کیا یہ کائنات واقعی ہی انسان کے واسطے بنائی گئی ہے

Home Forums Science and Technology کیا یہ کائنات واقعی ہی انسان کے واسطے بنائی گئی ہے کیا یہ کائنات واقعی ہی انسان کے واسطے بنائی گئی ہے

#9
unsafe
Participant
Offline
Thread Starter
  • Advanced
  • Threads: 53
  • Posts: 922
  • Total Posts: 975
  • Join Date:
    8 Jun, 2020
  • Location: چولوں کی بستی

Re: کیا یہ کائنات واقعی ہی انسان کے واسطے بنائی گئی ہے

ان سیف صاحب ۔ ا نٹرپریٹیشن پر منحصر ہے کہ آپ ان آیات کو کیسے سمجھتے ہیں۔ جی ہاں ایک ہی زمین اور یونیورس کی بات ہو رہی ہے۔ اللہ تعالی جن سے مخاطب ہے چونکہ وہ اس زمین پر رہتے ہیں تو اس کا ذکر ہے اور ساتھ آسمانوں یعنی یونیورس کا۔ زمین اور آسمانوں یعنی دونوں میں موجود حیات کا واضح ذکر ہے۔ رہا سوال آسمانوں یا سات آسمانوں برائے قدیم زمانے میں عام یقین کی تو آپ کو اس سے کچھ آگے بڑھ کر یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس زمانے میں مزید کونسی کونسی تھیوریوں پر یقین کیا جاتا تھا اور کیا ان میں ۹۹ فیصد غلط نہی تھیں؟ اگر اسلام نے قران میں موجود سائنسی اعشارات ان تھیوریوں سے لئے ہوتے تو کیا قران میں بتائے ایسی باتوں کا بھی واضح طور ۹۹ فیصد تک غلط ہونا لازمی نہ ہوتا؟ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایک بھی ایسی غلطی آپ بیان نہی کر سکتے جو واضح اور جس کی تردید نا ممکن ہو۔ دوسری اور تیسری آیت میں سارے مادہ کا پہلے ایک ہی ہونا اور پھر اسے پھاڑ کر الگ الگ کردینے یعنی بگ بینگ کا واضح ذکر ہے اور تیسری آیت میں واضح لکھا ہے کہ یہ ایکسپینڈ ہو رہی ہے۔ یقیناً یہ حقیقتوں کی طرف صرف اشارے ہیں ساینسی ڈیٹیلز نہی ہیں۔

شاہد بھائی … بات یہ ہے کہ اگر کوئی غلطی تسلیم ہی نہ کرنا چاہا رہا ہو اور آنکھیں بند لے تو اس کو کوئی بھی غلطی تسلیم نہیں کروا سکتا …… اصل میں سائنس کی بنیاد راشنلزم یا عقلیت پسندی پر ہے … سائنس ہزاروں سالوں کے راشنلزم کا نتیجہ ہے ، اور راشنلزم ہمیشہ مذھب اور عقائد کے خلاف رہا ہے … آپ نے اکثر دیکھا ہو گا … اکثر مذھبی حضرات سائنسی پوسٹ کے نیچے سبحان الله ، الله و اکبر کے نعرے لگا کر اس کو مذھب کی طرف موڑ لیتے ہیں … قرانی سائنسی علم بھی بس ایسا ہے … جو اس زمانے کی سائنس تھی اس کی تفریف ادب کی زبان اشاروں کنایوں اور ڈھکے چھپے شعرو شاعری کے الفاظ میں کر کے اپنے نظریہ اسلام کو تقویت دی گی ہے … … ورنہ آپ خود دیکھ لیں سرکار دو عالم نے کون سی سائنسی ایجاد کی …. کون سی یونیورسٹی قائم کی … کون سی کوئی بجلی ، کوئی کمپیوٹر ایجاد کیا … …

عقیدہ جذبات پر چلتا ہے جبکہ سائنس سوچ ، مشائدے اور تجبربات کا نام ہے .. آپ نے اکثر دیکھا ہو گا جب کوئی نئی ، ایجاد ، سائنسی تھیوری آتی ہے سب سے زیادہ اس کو مذھبی حضرات سے مزحمت کا سامنا کرتا ہے … کچھ لوگ اس کو قبول نہیں کرتے اور کچھ اس کو قبول کر لیتے ہیں جیسے کہ بلیور غامدی صاحب ہو گے لیکن اپنی کتاب کے مہفوم اس حساب سے بدل لیتے ہیں … جیسا کہ شاعر مشرقین اور مغربین جناب درویش عرب  نے فرمایا

خود بدلتے نہیں، قُرآں کو بدل دیتے ہیں
ہُوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق!
ان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب
کہ سِکھاتی نہیں بلیور کو غلامی کے طریق!

آپ اگر صحابہ اکرام جن کے بارے میں سرکار دو عالم نے کہا کہ مرے بعد جس نے میرے صحابہ کی اطاعت کی وہ گھراحی سے بچ گیا ان کی قرانی تفسیروں اور پھر قرون اولا کے مسلمانوں مولانا جامی وغیرہ کی تفسیریں دیکھیں جو کہتے تھے زمین ساکن ہے ان میں زمین آسمان کا فرق ہے …. یہ سب عقلیت پسندی کا کمال ہے کہ آج جو کچھ بھی دریافت ہو رہا ہے مسلمان اس کو اپنی کتاب اور مذھب کی طرف موڑے جا رہے ہیں …

… ویسے قرآن کے بیانات میں سائنسی اور فکری تضاد ہے لیکن آپ سے رہنمائی چاہوں گا کہ آپ اس تضاد کے براۓ کیا فرمائیں گے …
ایک ہی سورہ میں دو بیان
سورہ یس پارہ 23 آیت71:
اولم یرواناخلقنا لھم مماعملت ایدینا
ترجمہ “کیاانہوں نے نہ دیکھا کہ ہم نے اپنے”ہاتھ”سے ان کے لیے چوپاۓ پیدا کیے”
آگےاسی پارہ اسی سورہ کی آیت82:
انماامرہ اذااردہ شیاء ان یقول لہ کن فیکون

ترجمہ:”اور جب وہ کسی کام کا اردہ کرتا ہے وہ کہتا ہے ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے”.
سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب کن کہنے سے ہوجاتا ہے تو ہاتھ کی کیا ضرورت تھی اوپر والی آیات میں خدا کے ہاتھ کا ذکر ہوا …. جب کہ ایک اور سورہ اخلاص میں خدا نے صاف الفاظ میں کہ دیا ہے کہ اس جیسا کوئی نہیں … پھر بھی یہ ہاتھ کیسا ہے ….اب آپ حضرت کہیں گے اس ہاتھ کا وہ مطلب نہیں جو آپ سمجھ رہے اور تسلیم نہیں کریں گے کہ یہ تضاد ہے .. کیوں کہ آپ کی سوچ کے پیچھے عقیدہ اور تقدس ہے جو کبھی غلط نہیں ہو سکتا

Navigation

Do NOT follow this link or you will be banned from the site!