نالائقی کا تعلق نہ جمہوریت نہ آمریت سے

Home Forums Siasi Discussion نالائقی کا تعلق نہ جمہوریت نہ آمریت سے نالائقی کا تعلق نہ جمہوریت نہ آمریت سے

#12
نادان
Participant
Offline
  • Expert
  • Threads: 107
  • Posts: 15051
  • Total Posts: 15158
  • Join Date:
    31 Aug, 2016

Re: نالائقی کا تعلق نہ جمہوریت نہ آمریت سے

ایاز امیر کا کالم حسب معمول غلط توجیہات اور اخذ کردہ ناقص نتائج سے بھرپور ہے …صرف ایک بات پر میرا اتفاق ہے کہ پاکستانی قوم بہت نالائق ہے میں چند چیدہ چیدہ نکات زیر بحث لانے کی کوشش کرتا ہوں موصوف نے یہ لکھا ہے کہ پاکستان کا ہر شعبہ ابتری کا سوائے فوج کے جس نے اپنے آپ کو سنبھال کر رکھا ہوا ہے …اب سوال یہ بنتا ہے کہ صاف ستھری وردی پہن کر …درجنوں میڈل سجا کر ..بینڈ باجوں والی پریڈ کروانا ہی ڈسپلن کا اور بہتری کا نام ہے تو فوج اس میں سب سے آگے ہے اور بہترین ادارہ ہے …ورنہ اصل حقیقت تو یہ ہے کہ قوم اپنا پیٹ کاٹ کر اس ادارے کو ملک کا دفاع کرنے کا پابند کرتی ہے مگر یہ بے غیرت ہر دوسرا کام کرتے ہوں سوائے اپنے اس اصل کام کے جس کے لیے اس ادارے کو بنایا گیا تھا …بے تحاشا رقوم خرچ کرنے کے باوجود فوج نے کسی ایک بھی مرحلے پر قوم کو سرخرو نہیں کیا …پے در پے شکستوں کی ذلتیں ہی دیکھی ہیں …میرے خیال میں سب سے زیادہ ابتری کا شکار اور شتر بے مہار محکمہ صرف فوج کا ہی ہے …یہاں ایاز امیر نے صرف اپنے سابقہ فوجی ہونے کا حق ادا کرنے کی ناکام کوشش کی ہے پھر ایاز امیر نے ہمیشہ کی طرح جمہوریت کی خرابیوں کا رنڈی رونا رویا ہے …یعنی جمہوریت کو آئے تو صرف سو سال ھوئے ہیں ..ورنہ ماضی کی دنیا تو صرف ڈکٹیٹروں کے سہارے چلتی رہی ہے …اس ڈفر کو اتنی معمولی سے بات سمجھ میں نہیں آتی کہ دنیا چلتی تو رہی تھی مگر کیا بڑے اعلیٰ طریقے سے چل رہی تھی؟ ان ماضی کی تمام سپر پاورز اور بادشاہتوں کے اندر عوام کس حال میں تھے؟ کیا ان کو بنیادی حقوق میسر تھے ؟ کیا اظہار راۓ کی آزادی تھی ..کیا مذہبی آزادی تھی؟ کیا مرد اور عورتوں کے حقوق کے درمیان خلیج زیادہ گہری نہیں تھی؟ میرا ایاز امیر سمیت پاکستانیوں سے ایک سوال ہے کہ اگر ایک سو عام پاکستانیوں کو یہ موقع دیا جاۓ کہ وہ برطانیہ اور چین کے درمیان ایک ملک کا انتخاب کریں جس میں وہ سیٹل ہونا چاہیں تو یہ پاکستانی کس ملک کا انتخاب کریں گے؟ لازمی برطانیہ کا ..مگر کیوں؟ حالانکہ چین تو دنیا کی دوسری بڑی معاشی طاقت ہے ..برطانیہ سے تو وہ بہت آگے ہے ..پھر چین کیوں نہیں؟ اگر روس اور سویڈن میں سے ایک ملک کے انتخاب کا موقع دیا جاۓ تو اکثریت پھر سویڈن کو چنے گی ..اس کیا کیا وجہ ہے؟ حالانکہ بقول ایاز امیر روس کے مرد آہن پوٹن نے تو روس کو امریکا کے ہم پلہ دنیا کی بڑی طاقت بنا رکھا ہے…پھر روس یا چین رہائش کے لیے …نوکری کے لیے …یا زندگی گزارنے کے لیے اولین ترجیح کیوں نہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان آمریتوں نے ملکی سطح پر معاشی ترقی تو ضرور لائی ہے مگر عوام پابندیوں میں جکڑے ھوئے ہیں …ہر پاکستانی کی خواہش ہوگی کہ وہ وہاں جاۓ جہاں اس کو آزادیاں ہوں …اقلیت کی حق تلفی نہ ہو ..مذہبی آزادیاں ہوں وغیرہ وغیرہ ..اور یہ بنیادی حقوق صرف ان ممالک میں ملتے ہیں جہاں جمہوریت ہے ..اسی وجہ سے پاکستانیوں کی ترجیح یورپ امریکا اور کینیڈا وغیرہ ہیں ..روس اور چین نہیں پتا نہیں جمہوریت کو ہمیشہ معاشی خوشحالی سے کیوں جوڑا جاتا ہے …اور ایاز امیر جیسے کالم نویسوں سمیت عوام کو بھی جمہوریت کی بنیادی ابجد سے واقفیت نہیں ہے …جمہوریت کا ایک بلواسطہ فائدہ ضرور ہوسکتا ہے کہ چونکہ ہر جماعت نے پانچ سال بعد الیکشن میں جانا ہوتا ہے اس لیے ڈیلیور کرنا اس جماعت کی ضرورت ہوتی ہے …لیکن جمہوریت میں لازمی نہیں کوئی ڈیلیور کرے ..اگر کوئی لیڈر عوام کو بیوقوف بناکر ..اور صرف نعروں کی بنا پر جیت جاۓ تو شاید ڈیلیور نہ کرسکے مگر جمہوریت تو قصوروار نہیں …الزام تو عوام اپنے آپ کو دیں کہ کیوں ماموں بن گئے اور دھوکہ کھا گئے …جمہوریت میں اپنی اصلاح کا موقع ہوتا ہے ..ایک غلط فیصلہ کرلیا تو پانچ سال بعد الیکشن میں کسی اور کو موقع دیا جاسکتا ہے پھر ایاز امیر جیسے لوگوں کا گھسا پٹا فقرہ کہ جمہوریت تو صرف صنعتی انقلاب کی بائی پروڈکٹ ہے …او بھائی اب پاکستان میں تو صنعتی انقلاب پتا نہیں کتنی صدیوں بعد آئے گا تو اس وقت تک کیا امب چوپے جائیں؟ آمریت سے کام چلایا جاۓ؟ پھر یہ لوگ آئیں بائیں شائیں کرتے ہیں کہ نہیں ہم یہ تو نہیں کہتے کہ پاکستان میں جمہوریت نہیں ہونی چاہیے…سوال یہ ہے کہ جمہوریت کو قبول کرتے وقت …اگر مگر چونکہ چنانچہ البتہ وغیرہ کیوں کرتے ہو؟ موصوف ایک اور جگہ فرماتے ہیں کہ یونین بازی نے پی آئی اے کا بیڑا غرق کردیا حالانکہ ورکرز کے حقوق کے لیے یونینز ایک بہت اہم کردار ادا کرتی ہیں ورنہ بزنس مالکان زیادہ سے زیادہ منافع کی حرص میں ورکرز کو کچھ بھی نہ دیں …پی آئی اے کے زوال کی ایک بڑی وجہ اس کی نجکاری نہ ہونا ہے یونین بازی نہیں جہاں تک پنجابیوں کی بات کہ انہوں نے کبھی حکمرانی کی ہی نہیں لہٰذا انہیں کچھ پتا ہی نہیں ….اس پر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ بھارت کو ہی دیکھ لیں ..ساری عمر باہر سے لوگ آکر حکمرانی کرتے رہے مگر اب وہ لوگ معاشی میدان اور فوجی میدان میں اپنے جھنڈے گاڑ رہے ہیں ..آخر انہیں حکمرانی کے آداب کیسے آگئے؟ دوسروں کے گھر کے سامنے لگی گھاس ہمیشہ زیادہ ہری نظر آتی ہے پاکستانیوں کی نالائقی کی ایک نہیں کئی وجوہات ہیں …دنیا مذہب سے دور جارہی ہے مگر یہ مذہب سے چمٹتے جارہے ہیں …کون سا غیر ملکی ہے جو پاکستان آکر اغوا برائے تاوان کا خطرہ مول لے گا …ہم افغانستان میں اپنی پراکسی حکومت بنانے کے خواب نہیں چھوڑتے جس نے دہشت گردی کی ایسی فضا بنا دی ہے جو کسی بھی بیرونی انویسٹمنٹ کے لیے سازگار نہیں …بھارت سے صلح کرکے ہم اپنے لیے معاشی خوشحالی کا راستہ کھول سکتے ہیں جہاں ہمیں ایک بڑی فوج پالنے کی ضرورت نہیں ..مگر ایسا نہیں کرنا چاہتے ….فوج کے ہاتھوں متعدد بار ڈسے جانے کے باوجود گھوم پھر کر اسی طرف دیکھتے ہیں کہ شاید کوئی مسیحا آجاۓ اور ملک کے سارے دلدر دور کردے …بنیادی ضرورت اپنی ترجیحات کو درست کرنے کی ہے جمہوریت ملک میں قومی اتفاق راۓ پیدا کرتی ہے …معاشرے میں ہم آہنگی اور یگانگت کی فضا پیدا کرتی ہے …برداشت پیدا کرتی ہے ..عوام کو ان کے بنیادی حقوق دیتی ہے جیسے صوبوں میں اختیارات اور مالی معاملات کس خوش اسلوبی سے آئین میں ترامیم کرکے حل کرلیے گئے …گیلانی حکومت میں بلوچوں کو ان کے کچھ حقوق دینے کی کوشش ہوئی اور ان کے تحفظات کا کچھ نہ کچھ ازالہ ہوا ..مگر اب یہ حالت ہے کہ اس موجودہ ملٹری جمہوریت ملک اغوانستان بن چکا ہے بلوچستان ہو یا اسلام آباد …شہریوں کو سر عام اٹھا لیا جاتا ہے ایاز امیر جیسے لوگ دل سے آمریت چاہتے ہیں جہاں ایک فوجی آمر سب کو “سیدھا” کردے …یہ لوگ اشاروں کنایوں میں اس کی آرزو بھی کرتے ہیں ..لیکن جوتے پڑنے کے ڈر سے صاف صاف کہ نہیں سکتے یاد رکھیں کہ دیر پا تبدیلی صرف وقت سے آتی ہے اور ان جیسے نام نہاد دانشوروں کو شارٹ کٹ نہیں ڈھونڈنا چاہئے

کچھ سمجھ نہیں آئی ..ایک طرف تو آپ کہہ رہے ہیں کہ انڈیا نے معاشی اور فوجی میدان میں جھنڈے گاڑ  دیئے اور پاکستانی  اپنے مذھب سے چمٹے رہنے کی وجہ سے بد ترین نالائق قوم ہے ..

شاید آپ نے آجکل انڈیا کے حالات پر توجہ دینی چھوڑ دی ہے ..جہاں ہندو مذہبی جنونی اپنے سوا سب سے جینے کا حق چھین  لینا چاہتے ہیں ..اصل پرابلم آپ کو مذھب سے نہیں اسلام سے ہے

باقی آپ کی باتوں سے متفق ہوں

Navigation

Do NOT follow this link or you will be banned from the site!