ریاست مدینہ کے دعوہ دار

Home Forums Siasi Discussion ریاست مدینہ کے دعوہ دار ریاست مدینہ کے دعوہ دار

#4
Zinda Rood
Participant
Offline
  • Professional
  • Threads: 22
  • Posts: 2485
  • Total Posts: 2507
  • Join Date:
    3 Apr, 2018
  • Location: NorthPole

Re: ریاست مدینہ کے دعوہ دار

مجھے حیرت ہوتی ہے جب پاکستانی مومنین ہر ریپ کے واقعے کے بعد جگہ جگہ یہ پوچھتے پھرتے ہیں کہ کیا یہ ہوتی ہے ریاستِ مدینہ؟ کیا ایسی ہوتی ہے ریاستِ مدینہ؟ کیا ریاستِ مدینہ میں عورتوں کے ساتھ ایسا ہوتا ہے؟ کس قدر مغالطوں کا شکار ہیں یہ لوگ۔ اگر ریاست مدینہ کو بیچ میں لانا ہے تو تاریخِ اسلام تو یہی بتاتی ہے کہ ریاستِ مدینہ تو ایسی ہی ہوتی تھی۔ ریاستِ مدینہ میں عورت کی بطور باندی / لونڈی جانوروں کی طرح خرید و فروخت ہوتی تھی۔ ایک شخص چار چار بیویاں اور بے شمار لونڈیاں اپنے باڑے میں رکھتا تھا اور اس فعل کو بذریعہ “آسمانی حکم” سند بخشی گئی۔ ریاستِ مدینہ میں جنسی تعلق کے معاملے میں صرف مرد کی مرضی چلتی تھی، عورت کی مرضی کی کوئی اہمیت نہ تھی۔ کوئی بھی مرد جب چاہے اپنی بیوی کے ساتھ اس کی مرضی پوچھے بغیر جنسی تعلق قائم کرسکتا ہے، حدیث میں تو آتا ہے کہ اگر مرد اپنی بیوی کو بستر پر بلائے اور وہ نہ آئے تو رات بھر فرشتے اس پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں۔ اسی طرح لونڈی کے ساتھ بھی جب چاہے اس کا مالک بغیر اسکی مرضی کے جنسی تعلق قائم کرسکتا تھا بہ الفاظ دیگر جب چاہے اس کا ریپ کرسکتا تھا۔ ریاستِ مدینہ میں جنسی فعل کے معاملے میں چونکہ عورت کی مرضی کوئی معنے نہیں رکھتی، اس لئے اسلام نے ریپ کی بھی کوئی سزا نہیں رکھی۔ جب اسلام نے خود مردوں کو عورتوں (لونڈیوں) کے ریپ کی اجازت دے رکھی تھی تو اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اسلام کی نظر میں ریپ کوئی جرم ہی نہیں۔ اس لئے برائے مہربانی یہ مغالطہ دور کرلیں کہ ریاستِ مدینہ عورتوں کیلئے کوئی امن و احترام بخش ریاست تھی۔۔۔ 

Navigation

Do NOT follow this link or you will be banned from the site!