ریاست مدینہ کے دعوہ دار

Home Forums Siasi Discussion ریاست مدینہ کے دعوہ دار ریاست مدینہ کے دعوہ دار

#34
Zinda Rood
Participant
Offline
  • Professional
  • Threads: 22
  • Posts: 2485
  • Total Posts: 2507
  • Join Date:
    3 Apr, 2018
  • Location: NorthPole

Re: ریاست مدینہ کے دعوہ دار

بہت پہلے میرے ایک مِتر نے قلمی کلاکاری کے غرور میں ڈوبے ہوئےکتبے دیکھ کر ایک بات کہی تھی” ہر سیر کیلئے ایک سوا سیر ہوتا ہے”۔۔۔۔۔میں جب بھی ان ڈیجیٹل فورمز کی براؤزنگ لگامیں تھام کر ایپل گشت کرنے نکلتا ہوں تو اکثر اس مقولے کی نشانیاں دیکھنے کو مل جاتی ہیں۔۔۔۔۔۔ ابھی انسیف صاحب کی قلمی دہشت گردی بھی ایک مخصوص گھوڑے پر سوار ہر کر تنگ نظری کے دائرے میں مسلسل گھومے جا رہی ہے۔۔۔ دیکھتے ہیں کہ کب کوئی رفاحی مددگار ان کے دائرے سے نکال کر نارمل راستوں پر چلنے کی مدد دیتا ہے۔۔ میرے اندر ایک خوبی یا خامی کہہ لیں کہ میں جس کے انداز تحریر کو تخلیقی کسوٹی پر منفرد پاتا ہوں تو اس پر فریفتہ ہو کر اپنے قلم کو اُس کیلئے خصی کر لیتا ہوں۔۔۔۔۔اسی خصیصی کفییت میں رہتے ہوئے زیدی صاحب کے اس دھاگے میں کچھ پُورنے پرو دیتا ہوں۔۔۔۔ اب اس فورم پر اکثر ملحدین کا انداز تحریر بہت منفرد ہے اور میں انکے تخلیقی ذوق کا قدردان بھی ہوں۔۔۔۔ لیکن ہیونگ سیڈ دیٹ۔۔۔۔ انسانی نفسیات کا ارتقائی سفر اس بات کی خبر دیتا ہے کہ جب انسان اپنے تئیں کسی پست دور سے نکل کر بلندی پر فائز ہوتا ہے تو وہ عموما اپنی پستی سے کنارہ کرتے ہوئے اپنی حاصل شدہ علمی، شعوری، روحانی اور جسمانی ترقی کی ہائی لائیٹس دیکھانے میں زیادہ انٹرسٹڈ ہوتا ہے۔۔۔۔ لیکن اس فورم پر عموما ملحدین انہی گلیوں میں گھومتے نظر آتے ہیں جن کو آؤٹ ڈیٹڈ اور ان سائیٹیفک کہہ کر وہ چھوڑ آئے تھے۔۔۔۔۔۔ اب یہ لوگ بجائے اس کے ہمیں اس سوچ و تہذیب کے درشن کروانے کی طرف راغب کریں جسے پاکر انکے دل و دماغ میں سیرتِ زیست کے نقش ونگار جگمگانے لگ گئے یہ ہمارے ہی قلبی آبگینوں پر حرف باری کرتے نظر آتے ہیں۔۔۔بقول عظیم ملحدی گرو جناب زندہ رود جب اقبال صاحب نے اپنی قلبی عقیدتوں کا ہی ترانہ گنگنانا تھا وہ مغربی تہذیب کی درسگاہوں میں “امب” لینے گئے تھے۔۔۔۔۔ اب ایسا ہی سوال یہاں بھی اٹھتا ہے کہ جب آپ مغربی اور سائنٹیفک آشیانوں کے اتنے ہی گرویدہ اور شیدائی ہیں تو اس “دو ٹکّے کے فورم” (تھینکس ٹو شاہد عباسی صاحب) پر کھیرے کھانے آتے ہیں۔۔۔۔۔لیکن اب آتے ہیں اصل سوال کی طرف۔۔۔۔ایسا کیوں ہے؟؟؟ اس نقطے پر میں ایک دیسی تھیسسس لکھ رہا ہوں۔۔۔۔۔۔ اگلی نششت پر اس کا فیتہ کاٹوں گا۔۔۔ :serious: :17: :serious:

کیسانووا صاحب۔۔ آپ نے ابراہم موسلو کی ضروریات کی درجہ بندی تو ملاحظہ کی ہوگی، انسان جب تک کچھ بنیادی مسائل سے چھٹکارا نہیں پالیتا تب تک وہ صحیح معنوں میں تخلیق کے روزن نہیں کھول پاتا، اور ان بنیادی مسائل میں خوراک و تحفظ سب سے ضروری ہیں۔ اسلام فی زمانہ ایسا نظریہ ہے جو دوسروں پر زبردستی اپنے اصول، قوانین اور ضابطے تھوپنے کی ترغیب دیتا ہے اور بذریعہ جبر لوگوں کی آواز بند کرنے کی تحریک دیتا ہے۔ دورِ حاضر میں اختلافی رائے رکھنے والوں کی سلامتی کیلئے نظریہ اسلام سمِ قاتل کی سی حیثیت رکھتا ہے۔ بے شمار لوگ جیلوں میں صرف اس لئے سڑرہے ہیں کہ ان پر اسلام کی توہین کا الزام لگا کر کسی مومن نے اپنے تئیں اسلام کا بول بالا کردیا۔ پشاور کورٹ میں ایک معصوم نفسیاتی مریض کو اسلام کے ایک سچے پیروکار نے گولیوں کا نشانہ بنا کر ہزاروں لاکھوں مسلمانوں کے دل جیت لئے اور پشاور میں اس کے حق میں مسلمانوں نے بڑی بڑی ریلیاں نکالیں۔ دو دن قبل لاہور کی ایک عدالت نے ایک مسیحی کو توہینِ اسلام کے “جرم” میں سزائے موت سنادی ہے۔  تیرہ اسلامی ممالک میں اس وقت توہینِ اسلام / توہینِ رسالت کی سزا موت ہے۔  آپ کا خیال ہے ہم اسلام کی اس غارتگری سے لا تعلق رہ سکتے ہیں؟ جس دن اسلام کے پیروکار دوسروں کی زندگیوں میں دخل دینا بند کردیں گے، اپنا نظریہ زبردستی دوسروں پر مسلط کرنا بند کردیں گے، آپ ہماری زبانوں سے اسلام کا نام بھی نہیں سنیں گے۔ یوں سمجھ لیں ہم اسلام سے نہیں، اسلام ہم سے چمٹا ہوا ہے۔ :) ;-) ۔۔۔

Navigation

Do NOT follow this link or you will be banned from the site!