھر میں اونچی اونچی دیواریں نہیں ہیں؟ کیا میرے گھر میں آمدودرفت کے لئے آہنی دروازہ نہیں ہے؟ کیا آتے جاتے میں اپنے گھر میں تالہ نہیں لگاتا ہوں کیا میں اپنی گاڑی اور موٹر سائکل کو پارک کرنے کے بعد لاک نہیں کرتا ہوں؟ میں آخر ایسا کیوں کرتا ہوں؟ جبکہ آئینی اور قانونی لحاظ سے ریاست میرے تحفظ کی ذمہ دار ہے ؟؟؟ اگر میرے گھر میں چار دیواری نہیں ہوگی ، دروازے پر تالا نہیں ہوگا ، گاڑی لاک نہیں ہوگی تو کیا میں اپنے ساتھ ممکنہ طور پر پیش آنے والے کسی جرم کے خطرہ کو بڑھاوا دینے کا مرتکب نہیں پایا جاؤں گا؟ دنیا میں کونسی پولیس کے فرائض میں یہ بات آتی ہے کہ اگر میں اپنی گاڑی کی گیس کا خیال رکھے بغیر باہر نکلوں تو میرے طلب کرنے پر وہ جیری کین لئے حاضر ہو جائے ؟ یاد رہے میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ اگر میں گھر کو تالا نہ لگاؤں تو میرے گھر پر چوری ہونا فرض ہو جائے گا مگر خطرہ کے امکانات ضرور بڑھ جایں گے اور ان امکانات کو کم کرنے کی ذمہ داری سب سے پہلے میری اپنی ہی ہے سی سی پی او نے اگر کہا تو درست ہی کہا کہ آپ کو دیکھنا چاہئے تھا کہ آپ فرانس میں نہیں بلکہ پاکستان میں ہیں یہ اور بات ہے کہ شاید فرانس میں بھی خاتون تنہا ہو اور رات کا پچھلا پہر ہو تو شاید وہ مکمل طور پر محفوظ محسوس نہ کرسکے .میرے تجربہ میں یو اے ای ایک ایسی جگہ ہے کہ جہاں کویی بھی خاتون دن رات کے کسی بھی پہر میں تحفظ محسوس کرسکتی ہے مگر سو فیصدی گارنٹی تو کہیں بھی نہیں دی جاسکتی . باقی جو کچھ خاتون کے ساتھ ہوا دنیا میں کویی زی روح اس قسم کے سلوک کی مستحق نہیں ہے اسکے ساتھ انصاف کی تمنا ضرور ہے مگر انصاف ہوگا اس پر شکوک و شبہات اپنی جگہ ہیں محسوس ہوتا ہے جن کو محافظ سمجھ کر خاتون نے کال کی تھی وہی لٹیرے بن گئے اور اس جرم پر پردہ ڈالنے کے لئے کویی نہ کویی پولیس مقابلہ بھی متوقع ہو سکتا ہے اس معاملہ کا جہاں تک سیاسی پہلو ہے ایزی گو بھائی کی بات بلکل درست محسوس ہوتی ہے نون لیگ اس واقعہ کی آڑ میں اس سی سی پی او کو ہٹھانا چاہتی ہے اگر سی سی پی او کے خلاف مالی اور اخلاقی جرائم کی رپورٹ تھی تو وہ اب تک پولیس فورس میں کیا کررہا تھا؟ کیا نون کی ذمہ داری نہیں تھی کہ پولیس میں موجود کرپٹ افسران سے جان چھڑوائی جاتی .ایک منٹ مگر یہاں ٹہریں !!!!! اگر مالی اور اخلاقی کرپشن میں لوگوں کو نکالنا شروع کردیا تو پھر یہاں بچے گا کون ؟؟؟

گھوسٹ صاحب …..ارشاد بھٹی اور ایاز امیر نے بھی ایک شو میں کچھ ایسی ہی بات کی ہے..ایاز امیر کے مطابق ..سی سی پی او نے صرف وہ باتیں کہی ہیں جو کہ ہر پاکستانی کے ذہنوں میں ہیں لہذا اسے قصوروار نہیں ٹھہرایا جاسکتا

یہاں میں آپ کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں کہ آپ اور بلیک شیپ صاحب میں بلآخر کسی بات پر اتفاق ہوگیا ہے ..اور اپپ دونوں ایک پیج پر ہیں …یہاں میں اس مفروضے کا سہارا لے رہا ہوں کہ چونکہ ایاز امیر نے کہ دیا ہے تو اپنے بلیک شیپ صاحب کی بھی وہی پوزیشن ہوگی

اب میں آتا ہوں اپنی ذاتی رائے پر

میرے خیال میں آپ شدید غلطی پر ہیں… ….سی سی پی او کو یہ بیان نہیں دینا چاہئے تھا اور اس کے خلاف ڈسپلن کی خلاف ورزی پر نوٹس لیا جانا چاہیے

میں وکٹم بلیمنگ اور شیمنگ کا قائل نہیں لیکن ہم معاشرے کا حصہ ہیں اور ہمیں زمینی حقائق کا پتا ہے …چلیں میں اور آپ یہ کہ سکتے ہیں کہ خاتون کو رات کو سفر نہیں کرنا چاہیے تھا ..یا کہ اکیلا سفر نہیں کرنا چاہیے تھا ..ارشاد بھٹی یہ کہ سکتا ہے ..ایاز امیر بھی یہ کہ سکتا ہے …تاہم لاھور پولیس چیف یہ نہیں کہ سکتا اور بلکل بھی نہیں کہ سکتا کیونکہ اس کی جاب  صرف صرف صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک شہریوں کی حفاظت کرنا نہیں ہے …اس کی جاب چوبیس گھنٹے کے لیے ہے

میں آپ کو ایک مثال دے کر سمجھاتا ہوں ..فرض کیا آپ کا ایک قریبی عزیز جن کی عمر پینسٹھ چھیاسٹھ سال ہے .. ہارٹ اٹیک یا کسی اور سنگین بیماری کی وجہ سے ہسپتال میں داخل ہے ..یہاں آپ سے مراد آپ ذاتی طور پر نہیں بلکہ ہر پاکستانی ہے …ایک ڈاکٹر مریض کا چیک اپ کرنے آتا ہے اور آپ سے یہ کہتا ہے کہ

“آپ لوگ پریشان کیوں ہورہے ہیں …ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستانی مردوں کی اوسط عمر پینسٹھ سال ہے …میں کوشش تو کروں گا مریض کو ٹھیک کرنے کی مگر مریض کی عمر تو پینسٹھ سال ہوچکی ہے لہٰذا اعداد و شمار کی رو سے تو اس کا جانا ٹھہر گیا ہے”.

..اب آپ ہی بتائیے کہ ڈاکٹر کہ تو صحیح رہا ہے ..اعداد و شمار بھی صحیح ہیں مگر میرا اندازہ ہے کہ آپ اور کوئی بھی پاکستانی اس ڈاکٹر سے اپنے عزیز کا علاج کروانا پسند نہیں کرے گا

وکٹم کو الزام دینے سے پہلے ہمیں حکومت کو الزام دینا چاہیے کہ موٹر وے کھولی کیوں گئی اگر اس پر پولیس تعینات نہیں تھی …اور پولیس کو بیشمار کالیں کرنے کے باوجود اس خاتون کو ادھر سے ادھر کیوں گھمایا گیا ..اور یہ بہانے کیوں کئے گئے کہ یہ علاقہ ہماری حدود میں نہیں آتا …لہٰذا کسی کو شرمسار کرنا ہے تو حکومت اور پولیس ہے
جہاں تک پولیس چیف کی بات کہ موٹر وے کیوں لی جی ٹی روڈ کیوں نہیں لی ..تو وہاں بھی وہ غلط ہے …میں بیرون ملک رہتا ہوں مگر اخبارات اور میڈیا میں موٹر وے پولیس کی مثالی کارکردگی کے بارے میں پڑھتا رہتا ہوں ..شاید یہی سوچ کر اس خاتون نے بھی موٹر وے کا راستہ چنا ہو کہ یہ محفوظ ہے
جب سے کوئٹہ سے پکڑے والے طالبان لیڈروں سے نادرا کے جاری کردہ شناختی کارڈ برآمد ھوئے ہیں یا فوجیوں کا چالان کرنے پر موٹر وے پولیس کے اہلکاروں کو اغوا کے بعد فوجی چھاؤنی میں تشدد کا سامنا کرنا پڑا ہے ..اس کے بعد شاید یہ دو محکمے بھی اپنی ساکھ کھو بیٹھے ہیں

Navigation

Do NOT follow this link or you will be banned from the site!