نالائقی کا تعلق نہ جمہوریت نہ آمریت سے

Home Forums Siasi Discussion نالائقی کا تعلق نہ جمہوریت نہ آمریت سے نالائقی کا تعلق نہ جمہوریت نہ آمریت سے

#17
shahidabassi
Participant
Offline
  • Expert
  • Threads: 32
  • Posts: 7270
  • Total Posts: 7302
  • Join Date:
    5 Apr, 2017

Re: نالائقی کا تعلق نہ جمہوریت نہ آمریت سے

شاہد صاحب۔۔۔۔۔ مَیں آپ سے اِس نکتہ پر اختلاف کروں گا۔۔۔۔۔ جب من موہن سنگھ، نرسہما راؤ کی حکومت میں وزیرِ خزانہ تھا تو اُس وقت انڈیا کو بیرونی سرمایہ کاری کیلئے کھولا گیا تھا ورنہ اِس سے پہلے انڈیا کی معیشت بہت حد تک بند اور سوشلسٹ معاشی پالیسیوں پر مبنی تھی۔۔۔۔۔ اور میرے خیال میں یہ فیصلہ ہی انڈیا کی معاشی ترقی کا نقطہِ آغاز تھا۔۔۔۔۔ اور یہ ویسا ہی نقطہِ آغاز تھا جیسا ڈینگ ژیاؤ پینگ نے انیس سو اٹھتر میں چائنہ کے حوالے سے کیا تھا کہ چائنہ کو بیرونی سرمایہ کاری کیلئے کھولا جائے۔۔۔۔۔ مَیں بین الاقوامی سیاست کے اثرات سے بالکل انکار نہیں کرتا مگر سرمائے کا کوئی مذہب، رشتہ ناطہ نہیں ہوتا سوائے ایک کے۔۔۔۔۔ وہ اِکلوتا رشتہ یہ کہ سرمایہ وہاں جاتا ہے جہاں بڑھوتری کا امکان ہوتا ہے۔۔۔۔۔ اور نوے کی دہائی میں انڈیا کی پچاسی نوے کڑور کی آبادی ایک بہت زیادہ بڑی مارکیٹ تھی سرمایہ کاری کے حوالے سے۔۔۔۔۔ اور پھر اتنی بڑی آبادی میں اگر ایک قابلِ ذکر تعداد میں ہُنرمند ہیں تو یہ اَیج ملک کو کہاں سے کہاں سے پہنچا سکتا ہے۔۔۔۔۔ ویسے معاشی حوالے سے آمریت کے فوائد بہت اچھی طرح سامنے آتے ہیں۔۔۔۔۔ چائنہ کے حوالے سے یہی ہوا ہے۔۔۔۔۔ چینی کمیونسٹ پارٹی بھی ایک کھلی آمریت ہے مگر ڈینگ ژیاؤ پینگ کے وقت اِس آمریت کے پاس ویژن تھا جس کہ وجہ سے چائنہ کی یہ بے مثال معاشی ترقی ممکن ہوئی۔۔۔۔۔ اگر ایک آمر ویژن رکھتا ہو تو اُس کے پاس جمہوری حکمرانوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ کھلا میدان ہوتا ہے جہاں وہ اپنی پالیسیوں پر آرام سے عمل درآمد کراسکے۔۔۔۔۔ ایاز امیر، جنرل مشرف کے حوالے سے یہی نکتہ اٹھاتا ہے کہ تاریخ کے کٹہرے میں مشرف کا جرم مارشل لاء یا ایمرجنسی پلس لگانا نہیں ہوگا بلکہ یہ ہوگا کہ جنرل مشرف بذاتِ خود ایک آزاد خیال شخص کے ہوتے ہوئے اور اپنے تمام تر اختیار کے باوجود پاکستانی معاشرے کو بہتری کی جانب نہ دھکیل سکے۔۔۔۔۔ بلاوجہ کے مذہبی قوانین کی وجہ سے جو گھٹن معاشرے میں پیدا ہوچکی ہے اُس کو ختم نہیں کرسکے۔۔۔۔۔ اور یہ کرنے کیلئے جو بہترین وقت ہوتا ہے وہ کسی بھی مارشل لاء یا حکومت کے ابتدائی سال ہوتے ہیں۔۔۔۔۔ اُس کے بعد تو سمجھوتے ہی رہ جاتے ہیں۔۔۔۔۔ مگر خیال رہے کہ یہاں ایک متضاد نکتہ بھی ہے۔۔۔۔۔ ڈنڈے کے زور پر جو تبدیلی لائی جاتی ہے وہ شاید اتنی دَیرپا بھی نہیں ہوتی۔۔۔۔۔ اور لوگ ڈنڈا ہٹنے کے بعد واپس پیچھے کی طرف باؤنس بَیک بھی کرجاتے ہیں۔۔۔۔۔

آُپ انڈیا کے حوالے سے صحیح کہہ رہے ہیں لیکن اس صورت کہ آپ راجیو کو اس سے نکال دیں۔ میرا قرار صاحب کو لکھا کمنٹ انہی کے معیار کو مدِنظر رکھ کر لکھا گیا تھا۔ کیونکہ انہیں موجودہ حکومت کا وہی کچھ کیا غلط لگتا ہے جو نرسیمہا راؤ اور من موہن نے مل کر ۱۹۹۱ سے ۱۹۹۶ تک کیا۔ جون ۱۹۹۱ میں نرسیمہا راؤ کو حکومت ملی تو انڈیا دیوالیہ ہونے کے قریب تھا۔ ان کے ریزروز ایک بلین ڈالر تھے اور فوری ادائیگیاں اس سے چار گنا زیادہ تھیں۔ کرنٹ اکاؤنٹ دس ارب ڈالر سے زیادہ تھا۔ امپورٹس آسمان سے باتیں کر رہی تھیں اور ایکسپورٹس کم ہورہی تھیں۔ من موہن نے کیا کیا؟ بلکل وہی کچھ جو آج ہم کر رہے ہیں۔ روپئے کو فری چھوڑا، امپورٹس دبا دیں اور ریزروز بنانے شروع کئے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر سٹرکچرل ریفارمز کیں اور بہتری کا سفر شروع کیا۔ اب جب کہ یہ سب کچھ قرار صاحب کو برا لگتا ہے تو میری کیا مجال کہ من موہن کو کوئی کریڈٹ دے دوں۔ یہاں بھی قرار صاحب کا ہیرو راجیو ہونا چاہیئے کیونکہ اس نے بھی معیشت کے ساتھ وہی کیا تھا جو ہاتھ ن لیگ ہمارے ساتھ کر گئی۔
رہی بات مشرف کی آمرانہ حکومت کی تو اس نے معاشی محاظ پر بہت سے اچھے کام کئے تھے۔ گروتھ چھ سے سات فیصد تھی اور قرض چھ ہزار ارب تک رکھا (جو کہ آج پینتالیس ہزار ارب ہے)۔ بحرحال اصل بات یہی ہے کہ ہمیں افغان پالیسی تیس سال کا اچھا خاصہ ٹیکا لگا گئی ہے۔ سارے مسائل کی جڑ یہی ہے اور اس سے ہمارے سماج کا چہرہ مسخ ہو کر رہ گیا ہے۔

Qarar

  • This reply was modified 1 week, 3 days ago by shahidabassi.

Navigation

Do NOT follow this link or you will be banned from the site!